98

نیب ،عیب ،غیب … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: ڈاکٹرمحمد شہزاد
اسسٹنٹ پروفیسر
ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اسٹڈیز
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

ہمیں نا جانے کیوں ،کب اور کیسے۔۔ کرکٹ ، سیاست اور چاولوں پر فقط گفتگو سے شدید الرجی ہو چکی ہے اسکی ممکنہ وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہمارے نزدیک ان تینوں شعبوں کا تعلق عملی مشق سے ” مشتق ” ہے چنانچہ ایسے موضوعات صرف اور صرف ۔زیب داستان کیلئے نہیں ہوا کرتے ۔سیاسی امور کی ابجد سے ناوقف بھی بلکہ ناوقف حال ہی اس پر جس مفکرانہ ڈھٹائی سے اپنی علمیت بھگار رہے ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے بڑے بڑے ۔”اینکرز” بھی انگشت بدنداں ہوجاتے ہونگے.

کچھ اسی طرح کی حالت زار کرکٹ کی دنیا میں دیکھنے کو آئی ہے یعنی وہ لوگ بھی جو کرکٹ تو درکنار کھیل یا کھیل کے کسی میدان میں جانے کو ہی “انتہائی شرمناک اور قطعا غیر شرعی عمل ” گردانتے ہیں صرف اور صرف فیشن اور تقلیدی انداز فکر کے زیر اثر بیچارے کرکٹ اور کرکٹر پر اسقدر نا معقول تبصرے فرما رہے ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ ۔۔۔اور ان کے اس تبصرہ سے معلوم ہوتاہے کہ وہ کھیل پہ تبصرہ نہیں بلکہ۔اس پر تشدد کے مرتکب ہونے کا اولیں فریضہ انجام دےرہے ہیں ان نام نہاد ماہرین کی ” کوچوانا ” آراء پہ کئی مضامیںن باندھے جا سکتے ہیں تاہم ہم ان دانشوروں کو کھونٹہ سے باندھنے کو زیادہ موزوں سمجھتے ہیں ۔

رہی چاولوں کی بات اس نکتہ پہ بھی کبھی ابنا کڑا موقف پیش کرنے کی جسارت کریں گے ۔انشاء اللہ

اس تمہید کا اصل یہ بتانا مقصود تھا کہ ہم ان موضوعات کو ۔درخور اعتنا ہی نہیں لاتے

تاہم نیب کی پکڑ دھکڑ کے عمل میں جب بے ” عیب ” خبروں کے ابتدائیہ میں یہ بات سماعتوں سے ٹکراتی ہے کہ فلاں ایک بڑے سابقہ اقدار پہ متمکن عہدیدار کو حراست میں لے لیا ہے اور میڈیکل بورڈ نے انہیں کلین چٹ تھما دی ہے کہ یہ جسمانی طور پر جیل میں رہنے کے لیئے فٹ قرار پا چکےہیں یہ پہلی میڈیکل فٹنس رپورٹ ہوگی کہ جسے دیکھنے کے بعد انسان بجائے خوشی کے جھومنے کے اپنی جسمانی صحت پہ غم سے نڈھال یا کڑھتاہوگا ایک سوال ذہن میں انگڑائی لیتا ہے کہ۔آیا ؟ نیب کی حراست کے لئے فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والی طبی ماہرین کی ٹیم کس قدر چاک چوبند ہوگی.

کیا اس ضمن میں ملزم کی ذہنی استعداد کار اور نفسیاتی بالیدگی کو ماپنے کا بھی کوئی معیار پیمانہ کے طور پر وضع کیا گیا ہوگا
کیا ۔۔دل کی بے ربط دھڑکنوں ،” خلفشار خون” اور ٹھنڈی آہوں یا نرم گرم سانسوں سے ہی معیار صحت کے پرفارمے کو پر کر لیا جاتا ہوگا
کیا میڈیکل بورذ میں شامل ڈاکٹرز کے کتنے ہاں اور کتنے ناں میں رائے قائم کرنے کو بنیاد بنایا جاتا ہوگا.

کیا ایک سیاسی پارٹی سے وابستہ بے چارگوں کا معائنہ کرنے والی ٹیم دوسرے ملزمان کا طبی معائنہ کے قابل رھ بھی جاتی ہوگی کہ نہیں ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں