29

کہتی تھی جسے دنیا، رحمت علی رازی … شعورمیڈیا نیٹ ورک

رپورٹ: انعام الحق راشد
تصاویر: وسیم اقبال
ترتیب و تدوین: عبدالخالق قریشی

ادراک فورم بہاولپور اور بہاولپورپریس کلب کے اشتراک سے رحمت علی رازی مرحوم کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک تعزیتی ریفرنس کے حوالہ سے ایک تقریب پریس کلب بہاولپورمیں منعقد کی گئی۔ تقریب کی صدارت معروف پارلیمنٹرین، شاعر ، صحافی و دانشور سید تابش الوری نے کی۔ تقریب کا آغاز رب کریم کے بابرکت نام سے کیاگیا، تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری عابد حسین نے حاصل کی۔نظامت کے فرائض ادراک فورم بہاولپور کے جنرل سیکرٹری انعام الحق راشد (راقم) نے سرانجام دیئے۔

راقم نے اپنے ابتدائیہ میں کہا کہ رحمت علی رازی، سینئر صحافی، کالم نگار، جوائنٹ سیکریٹری آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی، ممبر ایگزیکٹو کمیٹی(اے پی این ایس)، ممبرسٹینڈنگ کمیٹی (سی پی این ایس) چیئرمین عزم میڈیا گروپ ہی نہیں آسمان صحافت کا سورج تھے، جو آسمان صحافت سے بڑی آب و تاب سے چمک رہے تھے۔ ان کی وفات سے نڈر و بیباک، تحقیقاتی صحافت و منفرد کالم نگاری کا ایک باب بند ہوگیا۔ تحقیقاتی صحافت اور کالم نگاری میں رحمت علی رازی اپنی علیحدہ پہچان، مقام، تشخص و انفرادیت رکھتے تھے۔

انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا محنت، لگن اور ارادہ کی پختگی سے منوایا۔ میدان صحافت میں اترے تو پھر خدمت و ترقی کی منازل طے کرنے میں کسی سپیڈ بریکر کو خاطرمیں نہ لائے۔ تحقیقاتی رپورٹنگ میں سات اے پی این ایس ایوارڈ حاصل کرنے والے واحد صحافی تھے۔

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی، 1989 میں ضرب مومن کی نمایاں رپورٹنگ پر اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے تعریفی سند دی گئی اور صحافتی کارکرگی کا اعتراف کیا گیا۔ رحمت علی رازی کلمہ حق کہنے، حالات پرگہری نظر، حالات کا ادراک رکھنے والے صحافی اور درون پردہ کے نام سے کالم نگاری کرتے تھے۔ان کی ادارت میں روزنامہ طاقت، روزنامہ بزنس ورلڈ، ہفت روزہ اکنامک ورلڈشائع ہوتے تھے۔ بے داغ کردار، مثبت ذہنی اپروچ، قائدانہ صلاحیت اور انسان دوست ہونے کی وجہ سے صحافتی، سماجی و عوامی حلقوں میں منفرد مقام رکھتے تھے۔

رحمت علی رازی کے دنیا سے پردہ کرنے سے تحقیقاتی صحافت میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے، جسے پرکرنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ راقم نے مزید کہا کہ انسان جب دوسروں کے لئے جینے لگتا ہے تو اس کا دائرہ عمل وسیع سے وسیع ترہوتا چلاجاتاہے۔اس کے نظریات آفاقی ہوجاتے ہیں۔وہ زبان،علاقہ،برادری ویگرتقسیم سے بالاعوام کی خدمت کی معراج پا لیتا ہے۔اورجب ایسا ہوجاتاہے تو رحمت علی رازی بن جاتاہے۔آج ہم پریس کلب بہاولہور کی چھت تلے ان کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں۔

شہیدصحافت، تھے وہ کردار کے غازی
راضی تھی یہ خلقت تو اللہ بھی تھا راضی
دنیائے صحافت کا وہ، روشن تھا ستارہ
کہتی تھی جسے دنیا، رحمت علی رازی

پریس کلب بہاولپور کے جنرل سیکرٹری و سینئر صحافی میاں عزیز الدین نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ رحمت علی رازی کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا درحقیقت صحافتی سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ جنرل سیکریٹری پریس کلب (صدر) منیراحمد چوہدری نے کہا کہ رحمت علی رازی نے تنگدستی میں بھی کبھی اپنی انا کو قربان کیا نہ حق گوئی میں کسی پریشر کو خاطر میں لائے۔ رحمت علی رازی کے بھائی محمد صادق طارق نے کہا کہ میرے پاس الفاظ نہیں کہ بھائی رحمت علی رازی کے انسان دوست رویہ کو بیان کرسکوں۔

رحمت علی رازی کی وفات خاندان کا ہی نہیں مثبت صحافتی حلقوں اور انسانیت کا بھی نقصان ہے۔ سابق چیئرمین چوہدری عبدالحمید نے کہا کہ رحمت علی رازی نے اپنی زندگی دوسروں کے مسائل حل اور سہولیات کی فراہمی کے لئے وقف کردی تھی۔ وہ کسی بھی شخص کے کسی بھی مسئلہ کے حل کے لئے کوئی بھی اقدام اٹھانے سے گریز نہ کرتے تھے۔ ادراک فورم کے صدر، سینئر صحافی و کالم نگار انور گریوال نے کہا کہ ادراک فورم بہاولپور علاقہ کی تعمیر و ترقی اور کسی بھی شعبہ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لئے اپنے حصہ کا چراغ جلارہا ہے۔ اور رحمت علی رازی جیسی شخصیت کا انسان اور انسانیت کی خدمت کا مشن، صحافتی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا اور بہاولپور کا باسی ہوکر صوبائی دارالحکومت میں اپنا نام و مقام بنانا نوجوان صحافیوں کے لئے مشعل راہ کی سی حیثیت رکھتا ہے۔

ان کی صحافتی خدمات کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ ا دراک فورم کے چیئرمین و کالم نگار عبدالخالق قریشی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ادراک فورم دھرتی بہاولپورکے نمایاں کارکردگی دکھانے والے ہیروں کو تلاشتا، تراشتا اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتا ہے۔ رحمت علی رازی ایک ایسا ہیرا تھا کہ جسے تلاشنے کی ضرورت تھی نہ تراشنے کی، وہ اپنی مثال آپ تھے۔ بلاشک صحافت کے جوہری اس ہیرے کی اہمیت سے آگاہ تھے، لیکن ان کی صحافتی خدمات کے مطابق ان کا سراہا جانا ایک قرض تھا جس کو ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کہ ان کا صحافتی خدمات کو سراہاجانا ہمارے لئے، صحافتی حلقوں اور دھرتی بہاولپورکے لئے ایک از خود ایک اعزاز کے مترادف ہے۔

پریس کلب بہاولپورکے صدر، سینئرصحافی و کالم نگار نصیر احمد ناصر نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ رحمت علی رازی کی صحافتی خدمات قابل ستائش ہیں، وہ صحافت کی دنیا میں قدم رکھنے والوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان سے میرا رابطہ رہتا تھا۔ صحافت کے اسرار و رموز سے واقف ہی نہیں غیر محسوس طریقہ سے صحافتی تربیت بھی کرتے تھے۔دنیا کے ہر موضوع پر گفتگو، مسائل کے حل کی نشاندہی ہی نہیں اس کا حل بھی بتاتے تھے۔ وہ ایک استاد، ایک رہنما، جید صحافی،محب وطن، بے وسیلوں کا وسیلہ، ہمدرد اور بے یار و مددگاروں کے مددگار بن کر خوشی محسوس کرتے تھے۔کسی انسان میں اتنی خصوصیات کا اکٹھا ہونا ہی اسے رحمت علی رازی بنا دیتا ہے۔

صدرِ تقریب سید تابش الوری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ رحمت علی رازی نے ایک ایسے گھرانہ میں آنکھیں کھولیں جہاں صحافت کے راستے کا کوئی مسافر نہ تھا۔ رحمت علی رازی نے اپنی منزل خود تلاشی، خود تراشی اور صحافت کا میدان کا وہ کھلاڑی بن گیا جسے رب کریم نے وہ صلاحیتیں دے دیں کہ وہ ہر میچ کا مین آ ف دی میچ بن گیا۔ تحقیقاتی رپورٹنگ میں سات مرتبہ اے پی این ایس ایوارڈ حاصل کرنے کا اعزاز ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ رحمت علی رازی صحافت کی نگری میں منزل تک پہنچنے کا نشان تھے۔آخر میں رحمت علی رازی مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں