59

کینگروز اور بارش سے کڑا امتحان … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: فیض رسول ہاشمی
بہاولپور

سری لنکا کی کمزور ٹیم کو دیکھ کر پاکستانی شائقین کرکٹ خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے۔ جاری ورلڈکپ میں ایک اور فتح دکھائی دے رہی تھی۔ ناٹنگھم کی سڑکوں کے بعد اب جیت کا سماں برسٹل میں ہونا تھا۔ مگر پہلے جمعہ کالی آندھی اور دوسرے جمعہ ابرِ رحمت نے شاہینوں کو اڑنے نہ دیا۔ پاکستان ٹیم اب تین پوائنٹس کے ساتھ فہرست میں ہچکولے کھا رہی ہے۔ انگلینڈ کو 14 رنز سے زیر کرنے کے بعد سری لنکا کے خلاف میچ میں بارش نے رنگ میں بھنگ ڈال دیئے۔ اب ہمارا اگلا مقابلہ کینگروز الیون سے ٹاؤئنٹن میں ہونا ہے۔

اگر دونوں ٹیموں کے ورلڈکپ مقابلوں پر نظر ڈالیں تو آسٹریلیا نے 5 اور پاکستان نے 4 میچز میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان نے ورلڈ کپ مہم کا آغاز اِسی ٹیم کے خلاف میچ سے کیا تھا۔ 1975 ورلڈکپ ، کا تیسرا میچ آسٹریلیا کی جیت پر ختم ہوا۔ لیڈز ( ہیڈنگلے ) میں این چیپل نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ کینگروز بلے بازوں نے نپی تلی کارکردگی دکھاتے ہوئے 60 اوورز میں 278/7 رنز کردیئے جو اُس دور میں ایک فائٹنگ اسکور تصور کیا جاتا تھا۔ اوپنر ایلن ٹرنر 46 اسکور پر وکٹ گنوا بیٹھے روس ایڈورڈس نے ناقابل شکست 80 رنز بنائے گریگ چیپل 5 رنز کی کمی سے نصف سنچری نہ بنا سکے۔ عمران خان اور نصیر ملک نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

15 رنز پر پاکستانی اوپنر صادق محمد رخصت ہوگئے ظہیر عباس اور مشتاق محمد بھی پہلے میچ کو یادگار نہ بناسکے۔ ماجد خان اور کپتان آصف اقبال نے دونوں اینڈ سے اسکور بورڈ کو چلایا اور نصف سنچریاں مکمل کیں وسیم راجہ نے بھی اپنا حصہ ڈالا مگر ڈینس للی کا جادوئی اسپیل ، پاکستانی جیت کی راہ میں رکاوٹ بن گیا پوری ٹیم 53 اوورز میں 205 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔ للی ورلڈکپ کی تاریخ میں سب سے پہلے پانچ وکٹیں لینے والے بولر بن گئے۔ اُس روز سری لنکا اور بھارت کو بھی شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا اور تینوں ایشیائی ٹیموں کی ورلڈ کپ میں دھواں دار انٹری ممکن نہ ہوئی۔

1979 ورلڈکپ ، ایک مرتبہ پھر سے دونوں ممالک آمنے سامنے آئے۔ ناٹنگھم ( ٹرینٹ برج ) میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بولرز کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی اوپنرز ، صادق محمد اور ماجد خان نے 99 رنز کا سٹارٹ دیدیا۔ ماجد خان نے ذمہ داری سے کھیلتے ہوئے 61 رنز کیے۔ جاوید میانداد نے 100 کے اسٹرائیک ریٹ سے 46 رنز بنائے کپتان آصف اقبال نے تیزی سے 61 رنز جوڑ دیئے۔ یوں آسٹریلیا کو جیت کیلئے 287 رنز کا ہدف ملا۔ کمزور آسٹریلوی ٹیم 197 رنز پر دھرن تختہ ہوگئی۔ اینڈریو ہلدیٹچ نے کیرئیر بیسٹ 72 رنز اسکور کیے۔ ماجد خان اور اسکندر بخت نے تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ کپتان آصف اقبال پلیئر آف دی میچ قرار پائے۔

1983 ورلڈکپ ، میں دونوں ٹیموں کے مابین کوئی میچ منعقد نہ ہوا۔ 1987 ورلڈکپ ، کا پہلا سیمی فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں میزبان پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا۔ ٹاس ایک مرتبہ پھر مہمان ٹیم نے جیت کر بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ اوپنرز نے اچھا آغاز فراہم کیا جیف مارش 31 ، ڈیوڈ بون 65 ، ڈین جونز 38 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اسٹیو وا نے اختتامی لمحات میں برق رفتار 32 رنز بنا کر ٹوٹل 267/8 تک پہنچا دیا۔ عمران خان نے زبردست بولنگ کرائی اور تین وکٹیں حاصل کیں۔ ہدف کے تعاقب میں عمران خان الیون کے ابتدائی تین اہم بیٹسمین 38 رنز پر داغِ مفارقت ہوچکے تھے۔ کپتان نے جاوید میانداد کے ہمراہ 112 رنز کی شراکت قائم کردی۔

عمران خان کے 58رنز پر پویلین واپسی کے بعد ٹیم پر پریشر بڑھتا گیا۔ جاوید میانداد نے وسیم اکرم کے ساتھ اسکور کو چلانا چاہا لیکن میانداد 70 رنز پر بولڈ ہوگئے۔ آخری اوورز میں سلیم یوسف اور عبدالقادر نے ہمت دکھائی مگر کریگ میکڈرمٹ نے یکے بعد دیگر ٹیل اینڈرز کو میدان بدر کرتے ہوئے 5 وکٹیں لیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ پاکستان 18 رنز کی کمی سے ایک مرتبہ پھر فائنل تک رسائی ممکن نہ بنا سکا۔

1992 ورلڈکپ ، پرتھ کا میدان اس بار میزبانی کررہا تھا۔ بالآخر پاکستان نے ٹاس جیتا اور بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ عامر سہیل اور رمیز راجہ نے اچھا آغاز کیا۔ ایک وقت میں لگ رہا تھا پاکستان 250+ آسانی سے کر لے گا۔ مگر قومی ٹیم نے جیت کیلئے صرف 221 رنز کا ٹارگٹ دیا۔ عامر سہیل 76 اور میانداد 46 رنز بنا سکے۔ اسٹیو وا نے زبردست بولنگ کی اور 3 کھلاڑی آؤٹ کیا۔ آسٹریلیا ٹیم ابتدا میں پھنسل گئی پاکستان بولرز نے ایلن بورڈر کمپنی کو سنبھل کر نہ کھیلنے دیا اور پوری ٹیم 172 رنز پر ہمت ہار گئی۔ عامر سہیل کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

1996 ورلڈکپ ، دونوں ممالک کے مابین کوئی میچ نہ ہوسکا۔

1999 ورلڈکپ ، دو مرتبہ پاکستان اور آسٹریلیا نبرد آزما ہوئے۔ پہلی مرتبہ گروپ میچ میں پاکستان نے 10 رنز سے لیڈز میں کامیابی سمیٹی۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے 276 رنز کا ٹارگٹ دیا۔ عبدالرزاق اور انضمام الحق نے نصف سنچریاں اسکور کیں آخری اوورز میں معین خان نے 3 چھکوں کی مدد سے 12 بالز پر ناقابل شکست قیمتی 31 رنز بنا ڈالے۔ ہدف کے تعاقب میں مارک وا ، رکی پونٹنگ اور اسٹیو وا نے عمدگی سے کھیلا۔ مائیکل بیون نے 61 رنز کی اننگ کھیلی مگر وسیم اکرم کی 4 اور ثقلین مشتاق کی 3 وکٹوں نے پاکستان کو جتوا دیا۔

1999 ورلڈکپ کے فائنل ٹاکرے میں ایک بار پھر دونوں ٹیمیں ، لارڈز کے تاریخی میدان پر سامنے آئیں۔ وسیم اکرم نے ٹاس جیتا اور بلے بازوں کو موقع دیا۔ مگر شین وارن ، گلین میک گرا کی بولنگ نے پاکستان کو صرف 132 تک محدود رکھا۔ ایڈم گلکرسٹ نے جواب میں پاکستانی بولرز کو آڑے ہاتھوں لیا۔ آسٹریلوی بلے بازوں نے ہدف 121 گیندوں پر مکمل کر کے دوسری بار عالمی کپ کا تاج اپنے سر سجا لیا۔ 4 وکٹیں لینے پر شین وارن میچ کے ہیرو قرار پائے۔

2003 ورلڈکپ ، پاکستان نے اپنی مہم کا آغاز آسٹریلیا کے خلاف میچ سے کیا۔ جوہانسبرگ میں وقار یونس نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔ کپتان رکی پونٹنگ نے 53 رنز بنائے ایک موقعہ پر لگ رہا تھا آسٹریلیا 250 کے لگ بھگ بنا سکے گا مگر اینڈریو سائمنڈز مخالف بولرز پر برس پڑے اور گراؤنڈ کے چاروں طرف دلکش اسٹروکس کھیلتے ہوئے ناقابل شکست 143 رنز بنا ڈالے یہ میگا ایونٹ میں آج تک کسی بلے باز کی پاکستان کے خلاف سب سے بڑی انفرادی اننگ پے۔ پاکستان کو جیت کیلئے 311 رنز کا ہدف ملا۔ وسیم اکرم نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستانی بیٹنگ 44.3 اوورز میں 228 رنز پر ہمت ہار گئی۔ راشد لطیف اور وسیم اکرم نے 33 ، 33 رنز بنائے۔ این ہاروے نے 4 کھلاڑی آؤٹ کیے۔

2007 ورلڈکپ ، دونوں ملکوں کے درمیان کوئی مقابلہ نہ ہوا۔

2011 ورلڈکپ ، کولمبو میں رکی پونٹنگ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازوں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔ مگر شاہد آفریدی الیون کی نپی تلی بولنگ نے آسٹریلیا کو 176 رنز تک محدود رکھا۔ عمر گل نے 3 اور عبدالرزاق نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان نے ہدف 41 اوورز میں مکمل کرلیا۔ عمراکمل کو 44 رنز بنانے پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

9ویں بار دونوں ٹیمیں کے درمیان جوڑ ، 2015 ورلڈکپ کے تیسرے کوارٹر فائنل( ایڈیلیڈ ) میں پڑا۔ مصباح الحق نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی ٹیم ابتدا سے ہی سنبھل نہ سکی اور پوری ٹیم 213 رنز پر بکھر گئی حارث سہیل 41 ، مصباح 34 ، اور صہیب مقصود 29 رنز بنا سکے۔ ہیزل ووڈ نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ مطلوبہ ہدف کے تقاقب میں اسٹیو اسمتھ نے 65 رنز کی اننگ کھیلی۔ راحت علی نے شین واٹسن کا کیچ چھوڑا اور وائٹ شارک قومی بولرز پر برس پڑے۔ واٹسن 64 اور میکسویل 44 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔ یوں قومی ٹیم کی کہانی گزشتہ ورلڈکپ میں ختم ہوئی تھی۔

آسٹریلیا اپنا پچھلا میچ بھارت سے ہار چکا ہے اور پاکستان ٹیم 11 مسلسل شکست کھانے کے بعد ہارٹ فیورٹ میزبان انگلینڈ کو ہرا چکا ہے۔ پاکستان کو اپنی بقاء کیلئے یہ میچ لازمی جیتنا ہے تاکہ سیمی فائنل کے لیے امید زندہ رہے۔

دونوں ٹیموں کے مابین کانٹے کا مقابلہ ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔

نوٹ: بارش کی مداخلت ہوسکتی ہے جو میچ کو متاثر کریگی اب دیکھتے ہیں قدرت کس ٹیم پر مہربان ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں