22

’’یہ ڈیفنس ہے‘‘ … شعورمیڈیا نیٹ ورک

صابر بخاری

bukhariaims@gmail.comfemale

جنوبی پنجاب کے علاقہ راجن پور سے ایک شخص اپنے بیٹے کو لاہور بھیجتا تو اس کیلئے سب سے مہنگی پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظام کرتا۔اگر مہنگی گاڑی کا انتظام نہ ہوپاتا تو وہ اپنے بچے کو بھیجتا ہی نہ اور مہنگی گاڑی کا انتظار کرتا رہتا ۔لوگوں نے وجہ پوچھی تو موصوف نے ایسی وجہ بتائی کہ سادہ لوح افراد کے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۔ فرمانے لگے کہ’’ مہنگی کرایہ والی گاڑی میں عام لوگ سفر کر نہیں کر سکتے اور صرف دولت مند افراد ہی ایسی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں ، اس لیے میرا بیٹا بھی جب ایسی گاڑی میں سفر کرے گاتو امیر لوگوں کی کمپنی اسکومیسر ہوگی ۔وہ امیر اور بڑے لوگوں کے چال چلن سیکھے گا ،ان سے تعلقات بنائے گا تو اس کو بے پناہ فوائد حاصل ہونگے ‘‘۔

ہو سکتا ہے ان صاحب کی سوچ کسی حد تک درست ہو مگریہ بھی حقیقت ہے کہ اس امر کی بدولت ہمارا معاشرہ کھوکھلا ہو چکا ہے ۔بڑے لوگوں سے تعلق, یاری و دوستی،بے جا نمود نمائش ،عیاری اور مکاری نے ہمارے معاشرے کو دیوالیہ کردیا ہے ۔ہر بندہ ہی پیسے اور اثر و رسوخ والوں کے پیچھے بھاگتا نظر آتا ہے ،چاہے اس کیلئے اسے اپنی خودی ہی داؤ پر کیوں نہ لگانی پڑی ۔پنجاب یونیورسٹی میں دوران تعلیم اکثر طالبعلم اپنے آپکو لینڈ لارڈ ظاہر کرتے ۔مجھے ایسا لگتا جیسے میں ہی یونیورسٹی میں سب سے زیادہ غریب طالبعلم ہوں ۔طلبہ دنیا جہان کی آسائشوں اور دور دور تک پھیلے کھیت ،باغات کے قصے سناتے تو حیران رہ جاتا ۔ایک دن ایک ساتھی کیساتھ اسکا تذکرہ ہوا تو اس نے بالآخر سچ اگل دیا ۔کہنے لگا ہمارے والدین نے ہمیں نصیحت کی ہے کہ یونیورسٹی میں اپنے آپکو امیر کبیر ظاہر کرنا ہے ۔بصورت دیگر آپ کیساتھ کوئی دوستی نہیں کرے گا ،امیر طالبعلم تو آپ کے پاس سے بھی نہیں پھٹکیں گے ۔بہر حال زندگی کی جتنی بہاریں دیکھیں ہر جگہ نمود و نمائش اور دولت کو ہی سلام کرتے ہوئے دیکھا ۔کسی حقیقی علم اور با اخلاق شخص کی قدرو منزلت کم ہی دیکھی ۔

ہمارے طرز رہن سہن کا طریقہ بھی ایسا ہی ہے ۔دوسری سٹیٹس سمبل کی طرح اچھے رہائشی علاقوں میں رہائش بھی ایک سٹیٹس سمبل بن چکا ہے ۔اکثر پیسہ والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ڈیفنس اور اس طرح کی دوسری مہنگی سکیموں میں اپنا مسکن بنائیں ۔پہلے گھر بناتے وقت اچھے ،نیک ،متقی لوگوں اور مساجد کی ہمسائیگی اور محلوں کی تلاش کی جاتی تھی ۔مگر اب مہنگے علاقے ہی سب کچھ تصور کیے جاتے ہیں ۔ذرا ان مہنگے علاقوں کا حال جانیں ۔

ایک جاننے والے کو مساج سنٹر کی تلاش تھی ۔اسکے دوست نے ڈیفنس کے کچھ مساج سنٹرز کا بتایا ۔دوست ایک مساج سنٹرگیا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مساج سنٹر کی آڑ میں کیا کچھ نہیں ہو رہا تھا ۔اس نے مزید سنٹرز کی تلاش شروع کر دی،اور ہر سنٹرکی رپورٹ مجھے بھیجتا رہا۔اکثر ویڈیو کال کے ذریعے بھی ڈیفنس میں جاری دھندوں سے باخبر کرتا رہا۔جودھندہ پہلے بازار حسن ،شاہی محلہ میں چوری چھپے ہوتا تھااب وہ یہاں ڈیفنس میں سر عام ہورہا ہے ۔ہر گلی محلہ میں مساج سنٹرز سے لیکر تمام گھناؤنے دھندے اس دولت سے مالا مال علاقے میں ڈھٹائی سے ہو رہے ہیں ۔شاہی محلہ میں مک مکا کرنے والے اب ڈیفنس کی ہر گلی میں موجود نظر آتے ہیں ۔عیش و عشرت کے یہ اڈے شہر کی اکثر اشرافیہ کارات کا ٹھکانہ ہوتے ہیں اس لیے ان کیخلاف کارروائی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔گزشتہ دنوں ڈیفنس کی ایک خاتون کی بال کٹنے کی واردات سامنے آئی اور اسکے بعد کی ساری کہانی لرزہ دیتی ہے کہ اشرافیہ کے ان ٹھکانوں پر کیا کچھ ہو رہاہے۔

ایک بارایک جاننے والے کرائم رپورٹر نے ڈیفنس کے ایک قحبہ خانہ پر چھاپہ مارا تو اسکی جو درگت بنائی گئی کہ الاماں ۔کرائم رپورٹر کی ہڈی پسلی ایک کر دی گئی اور الٹا کارروائی بھی رپورٹر کیخلاف ہوئی چونکہ پولیس اور بیوروکریسی کی اشرافیہ کا ماتھا اکثر اس جگہ ٹکتا تھا ۔پہلے محلہ ،کالونی والے اپنے علاقے میں کوئی غلط کام ہوتا دیکھتے تو اس کو روکنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لاتے مگر ڈیفنس میں اچھے لوگوں نے بھی چپ سادھ رکھی ہے یا ان کے بس میں کچھ نہیں رہا ۔سیاست ،بیوروکریسی سے لیکر ملک کی طاقتور شخصیات یہاں رہتے ہیں۔ اس لیے یہاں ملکی قوانین نہیں بلکہ ان طاقتور لوگوں کا اپنا قانون چلتا ہے ۔یہاں کی راتیں رنگین اور کروڑوں اربوں روپے روزانہ کی بنیاد پر عیاشیوں پر لٹائے جاتے ہیں ۔سمگلرزسے لیکر ہر طرح کا مافیا یہاں ٹھکانے بنائے بیٹھا ہے اور ملکی قوانین کا نہ صرف منہ چڑا رہا ہے بلکہ ملک کی اکثریتی غریب آبادی میں بھی احساس کمتری اور قوم کو غلط دھندوں پر لگا رہا ہے ۔یہ صرف ڈیفنس ہی نہیں بلکہ اکثر پوش علاقے ان دھندوں سے لت پت ہیں ۔

میری اہل پاکستان سے گزارش ہے کہ رہائش کیلئے سٹیٹس سمبل سے نکلیں ،اپنی زندگی میں عاجزی انکساری لائیں ،اسی میں ہی دین و دنیا کی بھلائی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں