68

نابینا شہر میں آئینہ … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: لاریب نذر
طالبہ، ڈیپارٹمنٹ آف کمیونیکیشن اسٹڈیز
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان

وقت بدلتا رہتا ہے۔وقت تو ہے ہی بدلنے کے لیے اللہ تبارک و تعلی کی ذات کی ہر تخلیق اپنے آپ میں بے مثل نمو نہ ہے۔اور سورۃ رحمن میں انسان کو با ر بار یاد کرایا گیا ہے کہ ’تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلا وگے‘۔ کل رات میرے ذہن میں یہ بات مسلسل گردش کر رہی تھی کہ ارتقا کیا ہے۔اور بقا کیا ہے۔

ہم سے بہت پہلے لوگ غاروں میں رہتے تھے۔ جنگلو ں میں زندگیاں بسر کر تے تھے۔پھر وقت بدلا انہو ں نے ترقی کی۔ مذہب بن گئے اور پھر انسان کی کاوشوں نے عروج پا یااور دنیا گلوبل ولیج بن گئی یہاں بھی وقت بدلا تو ارتقا ہوا ۔اور پھر انسانیت بقا کے راستے نکل پڑی۔

ہمیں بڑے خوبصورت دور میں دنیا دکھائی گئی ڈیجٹل آلات،بہترین کھانے،بلندو بالا عمارتیں،انٹرنیٹ،نت نئے طرز کے لباس،جدید ذرائع آمدورفت کی سہولیات،لیکن ہم سے تیس سال پہلے ہمارے آباؤ اجداد نے اتنی ترقی نہیں دیکھی تھی۔یہ وقت کہلاتا ہے اور یہی انسانیت کا ارتقا ہے جو ہر وقت ہو رہا ہے۔اور یہی انسانیت کی بقا ہے۔یقینا وقت جیسی کوئی دوسری چیز نہیں ہے اور بے شک تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

انسان کے پاس کوئی مقصد ہے تو بے رنگ زندگی میں بھی بہار آجاتی ہے۔ وہ اپنے لیے کسی سمت کا تعین کرتا ہے۔اور اسی جانب رواں دواں چل پڑتا ہے۔ہمارا جس معاشرے سے تعلق ہے وہ اپنے اندر تخلیق کم اور تقلید زیادہ رکھتا ہے۔ ہم لوگوں کے پاس مقصد بھی ہے جذبہ بھی ہے اور کمی ہے تو صرف تخلیقی پہلوکی۔

یقین کیا جائے کہ تقلید پسندی تخلیق کی موت ہے۔ ہمارا معاشرہ بھی ہمیں کبھی کبھی تقلید کی اجازت دے دیتا ہے۔اور جو تخلیق کے راستے پر چل نکلے تو وہ کبھی باغی کہلاتا ہےاور کبھی بے وقوف۔ لیکن ہمیں بقا کا راستہ چاہیے بقا اپنی ذات کے لیے اور اپنے معاشرے کے لیے اور بقا کا راز بھی تخلیق میں مغمر ہے۔ تخلیق کی شروعات فکر مند ذہن سے ہو تی ہے۔ کتابیں کٹالسٹ کا کم کرتی ہیں اور جذبے خیالا ت کو حقیقت کا روپ دیتے ہیں جب کہ تقلید میں بس کسی اپنے سے بہتر کے پیچھے چلتے جاؤ چلتے جاؤبے شک تمہارا راستہ نہ ہو۔

انسان روزاول سے ہی خطا کا پتلا رہا ہے۔ اللہ پاک نے انسان کو تخلیق کیا اور پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کرو لیکن پھر اسی انسان سے خطا ہوئی اور سزا کے طور پر انہیں جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا گیا۔اور یوں ایک غلطی کی سزا کے لیے پوری کائنات ہی تخلیق ہو گئی اور پھر اربوں کھربوں انسانوں کا مسکن بنی یہ دنیا اپنے آپ میں ہی ایک حیران کن شا ہکار بن گئی۔پھر یہاں کے بسنے والے انسانو ں نے بھی بتائے ہوئے راستے کے باوجود ایسے راستوں کو منتخب کیا جو بنی نو ع انسان کے لیے زہر قاتل ہوئے۔

لیکن کبھی بھی تنگ و تاریک راتوں میں کسی جانب سے ایسا چراغ روشن ضرورہوتا ہے جس میں انسان کو حق کی آوازسنائی دیتی ہے۔لیکن جیسے ہر انسان کو اندھیرا راس نہیں آتا اسی طرح روشنی کی کرنوں کو جذب کرنا بھی آسان بات نہیں۔ لیکن خدا کی ذات کی طرف سے انسان کے لیے وہ چراغ اسکی مکمل زند گی میں کبھی نہ کبھی ضرور روشن ہوتا ہے لیکن پھر وہ ہی بات کہ اختیار تو بند ے کے پاس ہوتا ہے نہ کہ جس سمت چل پڑے۔

راستے بہت بڑی نعمت خداوندی ہیں۔ منزلیں بے شک بڑی دور کی بات ہو تی ہیں۔ راستوں کے امتحانات منزلوں کی عنا ئیتوں سے زیادہ حسین ہوتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ثابت قدم رہا جائے۔ طوفان آئیں آندھیاں تمہں ہزار بار گرایا جائے تم پھر ا ٹھ کھڑے ہو نا اور کبھی راستے میں تمہں کم تر ثابت بھی کر دیا جائے قبول کر لینا تسلیم کر لینا کہ تم بیکار ہو۔مان لینا کہ تم نا اہل ہو۔

تسلیم کر لینا بھی ایک رحمت ہے کیو نکہ راستوں میں ہر لڑائی لڑنے کے قابل نہں ہو تی۔ اور یاد رکھنا خداوند واحد ذات ہے جو نہ تو کسی کی محنت ضائع ہو نے دیتی ہے اور نہ ہی اہل کو نا اہل ہو نے دیتی ہے لیکن اگر وہ یقین کا حل چا ہتی ہو۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں