52

بہاول پور میں عثمان بزدار کا نیا سیاسی جنم … شعور میڈیا نیٹ ورک

ازقلم: ذیشان لطیف
بہاولپور

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزادر نے یکم رمضان المبارک کو بہاول پور ڈویژن کاطوفانی دورہ کیا اس طوفانی دورے نے ماضی کے تمام حکمرانوں کی طرح جہاں یہ تاثر پیداکیاکہ ماہ صیام کے دوران غریبوں کے اصل ہمدرد ہیں اورانہیں واقعی ریلیف دیناچاہتے ہیں۔ اس سے پہلے عثمان بزدار بہاولپور شہر میں کیبنٹ میٹنگ کے دوران چند روزہ قیام کرچکے ہیں تب کا عثمان بزدار پاکستان کے پرانے سیاسی خانوادوں،سیاسی شعبدہ بازوں اوربیرون ملک سے درآمد شدہ سپن ڈاکٹرز (جادوگر) کے حصار میں قید رہتاتھا۔ میں اس پریس کانفرنس میں بھی موجود تھا جوکہ اسلامیہ یونیورسٹی کے گھوٹوی ہال کے سامنے منعقدہوئی تھی اورپورا زور لگانے کے باوجود ڈائس کے سامنے موجود صحافیوں تک وہ اپنی آواز پہنچانے میں ناکامیاب رہے تھے۔

12کروڑ عوام کاسہماہوا حکمران عثمان بزدار ایک کرب ِ نارسائی اور بے بسی کی جیتی جاگتی تصویرتھا۔ میں نے دل میں سوچا کہ کیا یہ عثمان بزدار واقعی سردار فتح محمد بزدار کابیٹاہے جنہوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالا اوروہ قائداعظم کے قریبی ساتھیوں میں شمارہوتے تھے، اس قبیلے کی سرحد پنجاب سے بلوچستان تک جاتی ہے۔ پانچ لاکھ سے زائد افراد کاقبیلہ جس کی اپنی عدالتیں اورجیلیں تھیں جن کاجزاوسزا کااپناسسٹم تھا اس فتح محمد بزدار کابیٹابے بسی کی تصویرتھا۔

فن موسیقی میں سکھایاجاتاہے کہ جب بڑے خان صاحب اپنی بات کہہ دیتے ہیں تو سازندے سٹیج نہیں سنبھال لیتے۔ اس پریس کانفرنس میں ان کے ایک ماتحت نے موسیقی اورسیاسی ادب وآداب کے خلاف ڈیڑھ گھنٹے تک سٹیج پرقبضہ جمائے رکھا۔ شکاگویونیورسٹی سے درآمدشدہ اس نوجوان کاہرہرانداز چیخ چیخ کرگواہی دے رہاتھاکہ عثمان بزدار کوایسی مشکل پیچیدہ موسیقی کاراگ الاپنے کے لئے ایسے سازندے دئیے گئے ہیں جو نہ پلٹیاں لگاسکتے تھے نہ استائی اوراسترے کواپنی مہارے سے ترنم میں تبدیل کرسکتے تھے۔

پنجاب دنیاکے کئی ملکوں سے آباد ی اوررقبے کے لحاظ سے بڑاہے،چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھاکہ سردار فتح محمد کابیٹا اتنا بے بس اورلاچاربھی ہوسکتاہے،مجھے یہ سب مصنوعی سالگا کیونکہ عثمان بزدار اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان ہے،سیاست میں ماسٹر کی ڈگری رکھنے کے ساتھ ساتھ قانون دان بھی ہے۔ یکم رمضان المبارک کوسردار عثمان بزدار نے بہاول پورڈویژن کا طوفانی دورہ کیا۔صادق آباد،رحیم یارخان اور پھربہاول پور، اس دوران اس نے ماضی کے حکمرانوں کی طرح کسی کی بے عزتی یاتذلیل نہیں کی نہ ہی کسی کوسرعام رسوا کیا۔ کسی کی پگڑی نہیں اُچھالی،وہ بہاول پورماڈل بازار میں موجود ہرسٹال پرگیا ہرسٹال والے سے ہاتھ ملایا اورتب تک اس کاہاتھ نہ چھوڑا جب تک اس نے خود نہ چھڑوالیا۔

سب سٹال والوں کاکہناتھاکہ وہ چیزیں تو اللہ کی رضا کیلئے فروخت کررہے ہیں مگر ان کی جوعزت وافزائی وزیراعلیٰ نے ہاتھ ملاکر اوران سے گفتگوکرکے کی ہے اس پروہ ان کے شکرگزار ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ یہ جواربوں روپے کی سبسڈی حکومت نے رمضان بازاروں کودی ہے یہ کوئی احسان نہیں بلکہ یہ عوام کاحق تھا جوانہوں نے ادا کیا۔ عثمان بزدار سب کے ساتھ ہنستے مسکراتے اورسرائیکی،اردو،پنجابی میں گفتگو کرتے پنجاب کی سیاسی وسماجی موذیق نظر آئے۔

ایک دیہاتی عورت اچانک عثمان بزدار کے سامنے آگئی۔ قارئین کے لئے یہ تعجب کی بات ہوگی کہ ہمارے وسیب میں بزرگ خواتین محبت کااظہار بچوں سے بغلگیر ہوکرکرتی ہیں، وہ خاتون جیسے اپنے جوان بیٹے کوپیارکررہی تھی جواب میں عثمان بزدار نے بیٹوں کی طرح اس کے سرپرہاتھ رکھ کرپیاردیا اوراس کی مالی مدد بھی کی جیسے ایک بیٹاماں کے آنسو جذب نہ کرپایاہو۔

جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ ماڈل بازار میں آتشزدگی کے بعد وزیراعلیٰ نے ان دوکانداروں کی مالی مدد کااعلان کیاتھا تب عثمان بزدار کے اندر کانیاروپ سامنے آیا۔ چند لمحے وہ خاموش کھڑا رہا پھرجواب دیا کہ آپ یہ سوال یہاں موجود دوکانداروں سے کریں، دوکانداروں نے بتایاکہ وزیراعلیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق سب کو رقم ادا کردی ہے۔ میرے ذہن میں ماضی کے عظیم المرتبت وزراء اعلیٰ آئے جن کاقد عثمان بزدار کے اس رویے کے سامنے چھوٹاپڑ گیاتھا۔

میں تاریخ کے صنم کدے میں گم سم عثمان بزدار کودیکھ رہاتھا اس کے گرد ماضی کے ترجمان جس نے گالیاں اوربرا بھلاکہنے سے پنجاب کی سیاسی روایات کو اپنے غیرسنجیدہ،ناتجربہ کار اور ناتراشیدہ تہذیبی وسیاسی رویے سے پراگندہ کیا۔

شکاگو یونیورسٹی سے درآمد شدہ ہیومن مینجمنٹ کاجادوگر شہبازگل جس کے سبھی گن گاتے تھے وزیراعلیٰ کے ساتھ نہ تھا میں نے اسلام آباد اپنے ایک دوست کوفون کیاکہ جس کے سبھی گن گاتے ہیں آج وزیراعلیٰ کے جہاز میں کیااس کیلئے ایک سیٹ بھی نہ تھی؟ اس نے جواب دیا کہ سوسنار کی ایک لوہار کی۔ تمام جعلی ناتراشیدہ،غیرسنجیدہ، سیاسی اورعلم وفضل کی ابجد سے ناواقف لوگوں کو صمصام بخاری کھاگیاہے۔

عثمان بزدار نے آج پورا دن بہاولپور ڈویژن میں گزار کر ثابت کیاکہ ڈرا،سہما اوربھولابالا دوسروں کے حصار میں قید عثمان بزدار اپنے ماضی کودفن کرچکاہے۔ پنجاب کی سیاست کی شطرنج کی پیشنگوئی کرنیوالے آج سے نوماہ پہلے عثمان بزدار کوشطرنج کاپیادہ کہتے تھے مگرلاہور،گجرات اوردیگرعلاقوں کے سیاسی پنڈتوں کو میراچیلنج ہے کہ وہ عثمان بزدار کی آج کی کارکردگی کی ویڈیو تسلی سے دیکھیں وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائینگے کہ اب سردار عثمان بزدار ایک پیادہ نہیں بلکہ ایک فیلا یاوزیرہے جوکئی گھر چل سکتاہے۔

عثمان بزدار کو پی ٹی آئی کی ویمن ونگ کی صدر سمیراملک نے سرائیکی میں خوش آمدید کہا اورانہیں بتایاکہ عثمان بزدار سرائیکی غیور عوام کانمائندہ ہیں اورسرائیکی وسیب کوبجاطورپران پرفخرہے۔

عثمان بزدار جب بچیوں کے دارالاطفال گئے تووہاں انہوں نے ایک گھنٹے سے زیادہ ٹائم گزارا۔ بچیوں سے تفصیلی بات چیت کی،ان کے مسائل سنے،سٹاف کے مسائل سنے اور ان کے حل کیلئے متعلقہ حکام کوہدایات جار ی کی۔ ان بچیوں کیلئے ایک لاکھ روپے عیدی کابھی اعلان کیااور انہوں نے بچیوں کوخوشخبری سنائی کہ وہ سب بچیوں کو جلد پنجاب ہاؤس مری میں انوائٹ کریں گے جہاں وہ سرکاری مہمان ہوں گی۔

آج بہاول پور میں تونسہ کے دورافتادہ علاقے بارتھی کے بزدار قبیلے کے نئے چیف نے پنجاب کے حکمران کے طورپر نیاجنم لیاہے جو اس کے قبائلی تفاخر، صدیوں پرانے سیاسی ڈی این اے اورنوماہ طویل صبرآزما عرصے کے سیاسی حرکیات کامظہرہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں