95

ورلڈ کپ ڈائری 2019 … شعورمیڈیا نیٹ ورک

عنوان: اگلا مقابلہ آئی لینڈرز سے

ازقلم: فیض رسول ہاشمی
بہاولپور

31 مئی کو مرجھائے ہوئے چہروں پر تین دن بعد لالی واپس آگئی ناٹنگھم کی اداس سڑکوں پر “دل دل پاکستان” کی صدائیں کانوں کی سماعت ہورہی تھیں ٹرینٹ برج پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ 8ویں پوزیشن پر براجمان ٹیم کے خلاف جمعتہ الوداع پر ورلڈکپ میں اپنے دوسرے کم ترین اسکور پر دھرن تختہ ہونے والی ٹیم نے اگلے میچ میں عالمی کپ کی تاریخ میں اپنا دوسرا سب سے بڑا مجموعہ بنا ڈالا۔ 11 مسلسل ناکامیوں سے دوچار ٹیم نے جاری ٹورنامنٹ کی ہاٹ فیورٹ میزبان ٹیم کو 23 سال بعد سرپرائز شکست دیدی۔ انگلش ٹیم پہلی مرتبہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر پاکستان سے ورلڈکپ میچ ہاری۔

سرفراز اینڈ کمپنی نے قوم کو عید کا تحفہ دیدیا مگر ” عشق کے امتحان اور بھی ہیں ” کے مصداق وقت گزرنے کے ساتھ راستہ کٹھن ہوجاتا ہے۔ ہمارا اگلا مقابلہ 7جون کو برسٹل میں کمزور سمجھی جانے والی ٹیم سری لنکا سے ہے جو مکمل بکھری ہوئی معلوم ہوتی ہے لیکن میگا ایونٹ میں کئی بار اچھا کھیل پیش کرچکی ہے۔ اس میدان پر آخری بار ہم نے 1999 ورلڈکپ میں ویسٹ انڈیز کو 27 رنز سے ہرایا تھا۔

اگر پاکستان اور آئی لینڈرز کے مابین ورلڈکپ میچز پر نظر ڈالیں تو ہم ہمیشہ سے اس ٹیم پر بھاری ثابت ہوئے ہیں۔ 7 میچز میں مخالف ٹیم ایک بھی میچ نہ جیت سکی۔

پاکستان نے ورلڈکپ میں اپنی اولین جیت سری لنکا کے خلاف حاصل کی تھی۔ پہلی مرتبہ دونوں ٹیمیں 1975 ورلڈکپ میں ٹکرائیں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ٹورنامنٹ کا دوسرا بڑا اسکور 330 رنز کردیئے۔ کپتان ماجد خان ، صادق محمد اور ظہیر عباس نے بولرز کو بے بس کردیا تینوں نصف سنچریاں بنا کر پویلین لوٹے ہدف کے تعاقب میں سری لنکن ٹیم 138 رنز بنا کو آؤٹ ہوگئی 192 رنز کے مارجن سے جیت آج تک پاکستان کی دوسری بڑی کامیابی ہے۔

1979 ورلڈکپ ، دونوں ٹیموں کے درمیان کوئی میچ نہ کھیلا گیا۔

1983 ورلڈکپ ، دونوں ممالک دو مرتبہ گروپ میچز میں آمنے سامنے آئے اور مقابلے پاکستان کی جیت پر ختم ہوئے۔ شاہینوں نے اس بار میگا ایونٹ میں دھواں دار انٹری کی۔ مخالف کپتان دلیپ مینڈس نے ٹاس جیت کر بولرز کو آزمایا جو غلط ثابت ہوا۔ پاکستانی بلے بازوں نے لنکن بولرز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے 338 رنز کردیئے یہ مجموعی طور پر پاکستان کا ورلڈکپ میں چوتھا بڑا اسکور ہے۔ اس میچ میں بطور کپتان عمران خان نے تیز ترین ففٹی ، 32 گیندوں پر بنائی جو تاحال کوئی اور پاکستانی قائد نہیں بنا سکا۔ میچ پاکستان نے 50 رنز سے جیت لیا۔

اس ٹورنامنٹ میں ایک بار پھر دونوں ٹیموں کا مقابلہ لیڈز ( ہیڈنگلے ) میں ہوا۔ ٹاس ہار کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کرنا پڑی 43 رنز پر آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی اُس موقعہ پر عمران خان نے دائیں کے ہاتھ لو آرڈر بیٹسمین شاہد محبوب کے ہمراہ ڈوبتی ٹیم کو سنبھالا۔ عمران خان ورلڈکپ میں سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی بن گئے ساتھی بیٹسمین 77 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے 236 رنز کے تعاقب میں اس بار لنکن بلے باز اطمینان سے کھیل رہے تھے مگر گگلی ماسٹر عبدالقادر کی 5 وکٹوں نے جیت پاکستان کی جھولی میں ڈال دی۔

1987 ورلڈکپ ، میزبان ملک پاکستان نے ٹورنامٹ کا سفر سری لنکا کے خلاف جیت سے کیا۔ پہلی مرتبہ پاکستان نے میگا ایونٹ میں سری لنکا سے ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ جاوید میانداد کی سنچری اور رمیز راجہ کے 76 رنز کی بدولت 267/6 اسکور کر سکے۔ مخالف اوپنر روشن ماہناما نے اچھا کھیل پیش کیا اور 89 رنز بنا کر پویلین واپسی ہوئی اروندا ڈی سلوا ٹیم کی آخری امید تھے مگر عمران خان نے اُنہیں 42 رنز پر بولڈ کردیا یوں پاکستان یہ میچ بھی 15 رنز سے جیت گیا۔ اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں ہونے والا مقابلہ 113 رنز سے پاکستان نے جیت لیا۔ سلیم ملک نے سنچری اسکور کی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

1992 ورلڈکپ ، دونوں ملکوں کے درمیان چھٹا ٹاکرا ہوا اس بار سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی مگر ٹیم 212 رنز تک محدود رہی کپتان ڈی سلوا نے 43 رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب میں جاوید میانداد اور سلیم ملک نے نصف سنچریاں اسکور کیں۔ پاکستان یہ مقابلہ آخری اوور میں 4 وکٹوں سے جیت گیا۔ اگلے 19 سال پاکستان اور سری لنکا کے مابین کوئی ورلڈکپ میچ نہ کھیلا گیا۔

آخری اور ساتواں مقابلہ 2011 ورلڈکپ ، کولمبو میں کھیلا گیا۔ پاکستانی قائد ، شاہد آفریدی نے ٹاس جیت کر مخالف بولرز پر نبرد آزما ہونے کا فیصلہ کیا۔ محمد حفیظ اور کامران اکمل نے اچھی شروعات دی۔ یونس خان اور مصباح الحق نے مجموعہ 277 رنز تک پہنچا دیا۔ جواب میں سنگاکارا الیون کی وکٹیں وقفہ وقفہ سے گرتی گئیں اور سنسنی خیز مقابلہ پاکستان نے 11 رنز سے جیت لیا۔ شاہد آفریدی نے 4 وکٹیں لے کر مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کیا۔

دونوں ممالک 8 سال بعد ورلڈکپ میں میچ کھیلنے جارہی ہیں۔ شارٹس پچ بولنگ سے پریشان ، پاکستان کرکٹ ٹیم 11 مسلسل شکست کھانے کے بعد جیت کو منانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ گزشتہ میچ میں تمام کھلاڑیوں کی کنٹری بیوشن نے نمبر ون ٹیم کو زیر کیا۔ فخر زمان ، امام ، بابر جس میچ میں رنز کریں گے پاکستانی ٹیم بڑا مجموعہ اسکور کرسکتی ہے۔ محمد حفیظ کیچ ڈراپ ہونے کے بعد انگلش بولرز پر جم کر برسے کپتان سرفراز احمد نے لمبی ہٹس تو نہیں کیں مگر 55 رنز 125 کے اسٹرائیک ریٹ سے کیے۔ شعیب ملک کھل کر نہیں کھیل پارہے۔

آصف علی ابھی ایک سانحہ سے دوچار ہیں آہستہ آہستہ پاکستان کے لیے قیمتی اننگز کھیلتے نظر آئیں گے۔ وہاب ریاض جو دو ہفتہ پہلے کہیں نظر نہیں آرہے تھے وہ اب ٹیم میں ایڈجسٹ ہوچکے ہیں 14 ورلڈکپ گیمز میں 28 وکٹیں حاصل کر لی ہیں۔ محمد عامر جو ڈیڑھ سال میں 14 میچ کھیل کر 5 وکٹیں لے سکے تھے وہ اب 2 اننگز میں 5 کھلاڑی آؤٹ کرچکے ہیں۔ حسن علی وکٹیں نہیں لے پارہا جسکا احساس انہیں خود ہے لیکن پچھلے میچ میں نپی تلی گیند بازی کی۔ شاداب خان کی صلاحیتوں پر کسی کو شک نہیں۔ فیلڈنگ یونٹ گزشتہ ایشیا کپ سے کمزور ہوچکا ہے۔ ٹورنامنٹ میں بقا کیلئے اس کمزوری کو دور کرنا ہوگا۔

ڈیموتھ کرونارتنے الیون کو اس بار مبصرین و ماہرین ٹورنامنٹ کی کمزور ٹیم سمجھتے ہیں مگر ہمیں آئی لینڈرز کو کمزور نہیں سمجھنا چاہئے۔ لہرو تھری مانے ، کرونارتنے ، کوسل پریرا ، کوسل مینڈس انجیلو میتھیوز ، تھیسارا پریرا بیٹنگ میں اچھا کھیل پیش کرسکتے ہیں۔ سورنگا لکمل اور ، لاستھ ملنگا کی بولنگ ہمیں تنگ کرسکتی ہے۔

پاکستان کو اس میچ میں جیت کے ساتھ ساتھ رن ریٹ کو بہتر بنانا ہے کیونکہ یہ فیکٹر سیمی فائنل لائن اپ کیلئے اہم ثابت ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں