118

صدارتی ایوارڈ یافتہ عظیم سرائیکی شاعر ”شاکر شجاع آبادی“ … شعور میڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

سرزمینِ ملتان ہمیشہ علم و ادب کا گہوارہ رہی ہے۔یہاں کئی نامور شاعر وادیب پیدا ہوئے جنہوں نے فن کی بلندیوں کو چھوأ۔ان میں ایک عظیم نام شاکر شجاع آبادی کا بھی ہے۔ جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی۔بلا شبہ ان کی وجہ شہرت سرائیکی شاعری ہے۔مگر جہاں وہ سرائیکی شاعری کے شہنشاہ ہیں وہاں انہوں نے اردو سمیت دیگر زبانوں میں بھی بہت اچھی شاعری کی ہے۔ انہوں نے اپنے بلند تخیل کی بنا پر شہرت کی بلندیوں کو چھوأ۔

شاکر شجاع آبادی کا تعلق ملتان سے70 کلومیٹر دور شجاع آباد کے ایک قصبے راجہ رام سے ہے۔ اپنی تاریخ پیدائش کے بارے میں شاکرشجاع آبادی کا کہناہے کہ ان کی پیدائش1958 ء ہے لیکن نادرا کے جاری کردہ شناختی کارڈ کے مطابق ان کی پیدائش 1955 ء ہے۔نواب شجاع خان سدوزئی کے نام پر قائم ہونے والے قدیم شہر شجاع آباد کو شاکر شجاع آبادی نے اپنے نام سے منسوب کر کے اس شہر سے رغبت کا اظہار کیا۔1965ء کی جنگ میں شہید ہونے والے 24سالہ محمد ظریف (ستارہ ئ جرأت)کے نام پر ریلوے اسٹیشن راجہ رام کا نام ریلوے اسٹیشن ظریف شہید رکھا گیا۔

ضلع ملتان کی تحصیل لودھراں کے موضع شیر پور چاہ ٹبے والا میں رہائش پذیر بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی کرنے والے مولوی اللہ یار کو اللہ تعالیٰ نے چھ بیٹوں محمد اکرم،محمد اعظم،محمد احسن،محمد اسلم،محمد سعید اورمحمد شریف سے نوازا۔جن میں سے محمد اکرم،محمد اعظم اور محمد سعید اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ سوائے خدائے بزرگ و برتر کے کوئی نہیں جانتا تھا کہ مولوی اللہ یارکے گھر میں پیدا ہونے والا محمد شریف آگے چل کر شاعری کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے شاکر شجاع آبادی کے نام سے لوگوں کے دلوں پر حکومت کرے گا۔

محمد شریف پیدائش کے آٹھویں روز ہی محرقہ بخار کا شکار ہو کر ہڈیوں کے عارضہ میں مبتلا ہوا جس کو اْس وقت پولیو کا نام دیا گیا۔ مگر بعد میں ڈاکٹروں کے بورڈ نے یہ تشخیص کیا کہ شاکر شجاع آبادی کوڈاسٹونیا (Dystonia)کا مرض لاحق ہے۔ اس مرض میں جسم کے کچھ اعضاء کی حرکات و سکنات پر دماغ کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ دیہاتی توہم پرستی، کہ نام تبدیل کردیا جائے تو تندرست ہو جائے گا۔اس بنیاد پرمحمد شریف کا نام محمد شفیع رکھ دیا گیا۔لیکن یہ تدبیرکار گر ثابت نہ ہوئی۔

ابتدائی8سال چارپائی کے ساتھ لگ کر گزارنے کے بعد چلنے پھرنے کے کچھ قابل ہوا تو انتہائی مفلسی اور غربت کے دن نصیب میں ملے۔ پھوپھی زاد حافظ عبدالعزیزسے قرآنِ پاک ناظرہ پڑھا اور پہلا اور آخری پارہ حفظ بھی کیا۔کہتے ہیں اللہ تعالیٰ معاف فرمائے اب حفظ نہیں رہے۔پرائمری تعلیم بستی مٹھو میں مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول راجہ رام میں چھٹی کلاس میں داخلہ لیا۔چھٹی کلاس کے امتحان کے بعدوالدہ محترمہ کے علاج کیلئے غربت نے تعلیم کو خیر باد کہہ کر ناتواں کندھوں پرسبزی اٹھاکر بیچنے پر مجبور کردیا۔

لڑکھڑاتے جسم کے ساتھ مزدوری،فالودہ،لسی اور لنڈے کا کام بھی والدہ کی صحت کیلئے کام نہ آسکا۔ تمام تر کوششوں کے باوجودہمیشہ وہی ہواجو منظورِ خدا تھا۔ والدہ محترمہ اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئیں۔ا ماں کی وفات کے بعد گھر سے دل اچاٹ ہو ا توبہاول پور کا رخ کیا۔ وہاں مزدوری کی اور پھرسبزی منڈی میں دن بھر فروٹ کا ٹھیلا لگاتے۔مفلسی اورناداری کے عالم میں وہی ٹھیلہ ہی مسکن ٹھہرا۔جب نیند کا غلبہ ہوتا اسی ٹھیلے پر سو جاتے۔معذوری اور کمزور جسامت کی وجہ سے طنزاً مولا جٹ کے نام سے بھی مشہور ہوئے۔

شاکر شجاع آبادی نے کاروبار بڑھانے کی خاطر ایک ٹرک سبزی کا خرید کر بیچا جس میں انہیں خسارہ ہوا اور وہ مقروض ہو گئے۔کاروبار بڑھانے اور خسارہ پورا کرنے کیلئے ایک بھائیوال (شراکت دار) کے مشورہ سے گاجر، گوبھی کا ٹرک بھر لیا جس سے مزید مقروض ہو گئے۔ لوگ اْن کا مذاق اڑانے لگے اور جن سے قرض لیا تھا وہ بھی تنگ کرنے لگے تو شاکر شجاع آبادی سبزی منڈی چھوڑ کر کراچی چلے گئے۔ ان کے بھائی محمد اعظم نے وہاں 20 روپے یومیہ پر ایک بنگلے پر چوکیدار کی نوکری دلا دی۔مگر کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ سگریٹ اور روٹی کا خرچہ بمشکل پورا ہوتا تھا۔ والد کی بیماری کی وجہ سے واپس گھر آگئے۔ 1990ء میں والد بھی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔

1991ء میں شاکر شجاع آبادی کی شادی پھوپھی زاد کی بیٹی غلام فاطمہ سے ہوئی۔ شاکر شجاع آبادی نے غلام فاطمہ کا نام تبدیل کر کے شبنم شاکر رکھا۔جس نے شبنم شاکر کے نام سے ”کچ دی ونگ“ کتاب لکھی جسے 2005ء میں جھوک پبلشرزنے شائع کیا۔2005ء کے بعد ”کچ دی ونگ“ کا کوئی ایڈیشن شائع نہیں ہوا۔ شبنم شاکر اس بات کو پسند نہیں کرتیں کہ خواتین پرستار شاکر شجاع آبادی کو فون کریں یا ملنے آئیں۔ وہ اس بارے میں لکھتی ہیں کہ شاکر سے میری لڑائی زیادہ تر اْس وقت ہوتی ہے جب خواتین پرستار فون کریں یا پھر شاکر سے ملنے آئیں۔

شاکر شجاع آبادی کواللہ تعالیٰ نے دو بیٹے نوید شاکر، ولید شاکر اورتین بیٹیاں عطا کیں۔جن میں سے ایک بیٹی اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو چکی ہے۔ چھوٹی بیٹی ثانیہ شاکر سے بہت پیار کرتے ہیں۔ 1994ء میں بچپن کی بیماری نے زور پکڑا توحرکات و سکنات کی دشواری کے ساتھ قوت ِ گویائی بھی شدید متاثر ہوئی۔ پہلے خود اپنا کلام سناتے تھے۔ بیماری کی وجہ سے لوگوں کو اشعار سمجھ نہ آتے تو ترجمان کی ضرورت پڑی۔

پُرسوزبخاری،امان اللہ ارشد،محمد شریف المعروف دل زیب شاکر،قاسم زاہد،دلنور نور پوری،محمدنواز نیازی، شاکر مہروی،اشرف خان،مشتاق سبقت،امجد بلوچ،غیور بخاری، حاجی حسن لوٹھڑ،نذر فریدبودلہ اور مجاہد جتوئی نے مختلف مشاعروں میں ان کی ترجمانی کی۔ رسالہ ”آداب عرض“ کے زیر اہتمام دنیا پور میں منعقد ہونے والے مشاعرے میں پہلی اور آخری مرتبہ شبنم شاکر نے شاکر شجاع آبادی کی ترجمانی کی۔ اب ان کے بیٹے ولید شاکر مستقل ترجمانی کرتے ہیں۔

2015ء میں الرّحیم ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ انتظام ضلع لودھراں میں شاکر شجاع آبادی کی امن کے حوالے سے شاعری پر مبنی ہونے والے چھ مقابلوں میں سے ایک مقابلے میں شاکر شجاع آبادی نے اپنی زندگی کی پہلی نظم جو کہ سرائیکی زبان میں تھی وہ پڑھی تو اس کی ترجمانی لودھراں کے سینئر صحافی و شاعر مجیدناشادنے کی۔

2004ء میں فالج کا حملہ ہوا توان کے جسم کا دائیاں حصہ مفلوج ہو گیا۔معذوری اور بیماری کے باوجود ذہنی طور پر چاق و چوبند ہیں۔2015ء میں راقم کی جنرل ہسپتال لاہور کے وارڈ 17کمرہ نمبر 11میں زیرِ علاج شاکر شجاع آبادی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کے دماغ کے آپریشن سے40سے 50فیصد تک تندرستی آسکتی ہے۔ مگر دماغ کے آپریشن سے حالت بگڑ بھی سکتی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق دماغ کا یہ آپریشن ملک سے باہر بہتر ہو سکتا ہے جو کہ حکومت کے خرچ پرہی ممکن ہے۔بھلا یہ سب غریب شاکر شجاع آبادی کے بس میں کہاں؟

شاکر شجاع آبادی نے یکم جون2019ء کی صبح اپنی رہائش گاہ پر ایک ملاقات میں راقم کو بتایا کہ پہلا شعر 1986ء میں لکھا اور محسوس کیا کہ وہ بھی شعر لکھ سکتے ہیں۔شاعری کا آغاز دوہڑوں سے کیا۔جب پہلا دوہڑا لکھا تو قافیہ ردیف سے واقفیت نہ تھی۔ 1986ء میں ہی سرائیکی میں پہلی غزل

درداں دا چھا گئے بدل ہولے ہولے                  اٹھی چھیڑ شاکر غزل ہولے ہولے

لکھی تو مطلع کو مقطع بنا دیا۔قطعوں سے بھی لطف اندوز ہوتے رہے۔ 1987ء میں پہلی اردو غزل لکھی۔ 1989ء تک گمنام شاعر کی حیثیت سے رہے۔ان کا کہنا ہے کہ جب شاعری کا آغاز کیا تو دوست احباب کہتے تھے کہ ہزاروں شاعر آئے اور چلے گئے۔ تم بھی ان کی بھیڑ میں گم ہو جاؤ گے اور کسی کو تمہارا نام بھی یاد نہیں ہو گا۔ شاکر شجاع آبادی اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ بات کہنے والوں میں میرا سگا بھانجا ماسٹر ظفر جاوید بھی شامل تھا۔ میں ان دوستوں کو اس وقت بھی کہتا تھا کہ دیکھنا انشاء اللہ ایک دن معروف شاعر بنوں گا۔

15مارچ 1989ء میں پہلی مرتبہ سرائیکی ادبی مجلس بہاولپور کے مشاعرے میں شرکت کی۔جانباز جتوئی کی صدارت میں ہونے والے اس مشاعرے میں دو منٹ کی اجازت ملی اور35منٹ تک انہیں سنا گیا۔ 1990ء کے شاعروں میں ایک بڑے شاعرکی حیثیت سے آخریا آخری دوسرے میں ان کا کلام سنا جاتا۔ بلاشبہ ان کے جسم کو موذی بیماری نے جکڑ لیا مگر ان کے اندر کے شاعر کو نہ جکڑ سکی۔

سرائیکی علاقہ کے مقامی گلوکار شاکر شجاع آبادی کا کلام بہت شوق سے گاتے تھے۔عطا ء اللہ خاں عیسیٰ خیلوی،منصور ملنگی،شازیہ خشک، اعجاز راہی،ثریا ملتانیکر،نعیم الحسن ببلو سمیت درجنوں گلو کاروں نے شاکر کے گیت گا کر خوب نام کمایا۔1991ء میں بہاول پور میں منعقد ہونے والے پاکستان کے پہلے عالمی مشاعرے میں شاکر شجاع آبادی نے شرکت کی۔ ہندوستان، کینیڈا اور امریکا سے آئے ہوئے شاعروں نے شاکر کو سرائیکی زبان کا ایک عظیم شاعر قرار دیا اور ان کے کلام کے بارے میں خبریں اخبار میں ضمیر جعفری لکھتے ہیں کہ ”پاکستان کا پہلا عالمی مشاعرہ سرائیکی کی پچ پر کھیلا گیا۔شاکر شجاع آبادی نے آل آؤٹ کر دیا“۔ جناب ضیا ء شاہد نے بھر پور طریقے سے شاکر شجاع آبادی کے ساتھ تعاون کیا۔وہ خود راجہ رام شاکر شجاع آبادی کے گھرتشریف لائے

۔1991ء کے اس عالمی مشاعرے کے بعد شاکر نے پھر پیچھے مْڑ کر نہیں دیکھا۔مافی الضمیرکے اظہار کے لیے شاکر کی زبان اظہار سے عاجز ہونے کے باوجود احساسات کی دنیا کی بادشاہی میں لفظ اس کی جاگیر ہوتے گئے۔ وہ جیسے اور جب چاہتے اپنی فکر کے سورج کو چڑھا دیتے۔ معاشرے کی اونچ نیچ کے خلاف ان کے الفاظ جب ان کی ذہنی اور فکری بغاوت کی صورت گری کر تے تو رگ و پے میں آگ بھڑک جاتی۔ انہوں نے اپنی زندگی سرائیکی شاعری کے لیے وقف کردی۔

چولستان ویلفیئر سوسائٹی نے شاکر شجاع آبادی کی شعری خدمات پر پوئٹ آف سنچری1900ء تا2000ء کا ایوارڈ دیا۔ایک جمعہ کی شام جیو ٹی وی پر”ایک دن جیو کے ساتھ“ میں شاکر شجاع آبادی کی زندگی کی نقاب کشائی کی گئی۔ جسے 192ممالک میں نشر کیا گیا۔2000ء میں سپورٹس کلب لودھراں میں ہونے والے مشاعرے میں آرٹسٹ ماسٹر عاشق فریدالمعروف ماسٹر سائن نے شاکر شجاع آبادی کی موجودگی میں اداکاری کرتے ہوئے ان کی کاپی کی۔جسے لوگوں نے بہت سراہا۔بلکہ خود شاکر شجاع آبادی نے بھی اپنے دستِ مبارک سے عاشق فرید کو 500روپے نقد انعام سے نوازا۔

2001میں نئی تخلیق کی سوچ پیدا ہوئی لیکن 2007میں پہلی دفعہ نئی تخلیق سجھاول(جو جاپان کی ”ہائیکو“ کے بعد شاعری میں تازہ ترین صنف ہے) کو متعارف کرایا۔سجھاول دنیائے سخن میں شاکر شجاع آبادی کا ایک خوبصورت اضافہ ہے۔دھنوٹ ضلع لودھراں کی سماجی تنظیم الرّحیم ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام 2015ء میں شاکر شجاع آبادی کی شاعری پر مبنی شائع ہونے والی کتاب ”امن کائنی تاں کجھ کائنی“میں ان کی پہلی نظم شائع ہوئی۔ ان کی تصنیف”امن کائنی تاں کجھ کائنی“ان کے امن کے خواہاں، امن کے پیامبر اورپوری انسانیت کا شاعر ہونے کی دلیل ہے۔

شاکرپاکستان کا واحد سرائیکی شاعر ہے جسے حکومتِ پاکستان نے دومرتبہ صدارتی حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا۔ 2007ء جنرل پرویز مشرف دور میں پہلا اور2017میں دوسرا صدارتی ایوارڈ وصول کیا۔ڈائریکٹر وپرنسپل ملتان لاء کالج چوہدری محمد حنیف نے بیسٹ پوئٹ آف دی ورلڈ کا ایوارڈ دیا۔مختلف اداروں سے پوئٹ آف پاکستان،شاعرِ اعظم ودیگر مختلف ا یوارڈ ز و میڈلز دیئے گئے۔

ان کی محمد شریف،محمد شفیع سے شاکر شجاع آبادی تک پہنچنے کی داستان انتہائی المناک ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان میں پہلے کسی نے شاعری نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے کسی شاعر کی شاعری پڑھی تھی بس ریڈیو پر کچھ شعراء کا کلام سنا ہوا تھا۔ وہ کہتے ہیں اگر میں نے دوسرے شعراء کو پڑھا ہوتاتومیں منفرد شاعر نہ ہوتا۔ میری انفرادیت کی وجہ شاید یہی ہے کہ میری شاعری میرے ذاتی غور و فکر، مشاہدے، تجربے اور تخیل کی پیداوار ہے۔

شاکر شجاع آبادی فطری شاعر ہیں جنہیں قدرت نے شاعری کی بے بہا صلاحیتیں دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاعری کی صلاحیت مجھے قدرت کی طرف سے ودیعت ہوئی ہے۔ لیکن میں نے اشعار موزوں کرنے کے لئے اپنا خون پسینہ بہایا ہے۔ دن رات محنت کر کے اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمت کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ اگر میں اللہ تعالیٰ کی عطا کی قدر نہ کرتاتوخطاوار اور ناشکرگزار ہوتا۔شاکر شجاع آبادی سرائیکی وسیب کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ان کو ان کی زندگی میں ہی شہرتِ عام اور بقائے دوام حاصل ہے۔ وہ خود بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں لیکن انھوں نے سرائیکی عوام کی محرومیوں کو اجاگر کر کے ان کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔

انھوں نے اپنی شاعری کی فکر اور فلسفہ کسی کتاب، یونیورسٹی یا عظیم دانشوروں کے افکار و نظریات سے لینے کی بجائے جو انہوں سے دیکھا، سوچا، سمجھا اور جو ان پر بیتی اسے قلم بند کرتے رہے۔ان کی شاعری زبان کی حدود و قیود کو پھلانگ کر مظلوم قوموں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بن چکی ہے۔ پاکستان کے کونے کونے میں مزدور، کسان، جھونپڑیوں میں رہنے والے لوگ شاکر شجاع آبادی کے اشعار گنگناتے ملیں گے اور ممکن ہے کہ انہیں یہ علم ہی نہ ہو کہ ان اشعار کا خالق کون ہے؟ شاکر شجاع آبادی نے زلفوں کی سیاہی پہ وقت ضائع نہیں کیا۔ رخساروں کے قصے نہیں چھیڑے۔ اپنی توانائیاں پتلی کمر کی تعریفیں کرنے میں ضائع نہیں کیں۔انہوں نے محبوب کے تل کو اپنا عنوان نہیں بنا یا اور نہ ہی حسینوں کے چرچے کیئے۔

شاکر نے اپنی شاعری میں غربت کوموضوع بنایا۔ ان لوگوں کی بات کی جن کے ہاتھوں پہ چھالے اور پاؤں پہ آبلے ہیں۔جن کی محنت کی وجہ سے دنیا کی رنگینیاں قائم ہیں۔ جن کے ہاتھ ریشم بْنتے ہیں لیکن ان کا تعلق ایسے پسے ہوئے طبقے سے ہے جوپھٹے کپڑے پہنتے اور ننگے پاؤ ں چلنے پر مجبور ہیں۔ جو جوتے بنا تو سکتے ہیں لیکن پہن نہیں سکتے۔جو فروٹ بیچ تو سکتے ہیں مگر کھا نہیں سکتے۔ جو کوٹھیاں بنا تے ہیں مگر خود تاریک جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

شاکر نے ان لوگوں کی بات کی جو گندم اْٹھا سکتے ہیں خرید نہیں سکتے۔ جو دوسروں کا سہارا ہیں لیکن خود پہ بوجھ ہیں۔شاکر نے ان لوگوں کی بات کی۔جن کے بچے ڈھیر سے رزق چنتے ہیں۔شاکر شجاع آبادی کو عشق کی حد تک چاہنے کی وجہ یہی ہے کہ وہ ہجر و وصل کی قید و بند میں نہیں رہا۔وہ اس مجبور کے احساس کا مالک ہے جس کے اپنے بچے تو بھوک سے رات بھر سو نہیں سکتے لیکن وہ دوسروں کے بچوں کو کھلاتے پلاتے شام کر دیتا ہے۔

شاکر کا منفرد انداز کہ شاکر غریبوں کے حق کے لیے خدا کے سامنے گڑگڑاتا اور آواز بلند کرتا ہے اور یہی شاکر کی مقبولیت کی وجہ ہے۔بندہ بعض اوقات سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاکر کا خدا سے کتنا گہرا تعلق ہے۔وہ کس خوبصورتی سے خدا ئے بزرگ و برترسے گفتگوکرتے ہوئے کہتا ہے کہ

میڈا رازق رعایت کر نمازاں رات دیاں کر ڈے
جو روٹی رات دی پوری کریندے شام تھی ویندی

امید اور رجائیت کے شاعر شاکر کی شاعری روح پر اثر ڈالتی ہے۔اسی لئے ان کا نام سُنتے ہی شاعری کے دلدادہ مشاعروں میں کھینچے چلے آتے۔ شاکر جہاں نوجوان نسل کو سماجی و معاشی عدم مساوات کے خلاف ریاست کے حکمرانوں کو جھنجھوڑنے کے لیے آواز اُٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں وہاں انہوں نے اپنی شاعری میں مایوسی کی بجائے بھر پور انداز میں زندگی گزارنے کا درس بھی دیا ہے۔

شاکر شجاع آبادی کی شاعری میں ظلم،طبقاتی تقسیم،منافقت،معاشرے کے دوہرے روّیوں، امن کے دشمنوں کے خلاف نفرت اور مظلوم و غریب کی صدا ملتی ہے۔خواجہ غلام فریدؒ اورمیاں محمد بخش کو انہوں بہت سنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا مسئلہ صرف سرائیکی وسیب نہیں ہے۔ میں تو پوری دنیا کے مظلوم لوگوں کی بات کرتا ہوں۔چاہے کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو۔ان کا کہنا ہے کہ میں زیادہ سکول نہیں گیا سب کچھ غور کرنے سے اور دنیا کے تجربات سے سیکھا ہے۔

ایک مشاعرے میں جہاں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء اور پروفیسرز ان کی شاعری سننے کے لیے جمع تھے ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان کیا محسوس کر رہے ہیں۔ تو انھوں نے کہا کہ میں بچپن میں پڑھ لکھ کر سائنس دان بننا چاہتا تھالیکن غربت کی وجہ سے نہ پڑھ سکاجس کا افسوس ہوتا ہے۔ لیکن اب خوشی ہوتی ہے کہ میں لوگوں کی آواز بنا ہوں کہ بہت سے پڑھے لکھے لوگ مجھے سنتے ہیں اور میرے بارے میں لکھتے بھی ہیں۔

ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پسماندگی کی اصل وجہ وڈیروں کا قابض ہونا اور لوگوں کا ان کے خلاف نہ اٹھنا ہے۔وہ سمجھتے ہیں اگر لوگوں میں ان کی غلامی سے نکلنے کا شعور بیدار کیا جائے کہ کیسے نکلنا ہے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔شاکر شجاع آبادی کے آنسو ایک نئی فکر کی پرورش کر رہے ہیں۔وہ ایک نیا معاشرہ تخلیق کر رہا ہے۔جس میں لوگ مذہب،سیاست اور لسانیت کے بجائے ظالم اور مظلوم کے نام پر لڑیں گے۔ وہ فرقہ واریت کے بجائے سماجی انصاف کے حصول کے لیے ٹکرائیں گے۔

شاکر شجاع آبادی کے آنسوؤں میں بے بسی کے خلاف صرف احتجاج ہی نہیں بلکہ اپنے عہد کی مکمل بغاوت کا سامان موجود ہے۔شاکر شجاع آبادی کی برداشت شعروں میں ڈھلتی ہے تو قہر بن جاتی ہے۔ شاید اس دھرتی پر وہ وقت آن پہنچا ہے جب سچے لوگ صرف تاریخ میں ہی نہیں اپنے عہد میں بھی جئیں گے۔ ان کی فکر سے وہ چراغ جلنا شروع ہو چکے ہیں جنہیں زمانے کی ہوابجھا نہ سکے گی۔

شاکر شجاع آبادی کی اولاد میں سے کوئی بھی شاعری نہیں کرتا۔ شاکرکا اس بارے میں اپنا ایک خاص نظریہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے بچوں کو شاعری کرنے سے منع کیا ہے۔ یہ اگر مجھ سے اچھی شاعری کر سکیں تو ضرور کریں اور مجھ سے اچھی شاعری نہ کر سکیں تو بالکل بھی نہ کریں۔شاکر شجاع آبادی ہاکی پسندکرتے ہیں۔ اب کرکٹ دیکھتے ہیں۔

کلاسیکی موسیقی اور خصوصاً راگ ”سورٹھ“انہیں پسند ہے۔گلو کارہ منی بیگم سرائیکی گلوکار منصور ملنگی،شوکت علی اور کہروڑ پکا کے گلو کار اشرف خان کو غور سے سنتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو ان کی پسندیدہ شخصیت تھی،شعراء میں مرزااسداللہ غالب،محسن نقوی، میاں محمد بخش اور پیر نصیر الدین نصیر پسند ہیں۔

ان کی شاعری کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں جن میں ٭ کلامِ شاکر ٭ لہو دا عرق ٭ پیلے پتر ٭ بلدیاں ہنجھوں ٭ گلاب سارے تمہیں مبارک ٭ خدا جانے ٭ پتھر موم ٭ شاکر دیاں غزلاں ٭ منافقاں توں خدا بچاوے ٭ پتہ لگ ویندے ٭ شاکر دے ڈوہڑے ٭ روسیں توں دھاڑیں مار کے ٭ امن کائنی تاں کجھ کائنی ان کے مجموعہ ہائے کلام ہیں۔راجہ رام کی تنگ و تاریک گلیوں میں علم کی روشنیاں بانٹنے والا شاکر شجاع آبادی اپنے عہد میں بہت مقبول ہے۔ لیکن یہ مقبولیت اسے دو وقت کی روٹی نہیں دیتی۔بیماری اور انتہائی غربت میں زندگی بسر کرنیوالے شاکر سے کوئی پوچھے کہ روزمرّہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے معلوم نہیں انہیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔
شاکر کہتا ہے

جیویں عمر نبھی ہے شاکر دی
ہک منٹ نبھا پتا لگ ویندے

یعنی جیسے شاکر نے پوری زندگی گزاری ہے۔اس طرح چند گھڑیاں ہی گزار کر دیکھ لیں۔ معلوم ہو جائے گا کہ یہ کتنی مشکل زندگی ہے۔شاکر شجاع آبادی کی شاعری کا مجموعہ شائع کرنے کے لیے نیشنل بُک فاؤنڈیشن کو آگے بڑھنا ہوگا اور شاکر کی ارد گرد بکھری شاعری کو جمع کرکے اسے شائع کیا جانا چاہیے۔ اربابِ اختیار کوبڑے شہروں سے نکل کر دور دراز دیہاتوں میں شاکر شجاع آبادی جیسے نگینوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جو وسائل کی کمی اور فاصلوں کی دوری کی وجہ سے وہ رنگ نہں دکھلا سکے جو ان کا حق ہے۔یہ حکومت اور ہم سب کے لئے سوچنے کا مقام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں