37

پارس مزاری ،واقعی پارس ہیں … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: نذیر خالد
سابق ڈائریکٹر انفارمیشن وریذیڈنٹ ڈائریکٹر
بہاولپور آرٹس کونسل، بہاولپور

ویسے تو نرخ کم ہی تھے گندم کے اس برس                    آئی تھی تیرے گاؤں سے مہنگی خرید لی

پارس کی خوبی یہ ہے کہ جس دھات کو چھو جائے اسے سونا بنا دیتا ہے اورہمارے دوست پارس مزاری کا مختصر ترین تعارف بھی یہی ہے کہ وہ جن الفاظ کو چھو لیں وہ شعر بن جاتے ہیں اور شعر بھی کمال کے۔ مزید تعارف اس طرح ہے کہ ان کے آبا کا تعلق تحصیل روجھان ضلع راجن پور کے ساتھ تھا جہاں سے ہجرت کر کے جلالپور ،ضلع ملتان میں رہائش پذیر ہوئے لیکن پارس کے والد صاحب محکمہ تعلیم میں تھے جن کی تعیناتی بہاولپور میں رہی،یہیں سے ریٹائر ہوئے اور یوں پارس مزاری کی پیدائش،تعلیم،شادی اور مستقل رہائش بہاولپور کی ہی ہے۔ یہیں سے انہوں نے کامرس کالج سے ڈی کام کیا اور اس کے بعد سے اپنے نجی کاروبار میں مصروف ہیں۔

شاعری کی جانب اپنے رحجان بارے انہوں نے بتایا کہ ان کے دو چچا جان ہیں جن کا ادبی ذوق تھا انہی کی وجہ سے شعر و ادب کے ساتھ دلچسپی پیدا ہوئی گو کہ دونوں چچا صاحبان میں سے شاعر کوئی بھی نہیں تھے لیکن ان کی وساطت سے ادب کے ساتھ دلچسپی پیدا ہوئی اور وہاں سے شاعری کے ساتھ۔ ابتدا میں وفور شوق کے تحت اپنی جانب سے جو شعر موزوں کرتا تھا وہ در اصل تک بندی تھی لیکن بعد ازاں عروض اور بحور کے بارے میں تربیت ملی تو اشعار کہنے لگا ہوں۔

شاعری میں ان کے اساتذہ دو ہیں ایک تو کراچی کے محمد اسامہ سرسری صاحب جن سے سوشل میڈیا پر رابطہ ہوا ، سرسری صاحب نے سوشل میڈیا پر ایک گروپ تشکیل دے رکھا تھا جس میں ایک پروگرام ” شاعری سیکھیں ” کے عنوان سے عام لوگوں کے استفادہ کی خاطر چلایا ہوا تھا انہوں بھی ابتدائی طور پر وہیں سے فیض حاصل کیا بعد ازاں بہاولپور کے معروف نوجوان شاعر اظہر فراغ صاحب کے ساتھ منسلک ہوگئے جن سے شعری تہذیب پروان چڑھی اور مزید بہتری کا سامان وہیں سے ہوا۔

جیسے حضرت میاں محمد بخش صاحب نے کہا نا کہ “بھریا اس دا آکھیئے جس دا توڑ چڑھے (لفظی معنی و مفہوم کہ جو عورتیں پانی بھرنے گئی ہیں ان میں سے اس کا پانی بھرنا مانیں گے جو گھڑا بھر کر صحیح سلامت گھر لے آئے”،گویا خاتمہ سلامتی پر ہونا ضروری قرار دیاہے) میرے نزدیک بھی محض تک بندی یا بحور اور اوزان کی اغلاط سے پاک شاعری ضروری نہیں کہ ادبی اعتبار سے اعلیٰ بھی ہو گی، بہاولپور سے ہمارے شاعر دوست افضل خان اس کے لئے بے عیب شاعری کی اصلاح استعمال کرتے ہیں تو محض بے عیب شاعری کر لینا میرے نزدیک کوئی شاعری نہیں ہے.

میں شاعری اس کو مانتا ہوں جس میں نئے اور منفرد مضامین ہوں،پیرایہ بیان انوکھا اور انفرادی پہچان کا حامل ہو شعرآسان اور قریب النثر ہو۔ شعر پڑھ یا سن کر بھلے یہ نہ لگے کہ۔۔۔میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا، لیکن ایسا ضرور ہو کہ دل میں کبھ جائے آپ کا جی چاہے دوسروں سے شیئر کرنے کو اور دوستوں کو سنانے کو۔ پارس مزاری بالکل ایسے ہی نوجوان شاعر ہیں اور ان کے جو اشعار میں یہاں قارئین کرام کے پیش خدمت کروں گا ان میں سے بیشتر آپ کو اس لئے ازبر ہو جائیں گے کہ ا ٓپ کو لگے گا وہ شعر آپ کے لئے کہا گیا ہے یا یہ کہ وہ شعر ہے ہی آپ کا کیونکہ جن احساسات کی ترجمانی ان اشعار میں کی گئی ہے وہ تو ہیں ہی آپ کے اور آپ کے علاوہ کسی دوسرے کو ان جذبات کا علم ہی نہ تھا۔

اپنی پسند چھوڑ دی اس کی خرید لی                  ورثے کا کھیت بیچ کے کوٹھی خرید لی
اک عمر اپنے بیٹوں کو انگلی تھمائی پھر                 بوڑھے نے اک دکان سے لاٹھی خرید لی
ویسے تو نرخ کم ہی تھے گندم کے اس برس                آئی تھی تیرے گاؤں سے مہنگی خرید لی
ہم دوستوں کے پیار میں ہم رنگ ہیں لباس               اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ وردی خرید لی
تصویر اپنی خو د ہی مصور کو بھا گئی                  خود گیلری میں پیش کی خود ہی خرید لی
اے ہجر زاد تم کو بھی ہے آرزوئے وصل                 اے دشت زاد تم نے بھی کشتی خرید لی
دراصل مسئلہ تو ہے چلنا گھڑی کے ساتھ                  اس سے غرض نہیں ہے کہ کیسی خرید لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا اذیت ہے مرد ہونے کی                       کوئی بھی جا نہیں ہے رونے کی
دائرہ قید کی علامت ہے                         چاہے ا نگوٹھی پہنو سونے کی
سانس پھونکی گئی بڑا احسان                      چابی بھر دی گئی کھلونے کی
بوجھ جیسا تھا جسکا تھا مجھے کیا                مجھے اجرت ملی ہے ڈھونے کی
میں جزیرے ڈبونے والا ہوں                 خو نہیں کشتیاں ڈبونے کی

میرا اگلا سوال یہ تھا کہ آپ نے کن کن استاد شعرا کو پڑھ رکھا ہے، ان کے بعد والوں میں سے کس کس سے متاثر ہیں اور موجودہ دور کے شعرا میں سے کون کون بھائے ہیں؟ ان کو جواب بہت سادہ اور سمجھ آنے والا تھا بتایا کہ میر،غالب اور داغ سبھی کو پڑھا ہے اور ان کے دیوان تو ہمہ وقت یوں ساتھ رہنے چاہیئیں کہ سوتے وقت بھی سرہانے تلے موجود ہوں،ان کے بعد میرے پسندیدہ شعرا میں ناصر کاظمی، شکیب جلالی،جمال احسانی،پھر فیض اور فراز تو کم و بیش سبھی کی پسند ہیں،اگر بات کروں اپنے وسیب کی تو بہاولپور سے اظہر فراغ، قصور سے تعلق رکھنے والے شاہین عباس اور لاہور سے ادریس بابر ہیں جو مجھے ذاتی طور پر بہت پسند ہیں۔اگلے سوال کے جواب میں انہوں نے وضاحت کی کہ انہیں غزل اور نظم یکساں طور پر پسند ہے لیکن لکھتا غزل ہی ہوں۔

موجودہ شاعری جو مختلف شہروں میں ہو رہی ہے اس کے حوالہ سے آپ کیا کہیں گے؟ان کا جواب بہت مزے دار تھا کہنے لگے میرے اندازے کے مطابق پوری دنیا میں جہاں جہاں اردو موجود ہے،کوئی دس ہزار سے پندرہ ہزار کے درمیان ایسے لوگ پہیں جو کسی نہ کسی سطح کی شاعری کر رہے ہیں لیکن وہی بات کہ فقط وزن اور بحر میں کرلینا تو کافی نہیں،مذکورہ تعداد میں بہت کم ایسا کلام کہہ رہے ہیں جسے شاعری کہا جا سکے اور جو ان کے بعد اپنا وجود قائم رکھ سکے گی،شاعری میں انفرادیت و جمالیات جیسے جواہر کا ہونا ازبس ضروری ہے.

ہمارے اپنے وسیب میں میرے ہم عمر یا تھوڑے بڑے یا عمر میں چھوٹے نوجوان جو حیران کن کلام کہہ رہے ہیں اور جن کو ہر جگہ سے پذیرائی نملتیہے ان میں اظہر فراغ،خرم آفاق،محسن دوست، خالد محبوب، ضیا مذکور،شاہد نواز عزیز شاکر، فیصل خیام اور خرم پیرزادہ شامل ہیں جو اپنی مسلسل کوشش و ریاضت کی بدولت آگے بڑھ رہے ہیں،ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ منفرد حیثیت کا حامل ہے ہر ایک کا اپنا اسلوب اور رنگ ہے اور جب یہ سب ایک چھت تلے کسی تقریب میں جمع ہوتے ہیں تو ایک رنگ برنگی دلفریب کہکشاں بن جاتی ہے اور بعض دوستوں کے مجموعہ کلام شائع ہو چکے ہیں بعض کے تیاری کے مرحلے میں ہیں۔۔
پارس کے چند اور اشعار ملا حظہ فرمائیں :

اب اس سے اور محبت بھی کتنی سچی ہو                        خیال کار ہوس بھی چھپا نہیں رہے ہم
۔۔۔۔۔۔۔

اپنی شہرت سے بھی ہوتا نہیں میں لطف اندوز                           مجھ کو بچپن سے ہی اونچائی سے ڈر لگتا ہے
۔۔۔۔۔۔

وہ شخص جو گنواتا ہے پیڑوں کے فوائد                          لگتا ہے کسی سائے سے محروم ہوا ہے
۔۔۔۔۔۔

نانی نے ترک کر دی کیوں رسم قصہ گوئی                             کیا چاند سے کسی نے چرخہ اٹھا لیا ہے
۔۔۔۔۔۔

مرحلہ یو ں تو دور چھت کا ہے                   اک تصور ضرور چھت کا ہے
خالق ابر ! ایک گستاخی                           اب کے بھی کیا قصور چھت کا ہے
چھتریوں نے کبھی ڈھکے ہیں عیب                ظرف یہ بھی حضور چھت کا ہے
۔۔۔۔۔۔

تمہارے گھر پہ میں آتو نہیں رہا مرے دوست                    گھما پھرا کے بتاؤ نہ راستہ مرے دوست
بچھڑتے وقت ضرورت نہیں ہوئی محسوس                      اور اب نہ رابطہ نمبر نہ رابطہ مرے دوست
میں یوں تو ایک محبت کے قائلین میں تھا                        تجھے ملا تو رہا ہی نہیں گیا مرے دوست
۔۔۔۔۔۔۔۔

پھلانگ سکتا ہوں جتنا ہے دو دلوں کے بیچ                  مگر جو فاصلہ جغرافیائی سطح پہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں