20

وفاقی کابینہ کا اجلاس، حکومت نے پہلی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دیدی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے طویل مشاورت کے بعد اپنی پہلی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی، جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں طویل عرصے سے زیر غور ایمنسٹی اسکیم 2019 کی منظوری دی گئی۔

واضح رہے کہ اس اسکیم کے تحت کالا دھن رکنے والے افراد اسے سفید کرسکیں گے

بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد معیشت میں ڈاکیومنٹیشن کرنا ہے اور معیشت تیز رفتاری سے چل سکے اور جو ڈیڈ اثاثے ہیں انہیں معیشت میں ڈال کر اسے فعال بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ یہ اسکیم سمجھنے اور عمل درآمد کرنے میں بہت آسان ہو، اس کو حقیقت پسندانہ رکھا ہے اور اس میں قیمت اتنی زیادہ نہیں رکھے گئے ہیں، اس کے پیچھے کا مقصد لوگوں کو ڈرانا نہیں بلکہ کاروباری لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ صحیح طریقے سے حصہ ڈالیں۔

انہوں نے کہا کہ 30جون تک اسکیم میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا ہے اور اس اسکیم میں ہر پاکستانی شہری حصہ لے سکتا ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس اسکیم کے تحت بے نامی اثاثے اپنے نام کروائے جاسکتے ہیں، اسکیم کے تحت پاکستان کے اندر اور باہر تمام اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ریئل اسٹیٹ کے علاوہ تمام اثاثوں پر 4 فیصد ادا کرنا ہوگا، ریئل اسٹیٹ پراپرٹی کو سفید کرنے کے لیے شرح ڈیڑھ فیصد رکھی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے مذاکرات گزشتہ 7 سے 8 ماہ سے چل رہے تھے جو ایک اچھے طریقے سے مکمل ہوئے ہیں اور ادارے کا فل بورڈ اس معاہدے کو منظور کرے گا، جو یہ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس کیوں جارہے ہیں وہ سب پہلے اس کے پاس جاچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں