42

وزیراعلیٰ جی بی کی علی امین گنڈاپور سے ملاقات، متنازعہ امور پر گفتگو

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پورسے ملاقات ،ملاقات میں داریل کے جنگلات ،پی ایس ڈی پی کے منصوبے و دیگر امور پر تفصیلی گفتگوہوئی ،وزیر اعلی نے ملاقات میں کہا کہ داریل کھنبری کے جنگلات کا مسلہ فوری بنیادوں پر حل طلب ہے اگر تیس رمضان تک مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم مجبور ہوں گے کہ اسلام آبادکی طرف لانگ مارچ کریں اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پندرہ روز کے اندر اس مسلے کا حل نکالا جائے.

انہوں نے کہا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں سیاحت کا سیزن شروع ہو چکا ہے ایسے میں روڑ بلاک ہوگا تو سیاحوں کے لئے پریشانی ہوگی اس لئے جلد سے جلد اس مسلے کا حل نکالا جائے،وزیر اعلی نے کہا کہ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کی لکڑی اور ڈرائی فروٹ پر کے پی کے کی طرف سے جو غنڈہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے قانونی طور پر اس کا کوئی جواز نہیں ،آئین کی رو سے ایک صوبے سے دوسرا صوبہ بین الصوبائی مال کی ترسیل پر ٹیکس وصول کرنے کا جواز نہیں لیکن کے پی کے میں یہ نرالا قانون بنایا گیا ہے کہ سالانہ لکڑی پر پچیس کروڑ اور ڈرائی فروٹ پر پندرہ کروڑ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے.

وزیر اعلی نے کہا کہ جس طرح کے پی کے اسمبلی نے ایک ایکٹ کے تحت یہ ٹیکس لاگو کیا ہے ایسا ہی اختیار گلگت بلتستان اسمبلی کے پاس بھی ہے ہم بھی اس طرح کا ایکٹ پاس کر کے کے پی کے سے آنے والے مال پر ٹیکس عائد کریں تو پھر کیا ہوگا لیکن ہم کوئی غیر قانونی اقدام اٹھا کر صوبوں کے درمیان نفرت کے بیچ بونے کے قائل نہیں لہذا کے پی کے حکومت اس غنڈہ ٹیکس کا خاتمہ کرے اس حوالے سے وزارت امور کشمیر اپنی زمہ دارایان ادا کرے ،وزیر اعلی نے پی ایس ڈی پی منصوبوں کے حوالے سے کہا کہ پچھلی حکومت کی طرف سے دئے گئے منصو بوں کی فنڈنگ اور بجٹ کٹوتی کے مسلے پر وزارت امور کشمیر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ،گلگت بلتستان کی سیاحت کے حوالے سے بٹو گاہ شاہراہ ،کارگاہ تو کھنبری ایکسپریس وے اور گلگت چترال چکدرہ شاہراہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ان منصوبوں میں جو رکاوٹیں ہیں انہیں دور کیا جائے.

اس کے علاوہ گلگت بلتستان کی حکومت کی طرف سے مرکزی حکومت سے سات ارب کے منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کی درخواست کی ہے جن میں شاہراہ نگر ،سکردو اور چلاس کے لئے سیو رج سسٹم ، ،بلتستان ڈویثرن کے لئے 500بیڈ ہسپتال اور دیامر ڈویثرن کے لئے 500بیڈ ہسپتال ان دونوں ہسپتالوں کے لئے زمین صوبائی حکومت نے مہیا کر دی ہے ان منصوبوں کی کل لاگت سات سے آٹھ ارب کے درمیان ہے امید ہے کہ وفاقی حکو مت منظوری دے گی ،جس پر وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے کہا کہ میں گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کی طرف سے پیش کئے گئے تمام منصوبوں اور مسائل کے حوالے سے وزیر اعظم کو آگاہ کروں گا اور حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں