56

ہچکولے کھاتی ٹیم کا اگلا مقابلہ میزبان ٹیم سے … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: فیض رسول ہاشمی
بہاولپور

31 مئی جمعہ کے دن ناٹنگھم کی سڑکوں پر پاکستان زندہ باد کا نعرہ گونج رہا تھا۔ ٹرینٹ برج کے اندر و باہر پاکستان کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں شائق موجود تھے۔ پاکستان میں عوام الناس نے جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے ٹی وی آن کیے۔

نوجوانوں نے وٹس ایپ اور فیس بک پر شاہینوں کی جیت کے لیے سٹیٹس اپلوڈ کیے۔ قوم شائد ، ٹیم کی مسلسل ناکامیوں کو بُھلا چکی تھی اور ایک سنہری باب کے کُھلنے کا انتظار کررہی تھی۔ مگر کالی آندھی چلنے سے خوشی کے سارے چراغ بُجھ گئے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کے سفرِ ورلڈکپ کے آغاز میں ہی پاؤں پھنسل گئے۔ ہولڈر الیون نے ٹاس جیت کر بولنگ کرتے ہوئے سرفراز احمد کی ٹیم کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا۔

پاکستان ٹیم ورلڈکپ 2019 کے اپنے پہلے میچ میں رسوا ہوگئی۔

پوری ٹیم 105 رنز پر دھرن تختہ ہوئی یہ قومی ٹیم کا ورلڈکپ میچ میں دوسرا کم ترین اسکور تھا اور گیندوں کے لحاظ سے سب سے مختصر اننگ ثابت ہوئی۔ کیرئیبین پیس اٹیک نے “شارٹ پچ بولنگ” کو ہتھیار بنا کر استعمال کیا اور ہمارے بلے باز اُسکا نشانہ بنتے چلے گئے۔ قومی ٹیم اپنی 46 سالہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار 11 مسلسل میچز ہار چکی ہے۔

ہچکولے کھاتی ٹیم کا اگلا مقابلہ میزبان ٹیم ( انگلینڈ ) سے ہے جو عصرِ حاضر کی سب سے خطرناک سائیڈ ہونے کے ساتھ میگا ایونٹ کی فائنلسٹ نظر آرہی ہے۔ ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل ہم گوروں سے وائٹ واش ہوچکے ہیں۔ ہائی اسکورنگ میچز کے بعد ہمارے بولنگ ڈیپارٹمنٹ نے گھٹنے ٹیک دیئے تھے۔
اگر ورلڈکپ میچز کی بات کریں تو دونوں ٹیمیں 9 مرتبہ آمنے سامنے آچکی ہیں جیت ہار کا تناسب تاحال برابر ہے اور ایک میچ بارش کی نذر ہوا تھا۔ اولین ورلڈکپ میں دونوں ممالک کے مابین کوئی مقابلہ نہ ہوسکا۔ 1979 ورلڈکپ میں پہلی بار انگلینڈ اور پاکستان کا مقابلہ ہوا جو میزبان ٹیم نے اختتامی لمحات میں جیت لیا۔ لیڈز ( ہیڈنگلے ) میں پاکستانی قائد آصف اقبال نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو کسی حد تک درست ثابت ہوا انگلش ٹیم مطلوبہ 60 اوورز میں 165/9 رنز بنا سکی۔ جواب میں پاکستان ٹیم کا آغاز مایوس کن تھا 34 رنز پر 6 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے کپتان آصف اقبال نے وسیم راجہ اور عمران خان کے ساتھ مل کر اسکور کو آگے بڑھایا مگر پوری ٹیم 56 اوورز میں 151 کے مجموعہ پر ڈھیر ہوگئی۔

1983 ورلڈکپ کے گروپ میچز میں دو مرتبہ انگلش ٹیم نے پاکستان کو ہرایا۔ پہلے میچ میں کپتان عمران خان نے ٹاس جیت کر بلے بازوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا ظہیر عباس کے 84* رنز کے علاوہ کوئی ڈٹ کر نہ کھیل سکا۔ انگلینڈ نے 194 رنز کا ہدف 50 اوورز میں پورا کرلیا ایلن لیمب نے عبدالقادر کو چھکا لگا کر میچ ختم کیا۔ دوسرا مقابلہ مانچسٹر ( اولڈ ٹریفورڈ ) میں منعقد ہوا پاکستانی بلے بازوں نے اسکور 232 رنز تک پہنچایا۔ انگلش اوپنرز نے پاکستانی بولرز کو بے بس کردیا اور میچ 7 وکٹوں سے جیت لیا۔

1987 ورلڈکپ میں پاکستان نے اپنی سرزمین پر دو مرتبہ انگلینڈ کو زیر کیا۔ راولپنڈی میں ہونے والا میچ 18 رنز سے جیتا اس میچ کے ہیرو عبدالقادر تھے جنہوں نے 31 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں۔ کراچی میں ہونے والا میچ میزبان ٹیم نے رمیز راجہ اور سلیم ملک کی زبردست بیٹنگ کی بدولت جیتا مگر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے والے عمران خان پلیئر آف دی میچ قرار پائے۔

1992 ورلڈکپ میں پاکستان نے اپنا تیسرا میچ انگلینڈ سے کھیلا۔ گراہم گوچ نے ایڈیلیڈ میں ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرتے ہوئے مخالف ٹیم کو 74 رنز پر ڈریسنگ روم بھیج دیا جو پاکستان کا ورلڈکپ کی تاریخ میں سب سے کم ترین اسکور ہے۔ لیکن ابرِ رحمت نے پاکستان کو ہار سے بچا لیا اور میچ بے نتیجہ رہا دونوں ٹیموں کو 1،1 پوائنٹ مل گیا جو پاکستان کو سیمی فائنل میں لے جانے کا پروانہ بنا۔

25 مارچ 1992 کا دن جب قومی ٹیم نے عمران خان کی قیادت میں میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ کو 22 رنز سے شکست دیکر عالمی کپ اپنے نام کیا۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلےبازی کی۔ 24 رنز پر اوپنرز رخصت ہوگئے عمران خان اور جاوید میانداد نے زبردست بلےبازی کی اختتامی اوورز میں وسیم اکرم اور انضمام الحق نے تیزی سے اسکور بورڈ کو چلایا اور 250 رنز کا ٹارگٹ سیٹ کردیا۔ انگلش ٹیم کا آغاز اچھا نہ ہوا 69 رنز پر اہم بیٹسمین آؤٹ ہوچکے تھے۔ ٹیم کے تجربہ کار بلے باز ایلن لیمب اور نیل فیئربرادر نے ڈوبتی کشتی کو سہارا دیا مگر پاکستانی بولرز نے 227 رنز پر انگلش ٹیم کو ملیہ میٹ کردیا۔ وسیم اکرم فائنل کے ہیرو قرار پائے۔

1996ورلڈکپ ، روشنیوں کے شہر میں ہونے والا مقابلہ پاکستان نے 7 وکٹوں سے جیتا 250 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے ہمارے ٹاپ آرڈر نے انگلش بولرز کا جلوس نکال دیا۔

1999 ورلڈکپ کا انعقاد کرکٹ کی جنم بھومی میں ہوا مگر پاکستان اور انگلینڈ کا ٹاکرا نہ ہوسکا۔

2003 کیپ ٹاؤن میں ہونے والا 9واں مقابلہ انگلینڈ نے 112 رنز سے جیتا یہ کسی ٹیم کی پاکستان کے خلاف رنز کے حساب سے دوسری بڑی جیت ہے۔ اس میچ کے ہیرو جیمز ایندرسن رہے جنہوں نے 4 پلیئرز کو میدان بدر کیا۔

2003 کے بعد پاکستان اور انگلینڈ پہلی بار ورلڈکپ میچ میں آمنے سامنے آئیں گے۔ میگا ایونٹ کے پہلے میچ میں پروٹیز کو 104 رنز سے ہرانے والی اوئن مورگن الیون ہم سے مضبوط ہے۔ ٹاپ آرڈر سے لے کر ٹیل اینڈرز تک بیٹنگ کے گُر جانتے ہیں۔ ہماری ٹیم گزشتہ میچ میں شارٹ پچ گیندوں پر ایک بار پھر سے ایکسپوز ہوچکی ہے ٹیم کا مورال آئے دن گِرتا جارہا ہے۔

گرانٹ فلاور تین چار سال سے ہمارا بیٹنگ کوچ ہے مگر ہمارے بلےباز اب تک اُچھلتی گیندوں کو کنٹرول نہیں کر پا رہے ہر وقت تنقید کی زد میں مکی آرتھر اور انضی بھائی آتے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ سیریز کے دوران شان مسعود نے مخالف بولرز کے خلاف ہُک اور پُل شاٹس کھیلی تھیں وہ اپنی بیٹنگ صلاحیتوں کو پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ کھیل آکر نِکھارنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اگلے میچ کیلئے ٹیم میں دو تبدیلیاں ممکن ہوسکتی ہیں حارث سہیل اور وہاب ریاض کو بیٹھنا پڑسکتا ہے۔ پہلے میچ میں محمد عامر نے 2017 کے بعد پہلی بار کسی میچ میں تین وکٹیں حاصل کیں انکی لینتھ اچھی تھی مگر میچ یکطرفہ تھا کیا عامر ایک میچ وننگ اسپیل کروائیں گے یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ کیونکہ دو سال سے عامر کی فارم بیٹھ چکی ہے۔ حسن علی بھی وکٹیں نہیں لے پارہا اور اکانومی و اوسط بھی کافی بڑھتی جارہی ہے کیونکہ حسن علی پیس بیٹری کو لیڈ کرتے ہیں۔ انکا فارم میں نہ آنا تشویشناک ہے۔

فخر کو پُل ، ہُک اچھا کرنا ہوگا اور سکون سے کریز پر شاٹس کھیل کر رنز بنانا ہونگے۔ امام ، بابر سے امیدیں وابستہ ہیں اگر دونوں جلد آؤٹ نہ ہوئے تو ٹیم لمبا اسکور کرسکتی ہے۔ سرفراز احمد کو ہرطرح سے ٹیم کو اٹھانا ہے۔ پہلے میچ میں بہت سی غلطیاں ہوئیں محمد حفیظ نے انگلینڈ سیریز میں اچھی بولنگ کی پھر ہٹا دیا گیا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف تو گیند تک نہ تھمائی گئی۔ حفیظ ٹیم کا سینئر کھلاڑی ہے پہلے میچ میں بولرز کی طرح پھنس کر وکٹ تھرو کی تھی انہیں اپنا رول مکمل ادا کرنا ہوگا۔

عماد وسیم 4 سال سے قومی ٹیم میں ہیں مگر ون ڈے فارمیٹ انہوں نے اب تک قومی ٹیم کے لیے زیادہ اچھا نہیں کیا۔ اس سال وہ بہتر اسٹرائک ریٹ سے رنز کرتے نظر آئے ہیں مگر تسلسل نہیں ہے۔ بولنگ بھی T20 والی ہے۔ شاداب کی پریکٹس کم نظر آرہی ہے۔ امید ہے وہ انگلینڈ کے خلاف اچھا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں