66

مدر ڈے کی حقیقت اور اسلام میں ماں کا مقام … شعور میڈیا نیٹ ورک

ازقلم: عبدالخالق قریشی

 زمانہ قدیم میں یونانی اور رومن اپنے دیوتاؤں کی خوشنودگی کی خاطر انھیں ماں کا درجہ دے کر ان کا دن مناتے تھے، جدید معاشرے میں اس کا آغاز امریکہ میں سنہ 1908ء میں وہاں کی معروف سماجی شخصیت این ماریا ریوس جاروس کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی اینا ایم جاروس نامی ایک سکول ٹیچر نے اپنی ماں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلے میتھو  ڈسٹ چرچ میں مدَر ڈے منایا، اینا نےاس دن کو باقاعدہ سرکاری طور منانے کیلے  اپنی کوششیں مسلسل جاری رکھیں، جس کے نتیجے میں سنہ 1914ء میں اس وقت کے امریکی صدر ووڈ را ولسن نے ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو ماؤں کے نام کرنے کا اعلان کر دیا، دلچسپ امر یہ ہے کہ اس دن کو سرکاری درجہ دلوانے کیلے جدوجہد کرنے والی اینا جاروس نے خود پوری زندگی  شادی نہیں کی اس لیے وہ خود کبھی ماں ہی نہ  بن سکی۔

رومن کیتھولک چرچ میں مدر ڈے کو ورجن میری سے منسلک کیا جاتا ہے اور اس روز لوگ گھروں پر خصوصی سروسز کا اہتمام کرتےہیں، نیپال میں اس دن کو ” ماتا ترتھی انوشی ” کے نام سے بیساکھی کے ماہ میں نئے چاند کے دن منایا جاتا ہے جو عام طور پر اپریل یا مئی میں کے مہینے میں آتا ہے، اسی طرح بھارت میں اس دن کو ہندو دیوتا مہاراج کرشن کی ماں  “دیواکی ” سے منسلک کیا جاتا ہے، اسی بنیاد پر ہندو مت میں ماں کو بھگوان کا درجہ دیا گیا ہے۔

اِسی مذہبی تناظر میں ایران میں مدرز ڈے پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کی دختر مبارک حضرت فاطمہ رضی اللہ کے یوم ولادت کے دن منایا جاتا ہے جو اسلامی مہینے جمادی الثانی میں آتا ہے، یہ تبدیلی ایران میں رونما ہونے والی اسلامی انقلاب کے بعد لائی گئی۔

عرب ممالک میں مدرڈے عام طور پر 21 مارچ کو موسم بہار کے پہلے دن منایا جاتا ہے، مصر میں اس دن کو باقاعدہ حکومتی سطح پر سنہ 1956ء کو منایا گیا اور اسی روایت کو پوری عرب دنیا نے اپنے معاشرے  کا حصہ بنالیا، دنیا کے دیگر ممالک میں بھی مدر ڈے منایا جاتا ہے تاہم ہر ملک  اسے اپنی روایات اور ثقافت کے مطابق مختلف تاریخوں پر مناتا ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ دن جو اپنی ماں سے بے پناہ محبت اور اس کی عظمت کے اظہار کیلے ہر معاشرے میں اپنا  وجود رکھتا تھا، مغربی معاشرہ جو کبھی اپنی اعلٰی اقدار پر نازاں  رہتا تھا پچھلی صدی کی تقریباً تین آخری دہائیوں میں انحطاط کا شکار ہونا شروع ہو گیا.

” اولڈ ایج ہومز ” جو کبھی صرف بے سہارا بزرگوں کیلے جائے پناہ ہوا کرتے تھے، مگر  آج ان میں بڑی تعداد ان ماں باپ کی ہے جن کی اولادوں نے ان کی خدمت اور ان کے بڑھاپے کا سہارا بننے کی بجائے انھیں ایک فالتو شے کے طور پر اولڈ ایج ہومز میں ڈال بھول جاتے ہیں، اور سال میں ایک مرتبہ مدر ڈے کے روز ان کے پاس جاکر ان کو پھولوں کا ایک گلدستہ دیکر اپنی دانست میں ان سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کرتے ہیں، یہ ہے اس معاشرے کا حال جو اپنے آپ کو دنیا کا بہترین اور مہذب ترین معاشرہ کہلاتا ہے۔

دین اسلام میں والدین کے حقوق کا تصور بڑا واضع ہے، جس میں ماں باپ کو مرکزی مقام حاصل ہے، وہ گھروں کے تاحیات سربراہ ہوتے ہیں اور ان کی معزولی کا کوئی تصور نہیں ہے، جس میں ماں کو ایک خاص مقام حاصل ہے، اسلام نے عورت کو ماں ہونے کی صورت میں ایک خاص درجے کے اکرام سے نواز ہے، اور اس سے حسن سلوک، خدمت اور اس کا خصوصی خیال رکھنے کی تاکید فرمائی ہے، یہ ایک ایسی ہستی  ہے جو اپنی اولاد کی خاطر تمام تر تکالیف برداشت کرتی ہے، جس کی بڑی وجہ اس کی اپنی اولاد سے بے پناہ محبت ہے، اگر اس کے دل میں محبت نہ ہوتی تو وہ ہر گز سختیاں برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہوتی لہذا ماں کا مقام بہت بلند ہے، ماں کی عظمت اور حقوق کے بارے قرآن مجید اور احادیث  نبویﷺ میں واضع احکامات ہیں۔

” ووَصّینا الانسانَ بوالدیہِ ، حملتہُ امّہ وھنا علی وھن وفصالہ فی عامین ان اشکُر لی وَلوالدیک الیّ المصیر”(لقمان 14)
“ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق  نصیحت کی ہے کہ اس کی ماں مصائب برداشت کرتے ہوئے اس حمل میں رکھا اور اس کے دودھ پینے کی مدت دو برس ہے کہ اے انسان تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر(اور تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے”۔

ایک اور مقام پہ قرآن فرماتا ہے،

ووَصّینا الانسان بوالدیہِ احساناً حملتہُ امّہ کُرھاً ووَضعتہُ کُرھا”(احقاف 15)
“ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ،اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے پیدا کیا”۔

ایک صحابی نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے، آپ ﷺ نے فرمایا تمھاری ماں پوچھا گیا اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا تمھاری ماں تیسری بار پھر پوچھا کہ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا تمھاری ماں چوتھی بار پوچھا کہ اس کے بعد تو آپ ﷺ نے فرمایا تمھارا باپ (صحیح بخاری ۵۹۷۱ )

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے تم پر ماں کی نافرمانی حرام قرار دی ہے (صحیح بخاری ۵۹۷۵ )

دین مبین نے والدین کے حقوق کے بارے میں بڑی صراحت کے ساتھ بتادیا ہے، اس کے تناظر میں آج ہم والدین کے ساتھ روا رکھے جانے والے اپنے رویوں پر غور کریں تو ہم اپنی دنیا اور آخرت کو مشکل راہ کی جانب لیکر جارہے ہیں، آج ہمارے گھروں مغرب کی اندھی تقلید کے باعث ہمارے ملک میں بھی اولڈ ایج ہومز میں اضافہ ہورہا ہے جہاں پر بے سہارا افراد کو چھت فراہم کی جاتی ہے.

مگر آج کی نالائق اولاد اپنے ان  بزرگ والدین جنھوں نے اسکی پیدائش سے جوانی تک ان کی ہر ضرورت اور خواہش کو پورا کیا ان اداروں میں چھوڑ کر پھر پلٹ کر یہ  بھی نہیں دیکھتے کہ وہ کس حال میں ہیں، آج ہم تمام لوگوں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان اولڈ ہومز کو بے سہارا لوگوں کیلے ہی رہنے دیں اور اپنے والدین کو اپنے اور اپنے بچوں کیلے سایہ رحمت و برکت بنا کر ان کو اپنے پاس رکھیں، ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں، ان کا وجود آپ کے بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کا بہت بڑا ذریعہ ہے، آئیں ہم سب آج ہی سے اپنے والدین کیلے کسی ایک دن کو مخصوص  کرنے کی بجائے ہر دن کو فادر ڈے اور مدر ڈے بنا کر ان کی بے لوث محبت اور دعائیں سمیٹیں اور اللہ جل شانہ کی محبت اور حضور اکرم ﷺ کی شفاعت کے حقدار بن کر اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لیں۔

ہماری دعا ہے کہ جب آپ اپنے والدین کی عمروں کو پہنچیں تو آپ کی اولاد آپ سے حسن سلوک والا رویہ اپنائے۔(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں