112

روہی دو روز سجی لاہور میں (روہی دی عجب بہار) … شعور میڈیا نیٹ ورک

ازقلم: نذیر خالد
سابق ڈائریکٹر انفارمیشن وریذیڈنٹ ڈائریکٹر
بہاولپور آرٹس کونسل، بہاولپور

بہاولپور کی ایک بہت ہی ہر دلعزیز ہستی برگیڈیئر نذیر علی شاہ صاحب کی نواسی میڈم ساجدہ ونڈل نے دو روز کے لئے انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ ایند کلچر لاہورمیں ” روہی دی عجب بہار” کے نام سے ایک بہت بڑی تقریب بپا کی جس میں ملک کی کئی نابغہ روزگار شخصیات کو شامل گفتگو ہونے کے لئے مدعو کیا گیا اور یوں 26 اور27 اپریل کوروہی نے خوب اپنے جلوے دکھائے، رنگ جمائے اور مسلسل موضوع گفتگو بنی رہیں۔ قارئین کرام جانتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کے بہاولپور ڈویژن کے تین اضلاع بہاول نگر،بہاولپور اور رحیم یار خان میں 16000مربع کلومیٹر رقبے پرپھیلا یہ بہت بڑا صحرا چولستان کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن مقامی لوگوں کی زبان میں اسے روہی کہتے ہیں.

صدیوں قبل یہاں دریائے ہاکڑہ موجیں مارتا اور پورے وسیب کو سیراب کرتا تھا اس اعتبار سے یہ قدیم ترین سولائیزیشنوں میں بھی شمار ہے۔ اس صحرا میں بسنے والے ہندو اور مسلمان روہی کی نسبت سے اپنے آپ کو روہیلا کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ روہی کی میزبان اسی وسیب کی قابل فخر بیٹی محترمہ ساجدہ ونڈل ان کے میاں جناب پرویز ونڈل جو ملک کے معروف آرکیٹیک ہونے کیساتھ ساتھ ایک اعلی پائے کے دانشور بھی ہیں اور ان کے ساتھ مقامی طور پر ان کے بانہہ بیلی تھے اجوکا تھیٹر کے بانی جناب شاہد محمود ندیم اور روہی سے آئے ہوئے جناب امتیاز لاشاری اور شاہد بخاری صاحب جو روہی کو روہیلوں سمیت اپنے ہمراہ لے کر آئے۔

قارئین کرام کو بتاتے چلیں کہ ٹھوکر نیاز بیگ لاہورسے ٹھیک ساڑھے سات کلومیٹر رائے ونڈ کی طرف چلیں تو دائیں ہاتھ ٹیکینیکل کالج سے دو فرلانگ آگے ایک بہت بڑا تعلیمی کیمپس تعمیر کیا گیا ہیجس کی عمارت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے اس ادارہ نے بہت جلد آرٹ اینڈ کلچر کی یونیورسٹی کادرجہ حاصل کرنا ہے اور پاکستان میں اس نوعیت کی یہ پہلی یونیورسٹی ہوگی جو اپنی ثقافت کی ترویج فائن آرٹس کے ذریعے کریگی،فی الوقت یہ بطور انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ کلچر کام کر رہا ہے اور اس کے قیام کو ایک سال سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔

اس کی وائس چانسلر میڈم ساجدہ ونڈل ہی ہیں جو چند دہائیاں قبل دو دفعہ نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے)لاہورکی پرنسپل رہ چکی ہیں۔ اس سے قبل کہ آگے بڑھیں یہ تحریر پڑھنے والوں کی دلچسپی کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ سنٹرل پنجاب اور دیگر علاقوں سے بہاولپور ٹرانسفر ہو کر تعینات ہونے والے سرکاری افسران کے بارے میں بہاولپور کے عوام میں یہ کہاوت بہت مشہورہے کہ ” روندے ہوئے آندن تے روندے ہوئے ویندن ” یعنی جب ان کو یہاں پوسٹ کیا جاتا ہے تو روتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمیں کہاں بھیج دیا گیا ہے لیکن کچھ عرصہ یہاں گزار لینے کے بعد وہ یہاں کے وسیب میں اس قدر کھب جاتے ہیں کہ جب یہاں سے ٹرانسفر کے آرڈر ملتے ہیں تو وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتے اور جانا پڑ جائے تو روتے ہوئے جاتے ہیں (غالبا اس میں اشارہ اس طرف ہے جو با اختیار افسران یہاں زمینوں کی الاٹمنٹ میں اپنوں کو نوازتے، اختیارات کا وسیع اور بے دریغ استعمال کرتے ہوئے لوٹ مار کا بازار گرم کرتے رہے ا ور ہر طرح کی بازپرس سے بھی بچے رہے مذکورہ ” نعمتوں ” سے یک لخت محرومی ان کے رونے کا بنیادی سبب تھا)،یہاں ہم اسی وسیب اور روہی کا ذکر کرنے لگے ہیں ۔

میڈم ساجدہ صاحبہ کو روہی کے ساتھ کتنی گہری دلچسپی ہے؟ جی ہاں ہر شخص کو اپنا وطن کشمیر ہوتا ہے،میڈم ساجدہ جی کا اوریجن بہاولپور ہے جہاں ان کے نانا جناب نذیر علی شاہ ریاست بہاولپور کی فوج میں بریگیڈیر تھے اور انہوں نے وہاں کی سول سوسائٹی میں بھی انگنت فلاحی کام کئے۔علمی ادبی شخصیت ہونے کے ناطے وہاں علم دوست احباب کے ساتھ ملکر علمی و ادبی فورم جھوک سرائیکی کے نام سے قائم کیا جو کہ تب سے سرائیکی زبان کی ترویج و ترقی کے لئے خدمات سرانجام دے رہا ہے۔یہی نہیں میڈم جی نے چولستان میں خودمہینوں ریسرچ کاکام کر کے اس کے چپے چپے کو دیکھا اور پرکھا ہے ایک اندازے کے ساتھ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ چولستان کی لوک گلوکاری کاجتنا ذخیرہ اور ورائٹی ان کے پاس ہوگی شاید کسی اور شخص یا ادارے کے پاس موجود نہ ہو۔

روہی پر دو دن کے سیمینار کا بنیادی مقصد بھی چولستان کے مسائل اور اہمیت کو اجاگر کرنا ہی تھا جس کے لئے دو روزہ پروگرام ترتیب دے کر اسے کامیابی سے ہمکنار کیا گیا۔وہاں کی ہسٹری،پہچان،ثقافت اوراس کے رنگ برنگے دلکش اجزا،سنگیت و آلات سنگیت، گائیکی، شاعری، روہیلوں کے مسائل،حکومتوں کی غفلتوں،وہاں کی ضرورتوں کے علاوہ خواجہ غلام فرید سئیں کے کلام میں روہی کی محبوبانہ تصویر اور دلربا ذکر کا بالتفصیل تذکرہ ہوا اس کے علاوہ لوک تھیٹر کی طرز پر پیش کئے گئے ایک سٹیج ڈرامہ کے ذریعے وہاں کے مسائل کو زندہ کرداروں کے ذریعے دلنشیں انداز میں پیش کیا گیا۔

دوروزہ سیمینار کی پنچ لائن کا ذکر شروع میں کر دینا مناسب معلوم دیتا ہے۔ پروگرام کے دوسرے روز ایک پینل ڈسکشن تھی جس میں میڈم ساجدہ ونڈل صاحبہ، جنوبی پنجاب کے اعلی پائے کے سکالرڈاکٹر نصراللہ خان ناصر صاحب اور اسی وسیب کے قابل فخر بیٹے اور اہل قلم میں اپنا ایک مقام رکھنے والے اصغر ندیم سید صاحب شریک تھے۔مو ضوع بحث اور سوالات کا محور روہی اور صدیوں پہلے یہاں بہنے والے دریائے ہاکڑہ اور ہاکڑہ سولائیزیشن کو بنایا گیا اور مختلف اٹھائے گئے سوالات اور ان کے تٖفصیلی جوابات کو اس سیمنار کا حاصل قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ روداد مذکورہ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے بعد ازاں شائع کی جانے والی رپورٹ میں تو لفظ بلفظ چھپ کر سامنے آہی جائے گی یہاں اس کے نچوڑ پر اکتفا کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں :

1۔ جہاں آج صحرائے چولستان واقع ہے یہاں صدیوں پہلے ایک عظیم دریا بہتا تھا جس کا نام دریائے ہاکڑہ تھا،
ہاکڑہ تہذیب بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی دیگر دریافتیں ہڑپہ،موہنجوداڑو اور مہر گڑھ وغیرہ ہیں۔ ہاکڑہ سولائیزیشن
کا پھیلاؤ بھی کافی تھا جس کے اشارے اور آثار بھارت کے کئی علاقوں میں بھی ملے ہیں۔

2۔ اس امر کے بھی قوی امکانات ہیں کہ اگر ہاکڑہ سولائیزیشن کو کھدائی سے دریافت کیاجائے تو بہت سی نئی اور
اہم باتیں سامنے آئیں گی اور کئی حیران کن ثبوت سامنے آ سکتے ہیں جو دیگر آثار قدیمہ کے مقامات سے بر آمد
نہیں ہوئے اور ایسی نئی دریافتیں کئی گم شدہ کڑیوں کو دوسری کڑیوں سے ملا نے کا سبب بن سکتی ہیں۔

3۔ اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ ہاکڑہ سولائیزیشن کے قدیم آثار اور گمشدہ تاریخ کی کڑیوں تک پہنچنے کے
لئے یہاں کی کھدائی کے ذریعے ان آثار تک پہنچنے کی بہت زیادہ ضرورت تھی لیکن ہماری حکومتوں،متعلقہ سرکاری
اداروں نے اس جانب توجہ ہی نہیں دی اور ایک اعتبار سے یہ باب مکمل طور پر بند پڑاہے اور تو اور مقامی یونیورسٹی
کے کئی شعبوں کا یہ موضوع بنتا تھا خصوصا آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ اگر کچھ کام کرتا تو وہ بین الاقوامی اداروں کو بھی
متوجہ کر سکتا تھا لیکن وہاں یہ سوچ ہے نہ جذبہ و جنون ہے۔

4۔ اصغر ندیم سید صاحب نے کہا کہ خواجہ غلام فرید سئیں کے کلام کو کئی دانشوروں نے ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کی ہے
اور سب کا کام میری نظر میں ہے لیکن میں سمجھتاہوں کہ ان کے کلام کی صحیح اور حتمی ڈی کوڈنگ تب ہو گی جب
ہاکڑہ سولائیزیشن کی پرتیں کھلیں گی اور خواجہ صاحب کے آفاقی کلام کے سرے ان کے ساتھ جا کر جڑیں گے۔

5۔ ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر صاحب نے اپنی گفتگو اس اہم نکتے پر ختم کی کہ پاکستان میں جہاں جہاں آثار قدیمہ
سے متعلق کام ہوا اور جو جو دریافتیں وہاں سے ہوئی ہیں وہ سب ان کی نظر میں ہیں اور اسی مطالعے و مشاہدے
کی بنیاد پر وہ کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت سب سے بڑ اور سب سے اہم کلچرل ہب چولستان ہے۔

6۔ پینل نے متفقہ طور پر حکومت پاکستان،آثار قدیمہ کے شعبہ اور ملتان و بہاولپور کی سرکاری یونیورسٹیوں سے
یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہاکڑہ سولائیزیشن کی اہمیت کے پیش نظر یہاں کام شروع کروائیں،انہوں نے متنبہ کیا کہ
یہ تاریخ کا فیصلہ ہے کہ جو قومیں اپنی تہذیب و ثقافت کو فراموش کر دیتی ہیں تہذیب انہیں نہ صرف فراموش کر
دیتی ہے بلکہ صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیتی ہے۔

7۔ ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر صاحب کی یہ بات بھی سننے والوں کے دلوں میں کھبھ گئی کہ سائیبیریا کے پرندے
صدیوں سے موسم کی تبدیلی کی وجہ سے دریائے ہاکڑہ پر آتے تھے،صدیاں بیتیں دریائے ہاکڑہ ختم ہوگیا اس
کا نشان تک باقی نہ رہا لیکن پرندوں کی ریت دیکھئے کہ وہ آج بھی وہاں سے طویل اڑانیں بھرتے اور
دریائے ہاکڑہ کی سرزمین پر پہنچتے ہیں،پرندوں نے صدیوں بعد بھی اپنے اس مسکن کو نہیں بھلایا،انہوں
نے یہاں آنا چھوڑا ہے نہ واپس جا کر یہ پرچار کرتے ہیں کہ اب ہاکڑہ وہاں موجود نہیں،خشک ہو چکا ہے
آئندہ وہاں نہ جانا۔لیکن ہم جو انسان ہیں، اس دھرتی کے بیٹے بیٹیاں ہیں،بہت آسانی کے ساتھ ہاکڑہ
کے بارے میں خاموشی اختیار کرلی ہے۔

میڈم ساجدہ ونڈل صاحبہ نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس دو روزہ پروگرام کا ایک بڑا مقصد
اس بارے میں ری تھنکنگ کی دعوت دینا بھی ہے۔بہت اچھا ہوا کہ ہم اپنی گم شدہ میراث کی جانب متوجہ
متوجہ ہوئے ہیں اور جن اداروں کی یہ ذمہ داری ہے انہیں یاد دہانی کروا رہے ہیں،خواب غفلت سے جگا
رہے ہیں۔

اب آئیئے اس دو روزہ سیمینار میں جاری رہنے والی کارروائی کے حوالہ سے ایک نظر ڈالیں :

26۔اپریل جمعہ : انسٹی ٹیوٹ کے خوبصورت اور ٹھنڈے وسیع آڈیٹوریم میں یہ تقریب سجی تھی جس کو “روہی دی عجب بہار” کاعنوان دیا گیا تھا۔سٹیج کے بیک پر بہت بڑے بینر پر روہی کا ایک دلفریب منظر تھا جس میں روہیلے اور دیگر لوگ اس طرح شریک دکھائے گئے تھے جیسے میلوں ٹھیلوں میں دکھائی دیتے ہیں۔وقت کی پابندی کا خیال رکھتے ہوئے طے شدہ شیڈول کے مطابق دس بجے تلاوت کلام پاک کے ساتھ پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ،تشریف لانے والے مہمانا ن گرامی خواتین و حضرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے وائس چانسلر میڈم ساجدہ ونڈل صاحبہ نے خوش آمدید کہا اور آدھ پون گھنٹے میں اس تقریب کے انعقاد کی غرض و غایت اور سب سے پہلے روہی پر پروگرام کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک چین ہے اور اس سلسلہ وار پروگرام کے تحت ایک سے بڑھ کر ایک پروگرام پیش کیا جائے گا لیکن ایسے تما م پروگراموں میں مقصدیت کو بالاتر رکھا جائے گا،انہوں نے روہی کا مکمل تعارف،اس کے ساتھ اپنے قلبی لگاؤ،اس کی اہمیت اور وہاں کی تہذیب و ثقافت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے اس سیمینار میں مدعو کئے جانے والے اہم مقررین اور سکالرز کا بھی مختصر تعارف کروایا اور یوں یہ تقریب آگے کو بڑھی۔ان کے بعد رحیم یارخان سے مدعو کی گئی مارواڑی و سرائیکی زبان کی گلوکارہ ستارہ لال کو دعوت دی گئی جنہوں نے مارواڑی زبان کا معروف گیت ساسو مانگے کوکڑی۔۔ گا کر حاضرین سے بھرپور داد حاصل کی۔ یہاں چائے کیلئے وقفہ دیا گیا ،تمام مہمانوں کے لئے چائے کا پرتکلف انتظام کیا گیا تھا۔

چائے کے بعد بہت اہم گفتگو کی جناب پرویز ونڈل نے جن کا موضوع تھا چولستان بطور ایک حوالہ۔۔۔انہوں نے پاور پوائنٹ کی مدد سے اپنے اس خوبصورت خیال کو تصاویر کے ذیعے واضح کیا اوروضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے ایک پتے سے بات آگے بڑھائی ہے ایک پتہ جس پر عموما ہم غور ہی نہیں کرتے،وہ ا یک ٹہنی کے ساتھ اگا ہوا ہے،ٹہنی درخت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے،درخت جنگل کے، جنگل ایک کائنات کے ساتھ،ایک کائنات دوسری کائنات کے ساتھ اور علی ہذالقیاس یوں پوری یونیورس آپس میں مربوط ہے میں دوبارہ کیمرہ اس پتے پر لے کر آتاہوں اوراب اس پتے کو جب فوکس کرتا ہوں تو اس ایک پتے کے اندر کئی جہاں آباد ہیں کئی رنگ کئی باریکیاں،حسن کے جلوے،کاریگری۔باریک نسیں اور جب سائنسی بنیادوں پر اس کا تجزیہ کریں تو اس کی بناوٹ میں کیا کچھ نہیں اور ان کا دیگر جاندا اور ذی روحوں کے ساتھ کتنا اشتراک ہے،ونڈل صاحب کا تھیسس سائنس،آرٹ اور فلسفے کے پیرائے میں ملفوف تھا جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔

ان کے بعد قلعہ دیراور سے آئے ہوئے دو روہیلے گلوکار وں مٹھو صاحب اور وریام صاحب کو موقع دیا گیا کہ وہ جو سریں روہی میں بکھیرتے ہیں ان سے حاضرین کو محظوظ کریں۔ انہوں نے اک تارے اور مجیرے کے ساتھ ایک لوک گیت پیش کر کے روہی کا سا ماحول بنا دیا جس پر انہیں دل کھول کر داد دی گئی۔

اب روسٹرم پر تشریف لاتے ہیں جناب ڈاکٹر رفیق مغل جو بوسٹن یونیورسٹی میں پروفیسر آف امریٹس،آرکیالوجی ہیں اور جنہوں نے چولستا ن پر بہت کام کیا ہے انہوں نقشوں اور دستاویزات کی مدد سے چولستان کی آرکیالوجی کو حاضرین کے سامنے کھولا،اس کے اندر کے طبعی حالات،نباتات،صحرائی زندگی،وہاں کی ہارڈ شپ،ضروریات اور محرومیوں کا مدلل ذکر کیا۔ان کا لیکچر بھی ایک اعتبار سے کی نوٹ کا درجہ رکھتاتھا کیونکہ یہ ایک سکالر کا تھیسس تھا جنہوں نے کئی مہینے لگا کر وہاں خود کام کیا اور صحرا کا ایک ایک کونہ چھانا اور سخت ماحول میں روہیلوں کے ساتھ کئی دن بسر کئے۔

ان کے بعد ملک کے معروف شاعر،افسانہ و ناول نگار جو بہاولنگر کی تاریخ رقم کر کے اب مورخوں میں بھی شامل ہوگئے ہیں جناب سلیم شہزاد کے لئے موضوع تھا چولستان کی ثقافتی شناخت کا مسئلہ۔انہوں نے اپنے مقالے میں جا بجا خواجہ غلام فرید کے اشعار کو بھی سجایا ہوا تھا اور لب لباب یہ رہا کہ ہم اپنے اس عظیم ورثہ کو سنبھال نہیں سکے اور ہمارے سامنے یہاں کے قلعہ جات اور دیگر تاریخی یادگاریں منہدم ہوکر ریت ہوتی جا رہی ہیں ایک مقام پر پہنچ کر وہ اس قدر آبدیدہ ہو گئے کہ انہیں وہیں پر گفتگو کا اختتام کرنا پڑا انہیں اس امر کا بے حد دکھ تھا کہ ہم اپنے اس عظیم سرمائے کو تباہ ہونے سے بچا نہیں سکے۔

اب باری تھی ڈاکٹرنصراللہ خان ناصر صاحب کی جو ریڈیو پاکستان سے اسٹیشن ڈائریکٹر کے عہدہ سے ریٹائر ہونے کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں شعبہ سرائیکی کے سربراہ اور بعدازاں ڈین بھی رہے ان کی نظر بہت گہری ہے انکو موضوع دیا گیاتھا چولستان کی لوک شاعری۔۔۔۔۔انہوں نے کئی قدیم چولستانی شاعروں کا کلام پیش کیا جن میں سے اکثر ایسا تھا کہ اگر وہ اس کا سادہ زبان میں ترجمہ یا مفہوم نہ بتاتے تو اس کی روح تک پہنچنا ممکن نہ ہوتا، مورو بائی (جو کہ ایک خیالی کردار ہے روہی کا)جن کا نام شاید حاضرین میں سے قبل ازیں کسی نے نہ سنا ہو گا کا بہت ہی دل میں گھر کر جانے والا کلام سنایا جو بظاہر سادہ لیکن بہت پراثر تھا۔ ان کا مقالہ بھی بیحد پسند کیا گیا۔

سرائیکی یا چولستانی شاعری کا رنگ پیش کرنے کے لئے محراب والا سے خوبصورت اور نمائندہ شاعر شاہد عالم شاہدصاحب مدعو کئے گئے تھے انہوں نے اپنے شاعری کے مجموعے گوپے دے وچ قصہ میں سے چندنظمیں پیش کیں، کچھ اشعار پیش قارئین ہیں :

ساون دی چھیکڑ ہئی مینہ نہ وٹھا ہا جنگل دے وچ اج تاں مور وی مونجھا ہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میڈیاں اکھیں روہی تھی گئن تئیں نی ڈٹھیاں ول وی تیکوں حال سنیساں تھی نی سگدا
میں تاں روہی جنگل تھل دی چپ دا عادی میں شہریں شور سہساں تھی نی سگدا
ٍ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھے توں بدلی اسری ہے ریت نچی ہے مینہ دی پہلی پھینک ڈھٹی ہے ریت نچی ہے
جال اتوں پیلھوں چندے نازک ہتھیں توں مہندی دی خشبو نکتی ہے ریت نچی ہے
ٹوبھے اتے لتھین کونجاں اصلوں مونجھاں ول سانول دی گالھ چلی ہے ریت نچی ہے
ول کہیں یادیں سودھا من وچ میل مچایا اجرک ہنجواں نال پسی اے ریت نچی ہے
باہیں چوڑے نال کجیاں ہن خوب سجیاں ہن چنی رنگیں نال بھری ہے ریت نچی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لنچ اور نماز ظہر کے لئے وقفہ کیا گیا،ادارہ کی جانب سے سادہ مگر لذیذ کھانے کا انتظام تھا مہمانوں نے خوب سیر ہوکر کھایا اور بعدازاں چائے نوش کرتے ہوئے آڈیٹوریم میں اپنی اپنی سیٹوں پر آکر براجمان ہوئے،اسی وقفے میں علامہ سر محمد اقبال صاحب کے پوتے جناب ولید اقبال نے بھی جائن کیا اور جب انہیں دعوت خطاب دی گئی تو انہوں نے مختصر وقت میں بہت معلوماتی گفتگو کی اور امریکہ،روس و دیگر یورپی ممالک میں گزارے ہوئے وقت اور وہاں کے تجربات کو حاضرین کے ساتھ شیئر کیا اور وہاں کی تہذیبوں،عجائب گھروں ان کے کلچر اور اس کے ساتھ ان کی وارفتگی کے کئی حیران کن واقعات سنائے اور بتایا کہ امریکہ میں تو جنس پر بھی ایک الگ میوزیم بن چکا ہے جہاں سنگل اور کپل جوق در جوق آتے اور اپنی مرضی کی معلومات سے بہرہ مند ہوتے ہیں،انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہہم اپنی ثقافت کے حوالہ سے بے حد لاپرواہ واقع ہوئے ہیں،ابھی بھی وقت ہے کہ ہم ا پنے تہذیبی سرمائے کو سنبھالنے اور ثقافت کو اجاگر کرنے کی جانب توجہ کریں اور اس کی اہمیت کو سمجھیں۔

جناب سیف الرحمان ڈار صاحب کا نام بھی آثار قدیمہ کا اعلی ذوق اور نالج رکھنے والوں میں شمار ہے انہوں نے بھی پاکستان اور چولستان کے کلچرل ہیریٹیج پر بہت عمدہ گفتگو کی جسے حاضرین نے بہت پسند کیا۔نسیم عباس صاحب نے خواجہ غلام فرید سئیں کی ایک کافی سازوآواز کے ساتھ پیش کر کے بہت داد سمیٹی۔اسی دوران چولستانی فنکارہ ستارہ لال صاحبہ اور مٹھو و وریام صاحبان کو بھی باری باری روہی کا رنگ جمانے کے لئے سٹیج پر بلایاگیا۔

سابق بیوروکریٹ جو پنجاب میں مختلف محکموں کے سیکریٹری رہ چکے ہیں اور خواجہ غلام فریدسئیں پر جن کا کام حیران کن ہے،میرا اشارہ جناب ڈاکٹر شہزاد قیصر کی جانب ہے،وہ تو چولستان میں جاکر بھی خواجہ صاحب کے حوالہ سے ہونے والی تقریبات کا حصہ بنتے ہیں تو بھلا یہاں کیسے ان کو مدعو نہ کیا جاتا،وہ چونکہ خود بھی ایک مدت سے روحانیت و درویشی کی جانب پلٹ چکے ہیں اس لئے جب وہ خواجہ غلام فرید سئیں کے کسی شعر، مصرع یا نکتے کی توجیح یا شرح کرتے ہیں تو کئی پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں اور کچھ دیر کیلئے سننے والا کسی اور دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ ان کے لیکچر نے حاضرین پر وجد کی ایک کیفیت طاری کر دی۔

27۔اپریل ہفتہ: ہفتے کے روز یہ تقریب دوبجے بعد دوپہر حسب پروگرام انعقاد پذیر ہوئی۔اس روز صحرا کی کائنات،ایک ڈاکیو منٹری لالولال پیش کی گئی اور لالوبھیل گروپ نے اپنے فن کے جوہر دکھائے،چنن پیر کے میلہ کے حوالہ سے سلمان راشد صاحب کی گفتگو تھی۔

ان کے بعد روہی کے سنگیت کاروں کے حوالہ سے ایک خوبصورت ڈاکومنٹری دکھائی گئی جن میں وہاں کے تین فنکاروں کا تعارف،انکی اپنی زبانی انکے حالات زندگی اور سنگیت کے سفر بارے گفتگو سنوائی گئی جبکہ ان کی آوازوں میں چند بول بھی سنوائے گئے۔ان فنکاروں میں ایک تو صادق آباد سے مارواڑی اور سرائیکی زبان کی گلوکارہ مائی دادلی صاحبہ تھیں،ان کے بعد فیروزہ کے نزدیک چولستان کے رہنے والے نوجوان گلوکار موہن بھگت صاحب کا تعارف تھا جن کے والد آنجہانی فقیرا بھگت صاحب مارواڑی،سرائیکی اور خاص کر خواجہ غلام فرید کے عارفانہ کلام کے بہت ہی مایہ ناز گائیک مانے جاتے ہیں،موہن بھگت صاحب ریڈیو پاکستان بہاول پور اسٹیشن کے میوزک کمپوزر بھی رہ چکے ہیں۔ تیسرے فنکار تھے لالو لال بھیل جو اکثر پرفارمنس کے وقت پیلے رنگ کے لباس میں ہوتے ہیں اور یہ ایک تاروں والا سادہ سا ساز بجا کر گاتے ہیں اس ساز کا نام رانتی ہے،دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ کم ازکم تین ہزار سال پرانا ساز ہے اور اس کی سادگی بھی اس کی گواہی دیتی ہے۔ ان کے گروپ میں نوجوان مرد زنانہ ویس میں سر پر ایک یا دو گھڑے رکھ کر ڈانس کے کئی کرتب دکھاتے ہیں،منہ میں مٹی کا تیل بھر کر مشعلوں کے ذریعے آگ کے کرتب دکھاتے اور لوگوں کے دل لبھاتے ہیں۔

اور بہت عمدہ تھیسس تھا اسلامیہ یونیورسٹی کی سابق صدر شعبہ اردو ڈاکٹر مزمل بھٹی صاحبہ کا جس کا موضوع تھا چولستانی خواتین کو درپیش مشکلات۔ ڈاکٹر صاحبہ کا اگرچہ پیدائشی تعلق تو لاہور کے ساتھ ہے لیکن انکی ملازمت اور ان کی شادی بہاولپور میں ہوئی اس لئے اب وہ بہاولپوری کہلانا پسند کرتی ہیں۔ انہوں نے بھی چولستان کو مختلف حوالوں سے کھنگال رکھا ہے اس بنا پر اس بارے میں فرسٹ ہیڈ نالج رکھتی ہیں۔انہوں نے خواجہ غلام فرید سئیں کے اشعار کے ساتھ سجایا گیا اپنا مقالہ پیش کیا اور بیان کیئے گئے مسائل کے حل بھی تجویز کرتی گئیں۔

ان کا مقالہ بھی بے حد پسند کیا گیا تھا کیونکہ وہ محض تھیوری نہ تھا بلکہ اس میں تجربے کی چاشنی موجود تھی۔اسی موضوع پر پاکستان کی معروف ڈرامہ نگار اور بہاولپور سے تعلق رکھنے والی خاتون مسرت کلانچوی صاحبہ نے گفتگو کی،ان کی ساری ملازمت لاہور میں مکمل ہوئی ہے اور اور ویمن کالج کی پرنسپل کے عہدے پر فائز رہی ہیں،انہوں نے بھی خواجہ فرید سئیں کے دل پذیر کلام کے ساتھ روہی کا نقشہ کھینچا،وہاں کی بودوباش،نباتات،حیوانات اور روہیلوں کی زندگی سے آگے بڑھ کر وہاں کی خواتین کے مسائل پر روشنی ڈالی جس سے روہی کا منظر سننے والوں کے ذہنوں میں اور بھی واضح ہوتا گیا۔ان کے بعد ایک نوعمر طالبہ انیقہ ملک صاحبہ نے دریائے ہاکڑہ پر تیارکیا گیا ایک نغمہ سازوں کے ساتھ پیش کیا جسے اس لئے بھی سراہا گیا کہ نئی نسل میں بھی ہاکڑہ کے ساتھ بھرپور لگن موجود ہے جو بہت خوش آئند ہے۔ اب باری تھی اس پینل ڈسکشن کی جس کا احوال قبل ازیں پیش کیا جا چکا ہے۔

یہاں چائے کا ایک وقفہ دیا گیا اور پرتکلف چائے کا انتظام بھی میزبان ادارے نے ہی کیا تھا،اس کے بعد اجوکا تھیٹر کی جانب سے شاہد ندیم صاحب کی ٹیم نے مختصر دورانیہ کا ایک ڈرامہ” کالا میڈا بھیس “پیش کرنا تھا جس کا سٹیج بھی اسی چائے کے وقفہ میں تیار کیا جانا تھا۔

چائے کے وقفے سے شرکاء واپس آڈیٹوریم میں آئے تو شاہد ندیم صاحب کی ٹیم تیار تھی انہوں نے ڈرامے کے مرکزی خیال سے متعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ یہ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے جب ان کی مرحومہ بیوی مدیحہ گوہر صاحبہ حیات تھیں۔ ایک دن ایک اردو اخبار میں مختصر سی خبرتوجہ کا مرکز بن گئی جس میں بتایاگیا تھا کہ ایک گاؤں میں ایک آدمی کی دوبیویاں تھیں اور ایک آدمی کے پاس دوبیل تھے دو بیلوں والے کی واحد بیوی فوت ہوگئی اور دوسری جانب دو بیویوں والے کا واحد بیل جس سے وہ روزی کماتا تھا،مر گیا،،وچوہلن نے بیچ میں پڑ کر دونوں کا مسئلہ حل کروادیا دو بیلوں والے نے ایک بیل دوسرے کو دے کر اس کی ایک بیوی حاصل کرلی ،اس المیے پرہم نے ایک پوری سٹوری تیار کی وہی آج پیش کرنے جا رہے ہیں۔ اس ٹیم نے روہی کے کلچر کو پیش نظر رکھ کر ایک ڈرامہ تیار کیا جس کی ہدایات مرحومہ مدیحہ گوہر نے ہی دی تھیں اور ایک لحاظ سے یہ مرحومہ کو اس تقریب کی جانب سے ٹرائیبیوٹ تھا، اس ڈرامہ میں سرائیکی زبان اور کلچر کو استعمال میں لایاگیا جبکہ وہاں کی لوک موسیقی،لوک گیتوں اور لوک ڈانس سے اسے مزید خوبصورت بنایاگیا۔

اجوکا تھیٹر کے نوجوان اداکاروں نے ہر ایکشن اور ہر پرفارمنس پر حاضرین کی بے پناہ داد حاصل کی اور آخر میں جب تمام فنکار تعارف کیلئے گروپ کی صورت میں سامنے آئے تو آڈیٹوریم میں تشریف فرما تمام حاضرین نے اپنی نشستوں پرکھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا ،تا دیر تالیاں بجا کر انہیں داد دیتے اوران کے کام کو سراہتے رہے،جبکہ شاہد محمود ندیم صاحب کو بھی باری باری مبارک باد دیتے اور خوبصورت ڈرامہ کی پیشکش پر شاباش دیتے رہے۔ اس دوران رات کا اندھیرا گہرا ہو چکا تھا اور پروگرام کے مطابق لالو بھیل گروپ کی پرفارمنس باہر کھلے لان میں شروع ہوئی جس میں ستارہ لال نے بھی سروں کا جادو جگایا اور تا دیر یہ محفل رونقیں بکھیرتی رہی۔

آخر میں وی سی جناب ساجدہ ونڈل صاحبہ نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور توقع ظاہر کہ وہ آئندہ بھی ان کے ایسے تمام پروگراموں میں شریک ہو کر تقریبات کی رونقوں کو بڑھاتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں