67

دم توڑتی”عید کارڈ“کی خوبصورت روایت … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

عید الفطر کے ہمارے معاشرے میں کئی رنگ ہیں۔ جیسے جیسے ماہِ رمضان المبارک اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو ملک بھر کے بازار عید کی اشیاء کپڑوں، چوڑیوں، مہندی اور کھانے پینے کی چیزوں سے بھر جاتے ہیں۔ یہ سب چیزیں اس تہوار کا خاصہ ہیں۔عید کی آمد کا اعلان صرف چاند رات کو رویت ِ ہلال کمیٹی پر موقوف نہیں بلکہ اس تہوار سے جڑی کئی ایسی روایات ہیں جو کئی ہفتے قبل سے یہ پتہ دینے لگتی ہیں کہ عید کی آمد آمد ہے۔ ان میں ایک خوبصورت روایت عید کے موقع پر عید کارڈ دینے کی بھی ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے ماند پڑتی جا رہی ہے بلکہ اب تو اس روایت کا دم لبوں پر ہے۔

غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کئی دولت مند مسلمان گھرانے صدیوں سے سجاوٹ والے خطاطی شدہ پیغامات بھیجا کرتے تھے۔ لیکن برِ صغیر پاک و ہندمیں عید کارڈ بھیجنے کی روایت کا آغاز انیسویں صدی کے آخر ی سالوں میں ہوا۔شاید اس کے پیچھے دو وجوہات تھیں ایک تو ریلوے کا پھیلاؤ کیوں کہ1853میں ریلوے نظام شروع ہوا جودن بدن پھیلتا گیا۔ریلوے کی وجہ سے جہاں لوگ اپنے کاروبار اور روز گار کے سلسلے میں زیادہ دور جانے لگے تو وہاں ڈاک کا نظام بھی بہتر ہوا۔ اور دوسری پرنٹنگ کی نئی سہولیات کا متعارف ہونا تھا۔

ہندوستان کی مخصوص تصاویر والے کارڈ بیسویں صدی کے اوائل میں پرنٹ ہونا شروع ہوئے جو لاہور میں حافظ قمرالدین اینڈ سنز،حافظ غلام محمد اینڈ سنزاور محمد حسین اینڈ برادرز،دہلی میں محبوب المطابع، بمبئی میں ایسٹرن کمرشل شبرٹی کارپوریشن اور بولٹن فائن آرٹ لیتھو گرافر وہ پہلی کمپنیاں تھیں جنہوں نے ہندوستان میں عید کارڈز کی چھپائی کے کاروبار میں قدم رکھا۔لیکن لندن کی کمپنی رافیل ٹک کے چھاپے گئے ہندوستانی مسلم طرز ِ تعمیر کی تصاویروالے پوسٹ کارڈ بھی استعمال کیئے جاتے تھے۔کاروباری نقطہ نظر سے بھی یہ ایک منافع بخش کام سمجھا جاتا تھا۔

ماہِ رمضان شروع ہوتے ہی یہ پریشانی شروع ہو جاتی تھی کہ کب کارڈ لینے جائیں گے اور کب بھیجیں گے،اساتذہئ کرام، دوستوں،چچا، چچی،خالہ،خالواور کزنز وغیرہ کی فہرست بنتی تھی جنہیں بذریعہ ڈاک عید کارڈ بھیجنے ہوتے تھے۔رمضان المبارک شروع ہوتے ہی رنگ برنگے عید کارڈزکی فروخت کیلئے مارکیٹوں میں خصوصی سٹالز سج جاتے تھے۔ جبکہ مہینے کے وسط اور آخری عشرے تک پہنچتے پہنچتے ان کی خریداری اپنے عروج پر پہنچ جاتی تھی۔عید کارڈ کے سٹالوں پر پاؤں دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ خاص طور پر لوگ دوسرے شہروں اور بیرونِ ملک بسنے والے دوستوں اور رشتہ داروں کو عام ڈاک یا ایئر میل کے ذریعے عید کارڈز پورے اہتمام کے ساتھ بھجوایا کرتے تھے۔

عید کارڈ اپنے ہاتھ سے لکھنا اور نقش و نگار بنانا بہت عجیب لگتا تھا۔لڑکیاں اپنی سہیلیوں کو عید کارڈ کے ساتھ چوڑیاں اور لڑکے اپنے دوستوں کو عید کارڈ کے ساتھ رومال کھڑی یا دیگرلوازمات دیاکرتے تھے۔ عید کارڈ بھیجنے اور وصول کرنے والے دونوں کیلئے مسرت کا باعث ہوا کرتے تھے۔ انتہائی دلی جذبے کے اظہار کے ساتھ عید کارڈ کے ذریعے عید مبارک دی جاتی۔عید کارڈ کا انتظار کیا جاتا تھا۔ گھروں میں ایک عرصے تک عید کارڈ بھیجنے والے کا ذکر رہتا تھا۔جو لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے وہ بھی عید کارڈ بھیجاکرتے تھے۔قلمی دوستی کا خوبصورت رشتہ قائم تھا۔قلم سے جو لفظ نکلتے تھے وہ دلوں کی الماریوں میں ز ندہ رہتے تھے۔ جبکہ میسج چلتے پھرتے گردشی محبت ناموں کی ایک مصنوعی زبان ہے جو زیادہ عرصہ محفوظ نہیں رہ سکتے۔بڑی عمر کے لوگوں کے علاوہ بچے اس سرگرمی میں خاص طور پر دلچسپی لیتے تھے۔ مارکیٹ میں بچوں کی مناسبت سے چھوٹے اور بڑے سائز میں عید کارڈ دستیاب ہوتے تھے۔

ویسے بھی عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ عید سے منسلک سرگرمیوں سے جو خوشی بچوں کو ملتی ہے وہ عام آدمی محسوس نہیں کر سکتا۔ بچوں کے عید کارڈوں کی انفرادیت اس کے اندر لکھے گئے مضمون،کارٹون،باربی ڈول اور نقش سے بھی ظاہر ہوتی تھی جو صرف عید مبارک کے پیغام تک محدود نہیں ہوتا تھا بلکہ مختلف اشعار سے ان کی معصومیت اور شرارت ظاہر ہوتی تھی۔پہلے اچھے عید کارڈ کے انتخاب میں بھی بہت وقت صرف کیا جاتا تھا اور مختلف سٹالوں میں گھوم پھر کر پسند کے کارڈ منتخب کیے جاتے تھے۔

عیدین کے دنوں میں محکمہ ڈاک کا کام بھی معمول سے بڑھ جاتا تھا بر وقت عید کارڈ کی ترسیل کیلئے باقاعدہ ہدایت نامہ جاری کیا جاتا کہ فلاں تاریخ تک عید کارڈ سپردِ ڈاک کر دیئے جائیں اور محکمہ ڈاک ان عید کارڈوں کی ترسیل کیلئے خصوصی انتظامات کیاکرتا تھا۔ جس بندے کے نام عید کارڈ ہوتاڈاکیا بھی بڑے اہتمام کے ساتھ عید کارڈ لے کر اسے ڈھونڈتا اور عید کارڈ دیتے ہوئے اسے عید مبارک کہتا۔بندہ عید کارڈ وصول کر کے ڈاکیئے کو عیدی دیتا تو ڈاکیا خوشی سے شکریہ ادا کر کے اپنی راہ لیتا۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آتی رہتی ہے اور اب صورت حال بالکل بدل گئی ہے۔ بلکہ عید کارڈ بھیجنے کی خوبصورت روایت کا گذشتہ کئی سالوں سے دم لبوں پرہے۔اب کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ عید کارڈ خریدنے مارکیٹ میں جائے اور پھر اسے پہنچاتا پھرے۔ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔۔کمیونی کیشن ٹیکنالوجی میں انقلابی ترقی کے بعد سماجی رابطوں کے روایتی طریقے تیزی سے معدوم ہورہے ہیں۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے اس دور میں جب ہاتھ سے لکھے ہوئے خطوط نے بھی اپنی افادیت کھو دی ہے تو عید کارڈز کیلئے کسی کے پاس کہاں وقت ہو گا۔عید کارڈ کا شمار اب سابقہ روایات میں شمار کیا جانے لگا ہے۔

عید پر مبارکباد دینے کا رواج تو اب بھی قائم ضرور ہے لیکن ذریعہ تبدیل ہو چکا ہے۔ نہ تو اب لوگوں کے پاس عید کارڈز کے اسٹالز پر جانے کا وقت ہے اور نہ ہی لوگ انہیں پوسٹ کرنے کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ عید کے دن موبائل فون نیٹ ورکس پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ تاہم اس سے وابستہ افراد نت نئی جدت کے ساتھ اس روایت کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اب سب لوگ عید کی مبارکبادیں ایس ایم ایس،واٹس اپ یا ای میل وغیرہ کے ذریعے بھیجتے ہیں۔

عیدکارڈ فروخت کرنیوالوں کے مطابق عید کارڈز کے خریدار زیادہ تر نوجوان تھے لیکن اب موبائل فون، انٹرنیٹ،ای میل اور فیس بک کے باعث عید کارڈ بھیجنے کا رجحان کم ہوگیا ہے۔زیادہ تر نوجوان کمپیوٹر پر ہی کارڈ ڈیزائن کرکے ای میل کے ذریعے دوستوں کو میل کردیتے ہیں۔اب موبائل فون کے ذریعے آسانی سے ایک ہی وقت میں اپنے تمام جاننے والوں کو عید مبارک کے پیغامات بھیجے جاسکتے ہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بسنے والے دوست، رشتہ دار سے فون پر براہ راست بات کر کے اسے اسی وقت مبارکباد دے دیتے ہیں اور آج کل اس پر زیادہ خرچ بھی نہیں آتا۔

عید کارڈوں کی روایت کم ہونے کی وجہ صرف معاشی نہیں بلکہ انسان سے انسان کی محبت کمزور اور مشینوں سے مضبو ط ہوتی جا رہی ہے۔ہم میں سے وہ لوگ جنہوں نے عید کارڈ منتخب کرنے،لکھنے،بھیجنے اوروصول کرنے کا لطف لیا ہے وہ بے شک فون پر گھنٹوں باتیں کرتے رہیں لیکن چند بٹن دبانے یا کلکس میں وہ لطف کبھی نہیں پا سکتے جومزہ اور جوش عید کارڈز میں ہوتا تھا۔ اب تو بعض بک سٹالوں یا ہاتھ رہڑیوں پر عید کارڈ زنمایاں جگہوں پر لگانے کے باوجود توجہ کا مرکز نہیں بن سکتے۔ مرد و خواتین دلچسپی لیئے بغیر گزر جاتے ہیں۔ اگر یہی حال رہا تو ہماری آنے والی نسلیں پوچھیں گی کی عید کارڈ کیا ہوتا ہے؟

اس کے علاوہ حالیہ برسوں میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ عید کے موقع پر بچوں میں ماضی کی طرح نئے سوٹ شلوار قمیض سلوانے کی بجائے ریڈی میڈ سوٹ پہننے کا رواج پروان چڑھتا جا رہا ہے۔بحیثیت قوم ہمیں اس بات کی شعوری کوشش کرنی چایئے کہ ماضی کی کچھ خوبصورت روایات اگر اب کسی وجہ سے برقرار نہیں ہیں تو کم از کم ان کے پیچھے باہمی محبت اور ہمدردی کا جو جذبہ کار فرما ہے اسے کسی صورت ماند نہ پڑنے دیا جائے۔ ان جذبوں کو زندہ رکھنے کی ضرورت آج پہلے سے بھی زیادہ ہے۔

اسی سوچ کے تحت عید کا دن ہمارے لیے حقیقی طور پر عید کا دن تب ہی ثابت ہو سکے گا کہ جب ہم عید کے موقع پر ان لوگوں کو بھی یاد رکھیں گے جنہیں عید کی خوشیاں میسر نہیں ہیں۔بہر حال تمام اہلِ وطن کو عید مبارک۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں