58

آئینی حقوق کے ایشو پرسب کومل بیٹھ کر کام کرنا ہوگا: وزیراعلیٰ

گلگت (ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الر حمن نے کہا ہے کہ میرے نزدیک گلگت بلتستان میں آئینی حقوق کے حوالے سے مشہور نعرہ صوبے کا ہے مگر صوبہ بنانے میں ریاست کی کچھ مجبوریاں ہیں اس لئے وفاق میں گلگت بلتستان آرڈر 2019پر کام ہورہا ہے اور آرڈر 2019کو گلگت بلتستان اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے منظوری حاصل کر کے باقائدہ ایکٹ بنانے پر وفاق نے اتفاق کیا ہے اور ماحول سازگار بنانے کے لئے مجھے ذمہ داریاں دی ہیں۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2019ایک لحاظ سے آرڈر 2018کی کاپی ہے البتہ آرڈر 2018میں ججوں کی تقرری کے لئے جوڈیشل کمیٹی بنانے کی شق نکالی گئی تھی اس مر تبہ ہماری بات تسلیم کی گئی ہے اور آرڈر2019میں ججز تقرری کے لئے جوڈیشل کمیٹی کی شق شامل کی گئی ہے انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان کا صرف آدھا حصہ متنازعہ ہے ۔ آرڈر2019کو پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کر کے ایکٹ آف پارلیمنٹ بنایا جاتا تو پھر لوگ اعتراض کرتے کہ جس پارلیمنٹ میں ہماری نمائندگی میں ہی نہیں اس پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے ؟ اس لئے اس اعتراض سے بچنے کے لئے گلگت بلتستان آرڈر 2019کو گلگت بلتستان اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل کے مشترکہ اجلاس سے منظوری حاصل کرکے ایکٹ کی شکل دی جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ آئینی حقوق کے حوالے سے جتنے بھی اجلاس ہوئے اس میں گورنر گلگت بلتستان نے ایک لفظ نہیں کہا خاموشی توڑنے کا میں نے کہا بھی لیکن انہوں نے خاموشی نہیں توڑی شاید پہلی مرتبہ اس قسم کے اجلاس میں شرکت کی تھی اس لئے وہ حیران تھے ۔انہوں نے کہا کہ آئینی حقوق کے ایشو پر ہمیں مل بیٹھ کر کام کرنا ہوگا کچھ لوگ میری دشمنی میں بہت آگے چلے جاتے ہیں کچھ لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایشو ختم ہوگیا تو وہ سیاست کس طرح کرینگے ۔

ہم لوگ سیاسی کارکن ہیں کچھ علاقائی پارٹی کے لوگ ہمیں زر خرید غلام کے نام پر طعنے بھی دیتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی منشور نہیں ہے پاکستان مسلم لیگ کے پاس منشور ہے اور ہم نے وہ نعرہ نہیں لگانا ہے جس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو اس وقت زمینوں کا مسئلہ ہے تو کچھ لوگ زمینوں کا نعرہ لگا کر عوام کے جذبات کو ابھارتے ہیں اور مشہور نعرے لگاکر گلگت بلتستان کے عوام کو دھوکے میں رکھ رہے ہیں ہمیں شہرت حاصل کر نے والے نعروں سے نکلنا ہوگا اور ہمیں سنجیدگی کے ساتھ آئینی حقوق کے لئے کام کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں