47

امریکہ اور لوہار کی بھٹی … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: سید علی رضوی

امریکی ریاست ورجینیا کے ساحل پر فاٸرنگ کرکے 12 افراد کو مار دیا گیا۔ یہ تازہ واقعہ گزشتہ رات تقریباً پونے دس بجے پیش آیا۔ اس سال یعنی 2019 میں امریکہ میں فاٸرنگ کا یہ 150 واں واقعہ ہے۔ 2019 میں اب تک کے واقعات میں 5800 سے زاٸد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

امریکی عوام کو جس بری طرح گن کلچر نے جکڑا ہوا ہے اس سے پیچھا چھڑانا فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔ کیا وجہ ہے کہ تسلل کےساتھ ایسے واقعات ہو رہے ہیں اور حکومت چاہے ریپبلکن(Republican) پارٹی کی ہو یا ڈیموکریٹ (Democrat) پارٹی کی ہو، سواۓ زبانی جمع خرچ کے کوٸی ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے کوٸی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ ہر واقعے کے بعد عوام دہاٸی دیتے نظر آتے ہیں لیکن سیاستدان ماسواۓ اکا دکا کے اس مسٸلے پر بات کرنے کو تیار نہیں۔

ایک غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق پچھلے دس سالوں میں امریکہ میں پچاس ہزار سے زاٸد لوگ اس قسم کے واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن پھر بھی کبھی القاعدہ, کبھی داعش اور کبھی طالبان کو ولن بنا کر پیش کیا جاتا ہے حالانکہ اس قسم کی دہشت گردی میں گزشتہ بیس سالوں میں محض پانچ ہزار افراد مارے گٸے۔

امریکہ کو جس بری طرح سرمایہ داروں نے جکڑا ہوا ہے اسکی بہت بڑی دو مثالیں ہیں؛

پہلی مثال اسراٸیل کے حوالے سے ہے۔ یہاں کوٸی بھی اسراٸیل کے خلاف بات نہیں کرسکتا۔ کوٸی سیاستدان اگر بات کرنا بھی چاہے تب بھی نہیں کر سکتا کیونکہ اسکو جان و مال کا خطرہ لگا رہتا ہے۔ اسکے علاوہ اسراٸیل نے امریکی سیاستدانوں پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ صدر اوبامہ نے اسراٸیل کی مرضی کے بغیر ایران سے 2015 میں جوہری معاہدہ کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے غیر معروف آدمی کو صدارت دلوا دی گٸی جبکہ ہیلری کلنٹن جو کہ الیکشن جیتنے کے لیے فیورٹ امیدوار تھیں, کو ہروا کر تمام سیاستدانوں کو ایک پیغام دیا گیا کہ اگر اسراٸیل کے بغیر چلو گے تو انجام یہ ہو گا۔

دوسری بات کہ امریکہ میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری اسلحہ سازی کی صنعت میں ہوٸی ہے۔ کھربوں ڈالر کی یہ صنعت امریکہ کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکہ یہ اسلحہ دوسرے ممالک کو بھی برآمد کرتا ہے اور اپنے ملک میں بھی استعمال کرتا ہے۔ امریکہ میں خودکار راٸفل یا گن کا حصول دنیا میں سب سے آسان ہے۔ آپ بغیر لاٸسنس کے صرف شناختی کارڈ دکھا کر کوٸی بھی مہلک ہتھیار خرید سکتے ہیں۔ اور آپ پر کسی قسم کی کوٸی پابندی نہیں چاہے سو ہتھیار خرید لیں۔ جب تک ان اسلحہ ساز کمپنیوں اور سرمایہ داروں کا زور نہیں توڑا جاتا اسوقت تک امریکی عوام یوں ہی مرتے رہیں گے۔ امریکہ میں American Rifles Association نامی ایک تنظیم قاٸم ہے جو کہ بے تحاشہ پیشہ اس بات پر صرف کرتی ہے کہ خودکار ہتھیاروں پر کسی قسم کی پابندی یا جزوی کنٹرول بھی قبول نہیں۔ یہ تنظیم ہر پارٹی کو بھاری انتخابی فنڈ مہیا کرتی ہے تا کہ جو بھی جیتے وہ انکے مفادات کا تحفظ کرے۔ امریکہ میں جو سیاستدان اسراٸیل کے خلاف یا گن کنٹرول کی بات کرے اس کو امریکہ میں تقریباً غدار ہی گردانا جاتا ہے۔

آپ اندازہ کر سکتےہیں کہ لوہار کی گزر بسر ہی تپی ہوٸی بھٹی پر ہے۔ جس دن لوہار اپنی بھٹی نا تاپے اس دن لوہار کو بھوکا رہنا پڑے گا۔ دنیا میں اسوقت اصل لوہار کی بھٹی امریکی اسلحہ سازی کی صنعت ہے۔ جب تک اس بھٹی کو ٹھنڈا نہیں کیا جاتا دنیا میں امن ہو ہی نہیں سکتا۔ کوریا کا محاذ بند ہوا تو ویت نام کا محاذ کھل گیا۔ویت نام کا محاز بند ہوا تو افغانستان کا کھل گیا۔ افغانستان کا ابھی مکمل بندنہیں ہوا تو عراق اور شام کا محاذ کھل گیا۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کا بہانہ بنا کر اصل مقصد عرب ممالک کی جیبوں سے اربوں ڈالر اسلحے کا نام پر لوٹنے ہیں۔ اب دوسرے ملکوں نے بھی امریکہ کی دیکھا دیکھی اپنی اپنی بھٹیاں تیار کرنا شروع کر دی ہیں لیکن وہ ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے جہاں امریکہ اس وقت موجود ہے۔

امریکی تھنک ٹینکس اس بات کا جاٸزہ لیتے ہیں کہ کہاں جنگ برپا کرنی ہے, کب کرنی ہے اور کب تک کرنی ہے۔ وہ اگلے پچاس سال کی پلاننگ کرتے ہیں کہ کہیں بھٹی ٹھنڈی نا پڑ جاۓ۔سوچنے کا بات یہ ہے کہ جو ملک اپنے عوام پر ظلم ڈھانا بند نہیں کرتا, اپنے ہاں امن قاٸم نہیں ہونے دیتا وہ دنیا میں کیسے امن قاٸم ہونے دے گا۔ اگر دنیا میں امن قاٸم کرنا ہے تو لوہار کی بھٹی کو مل کر ٹھنڈا کرنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں