60

نفرت انگیز مواد کی روک تھام اور پرامن معاشرے کا قیام … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم:لاریب نذر
طالبہ ڈیپارٹمنٹ آف کمیونیکیشن اسٹڈیز
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان

کسی بھی معاشرہ میں بسنے والے لوگ مختلف عقائد سے جڑے ہوتے ہیں‘ مذہبی و سیاسی طورپر لوگوں کے نظریات مختلف ہوتے ہیں‘ جس طرح ایک گلدستے میں مختلف رنگوں کے پھول اچھے لگتے ہیں‘ اسی طرح مختلف رنگ ونسل‘ مختلف مذاہب‘ مختلف زبانیں بولنے والے لوگ کسی بھی معاشرے کا حُسن ہوتے ہیں۔انتہا پسند سوچ کے حامل چند افراد اپنی اخبارات‘ جرائد میں تحریروں‘ تقریروں‘ سوشل میڈیا پر پوسٹوں کے ذریعے نفرت پر مبنی الفاظ و جملوں والے مواد ذریعے امن وبھائی چارے کی فضا کو تہس نہس کرنے میں جُت جاتے ہیں۔

چند انتہا پسند عناصر جو کہ اپنی سوچ کوسب پر مسلط کرنا چاہتے ہیں وہ کبھی مذہب و مسلک کے نام پر اور کبھی زبان ونسل کے نام پر تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں میں نفرت پھیلاتے ہیں۔

نفرت انگیز مواد کی روک تھام ایک پرامن معاشرے کے قیام کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد کو اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے‘ ایسا مواد جس سے معاشرے میں انتشار پھیل سکتاہے وہ چاہے کتابی صورت میں ہو‘ بروشر یا لٹریچر کی صورت میں ہو اُس کی فوری اطلاع دہشت گردی کی روک تھام کرنے والے اداروں کو دی جانی چاہیے۔ سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ مختلف یونیورسٹیوں‘ کالجوں‘ تاجر کمیونٹی‘ وکلاء‘ خواتین اور بالخصوص نوجوانوں کو مختلف نشستوں میں اس بات سے آگاہ کرے کہ وہ نفرت انگیز مواد کو روک سکے۔

میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون کہا اورسمجھاجاتاہے کہ میڈیا کو چاہیے کہ کوئی بھی ایسی تحریر یا ویڈیو پیغام جس سے معاشرے میں نفرت پھیلنے کا اندیشہ ہو اُس کو شائع یا براڈ کاسٹ نہ کرے۔ چند ایک مذہبی یا سیاسی قائدین منافرت پر مبنی جذباتی گفتگو کرتے ہیں میڈیا کو چاہیے کہ وہ ایسی تحریر و تقریرکو بالکل نشر نہ کرے تاکہ معاشرے میں انتشار نہ پھیل سکے۔

سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے بعد ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کی روک تھام کے لئے نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا جس کے بعد کافی حد تک ہشت گردی پر قابو پایاجاچکا ہے‘ اسی طرح نیشنل الیکٹرانک کرائم ایکٹ بنایا گیاہے جس میں نفرت انگیزی اور دہشت گردی پھیلانے کے حوالے سے مختلف سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان‘ نیشنل الیکٹرانک کرائم ایکٹ اور پیغام پاکستان کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں امن و امان کی فضا قائم رہ سکے۔

سوشل میڈیا جہاں آج کل تیزی سے مقبولیت حاصل کررہاہے وہاں مذہبی و سیاسی منافرت سے متعلق زیادہ تر پوسٹیں بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ہی پھیل رہی ہیں۔ اس سے امن و بھائی چارے کی فضا کو شدید نقصان پہنچ رہاہے۔ انتہاپسندانہ سوچ کے حامل مخصوص نظریات کے لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیز مواد پھیلاتے ہیں۔ سیاسی و مذہبی منافرت کے خاتمے علمائے کرام کوچاہیے کہ وہ جمعہ کے خطبات میں خصوصی طور پر بین المذاہب ہم آہنگی‘ اقلیتوں کے حقوق ودیگر موضوعات پر خطبہ دیں۔

اسی طرح یونیورسٹی‘ کالجز اور سکولوں میں اساتذہ کرام نفرت انگیز مواد کی روک تھام کے لئے بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اساتذہ کرام کوچاہیے کہ وہ اپنے لیکچرز کے دوران نوجوان طلباء وطالبات کو باورکرائیں کہ نفرت انگیز مواد کی روک تھام کرکے ہی پُرامن معاشرے کی بقاء ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں