32

ماہِ مقدس اور ہمارے رویے … شعور میڈیا نیٹ ورک

از قلم: عبدالخالق قریشی

رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے، اس ماہ مبارک کی برکتوں اور رحمتوں کا شمار ناممکن ہے، اس ماہ مقدس کی سب سے بڑی فضیلت قرآن مجید فرقان حمید کا نزول ہے، رب کریم کا ارشاد ہے۔

” شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ہدی للناس وبینٰت من الہدی والفرقان “

” رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن نازل ہوا اس میں انسانوں کیلے ہدایت اور رہنمائی کی روشن باتیں ہیں۔ “(البقرہ)

ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی فضاء نور سے منور اور آسمانوں سے رحمتوں کی بارش، زمین پر ملائکہ کا نزول، عاصیوں کے لئے مغفرت کے پروانوں کی تقسیم، نیکو کاروں کے لئے درجات میں بلندی کی بشارتیں، سحری کے ایمان افروز لمحات، افطاری کی بابرکت گھڑیاں، دعاؤں کی قبولیت کی ساعتیں، تراویح کی حلاوتیں، نماز تہجد کی چاشنی، تلاوت قرآن سے فضائوں کا گونجنا، روزہ داروں کے پررونق چہرے، مساجدوں میں نمازیوں کا ہجوم، صدقات، خیرات اور زکوٰۃ کی تقسیم کے مناظر، عبادات میں خشوع و خضوع یہ تمام ماہ صیام کا حسن ہیں۔

دنیا بھر میں جب بھی مختلف مذاہب کے دینی اور دیگر خاص مواقعے آتے ہیں تو وہاں کی حکومتیں، کمپنیاں اور تاجران اپنی عوام کو ان خاص دنوں کی خوشیوں کو باسہولت منانے کیلے اشیاء پر خصوصی رعایتں دیتے ہیں، اسلامی ممالک میں ماہ رمضان میں عوام کو کھانے پینے اور دیگر ضروریات پر پورا مہینہ خصوصی رعایت دینے کے علاوہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ ان قلت نہ ہونے پائے۔

بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کی تخلیق ہی اسلام کے نام پر ہوئی تھی، تاکہ ہم ایک علحیدہ اسلامی فلاحی ریاست میں اسلام کے بتائے ہوئے طرز معاشرت کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کر سکیں، مگر ہم نے ان تمام تعلیمات کو بالائےطاق رکھ کر فقط ہوس دولت کی خاطر اپنے تجارتی معاملات میں ذخیرہ اندوزی، گراں فروشی، ملاوٹ اور جھوٹ کو اپنا شعار بنالیا ہے۔ ویسے تو یہ عاقبت نااندیش پورا سال ہی عوام کا استحصال کرتے ہیں، مگر رمضان کے ماہ مقدس کو “سیزن” قرار دے کر اسلامی روایات اور معاشرتی اقدار کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔

محبوب خدا نبی آخرالزماںﷺ نے ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کو سخت نا پسند فرمایا ہے، ملاوٹ کے بارے میں فرمایا۔

“مَن غَشَّ فَلَیسَ مَنّا” جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں،

اسی طرح ذخیرہ اندوزی کے بارے میں ارشاد فرمایا۔

“مَنِ احتَکَرَ یُرِیدُ أن یَتَّعاَلٰی بِہاَ عَلی المُسلِمِینَ فَہُوَ خاطیِ

” جس نے ذخیرہ اندوزی کی اس ارادے سے کہ وہ مسلمانوں پر اس کی قیمت بڑھائے گا وہ خطاء کار ہے۔

ان واضع احکام کے باوجود یہ دل کھول کر ان کی نافرمانی کرتے ہوئے ماہ صیام میں اسے نکتہ عروج پر پہونچا دیتے ہیں۔
افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ان لوگوں کی اکثریت کو معاشرے میں بہت ہی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، کیونکہ انھوں نے درجنوں حج اور سینکڑوں عمرے کیے ہوتے ہیں، دینی و تبلیغی کاموں میں بڑھ چڑھکر حصہ لیتے ہیں، ماہ رمضان میں اپنے محل نما گھر کے باہر غریبوں کی لمبی لمبی قطاریں لگواکر راشن یا نقد رقم تقسیم کرتے نظر آتے ہیں، مگر ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کرکے عوام کا خون چوسنے میں بھی یہ اپنی مثال آپ ہیں، کیا مجال کہ ذرا سی بھی خدا خوفی کرلیں.

ہم اس بات پر تو بڑا فخر کرتے ہیں کہ ہمارا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے، جو فلاحی، خیراتی کاموں میں سب سے آگے ہیں، اور اس میں کوئی مبالغہ بھی نہیں کہ ہم ہر سال اربوں روپے خیراتی کاموں اور امداد پر خرچ کرتے ہیں، مگر ہماری اکثریت نے اپنے آقا حضرت محمد مصطفٰیﷺ کے احکام جن ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کو ناپسند فرمایا گیا ہے کو پس پشت ڈال کر اس ناپسندیدہ عمل کو دھڑلے سے جاری رکھا ہوا ہے، ہمارا ان حقائق کو تحریر کرنے کا مقصد ان صاحب دل اور خوف خدا رکھنے والوں جو تجارت کو عبادت کا درجہ دے کر خلق خدا کو آسانیاں بہم پہونچا رہے ہیں دل آذاری کرنا نہیں ہے، بلکہ ہمیں یقین ہے کہ وہ شفاف تجارت کرکے اپنے دین دنیا اور آخرت کو بہتر بنا رہے ہیں۔

یاد رکھیں دنیا میں چاہے ہم جتنی بھی من مانیاں اور نافرمانیاں کرلیں مگر روز محشر ہمیں ان سب کا حساب دینا ہوگا، جس کے بارے میں رب کائنات نے فرمادیا ہے۔

“یُنَبَّوُاُ اّلِانسٰنُ یوَمَِذِ بمِاَ قَدَّمَ وَاَخَّرَ”
‘اس(قیامت کے) روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا دھرا بتادیا دیا جائے گا

اب ہم چند گزارشات عوام سے بھی کرنا چاہتے ہیں کہ ماہ صیام میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو یوٹیلٹی اسٹورز اور رمضان بازاروں کے ذریعے بنیادی اشیائے صرف پر اربوں روپوں کی سبسڈی دیتی ہے، جس سے یقیناً لوگوں کو کچھ آسانی میسر آجاتی ہے، مگر دوسری جانب عوام کا رویہ بھی کچھ زیادہ قابل تحسین نہیں ہوتا جیسے ہی رمضان پیکج کا آغاز ہوتا ہے، ہم بھی ان سستی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کیلے کمر بستہ ہوجاتے ہیں، اور خاص طور پر آٹا، چینی اور گھی کو جمع کرنے کی خاطر سارا دن شہر کے مختلف رمضان بازاروں میں سرگرداں نظر آتے ہیں، جس کے باعث شروع کے چند گھنٹوں میں ہی ان بازاروں سے لازمی ضرورت کی اشیاء ناپید ہو جاتی ہیں، اور شہریوں کی اکثریت یہ سستی اشیاء خریدنے سے محروم رہے جاتی ہے.

ہماری ان سے گذارش ہے کہ وہ اگلے کئی مہینوں کیلے سامان جمع کرنے کی بجائے صرف ماہ صیام کیلے خریداری کریں تاکہ وہ غریب لوگ جن کی آمدنی روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہے وہ اس رعایت سے محروم نہ رہے سکے، اور وہ بھی سہولت کے ساتھ اس ماہ مبارک کی برکات سمیٹ سکیں۔

اگر آپ لوگوں کیلے آسانیاں پیدا کریں گے تو یقین کیجیے اللہ تعالٰی بھی آپ کیلے بے شمار آسانیاں پیدا کردے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں