46

جنوبی پنجاب کی سیاست اور کھگہ خاندان کا کردار… شعور میڈیا نیٹ ورک

ازقلم: عرفان الحق شاہ کھگہ

قیام پاکستان سے قبل جنوبی پنجاب کی سیاست میں جن جاگیرداروں کا اہم کردار رہا ان میں کھگہ خاندان سرفہرست ہے۔ پیر بڈھن شاہ برِصغیر کی سیاست میں ایک خاص مقام رکھتے تھے اور اس کی وجہ صرف ان کی سیاست نہیں بلکہ ان کا قریشی، ہاشمی اور اویسی خاندان سے تعلق بھی تھا جس کی کہ ایک خاص روحانی اہمیت تھی جو منٹگمری (حالیہ ضلع ساہیوال) اور ملتان میں آباد تھے اور پیر ہونے کے حوالے سے علاقہ کی مسلمان برادری پر اپنا گہرا اثر رکھتے تھے۔ ملتان میں ایک خانقاہ اسی خانوادے یعنی کھگہ خاندان سے منسوب ہے۔

پیر بڈھن شاہ کے سیاسی فہم و فراست انہیں قائدِ اعظم کے بے حد قریب لے آئی اور ۱۹۴۶ میں پیر صاحب آل انڈیا مسلم لیگ کی ٹکٹ پر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو جب آل انڈیا مسلم لیگ مملکتِ خداداد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تو کھگہ فیملی ان چند خاندانوں میں سے ایک تھی جو تشکیلِ پاکستان میں قائدِ اعظم کے ساتھی کسی سیاسی مفاد کی خاطر نہیں بلکہ قائدِ اعظم کے ویژن کی وجہ سے ان کے ساتھ تھی۔

اسی لیئے کھگہ خاندان نے ہندوستان آنے والے والے مہاجرین کی آباد کاری میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ اس مشکل مہم میں، جب ہندوستان سے دیس کی محبت میں لٹ پٹ کر آنے والوں کو ڈاہا خاندان کے جاگیردارانہ اثرورسوخ کا سامنا تھا تو پیر بڈھن شاہ کے صاحبزادے پیر قمر الزماں کھگہ اپنے والد کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے اور مہاجر خاندانوں کی آباد کاری کے لیئے نا قابلِ فراموش کردار ادا کیا۔

مہاجرین جو مشرقی پنجاب کے مختلف علاقوں سے آئے تھے ان کے لیئے پیر بڈھن شاہ نے وہنی وال میں ساڑے چار ایکڑ رقبے میں جھوک بستی قائم کی اور مکمل قابلِ رہائش گھر تعمیر کرکے دئے – کھگہ خاندان نے علاقے میں رہنے والوں کیلئے سکول، اسپتال، بنک، بجلی، ٹیلیفون،بھی قائم کئے۔

پیر بڈھن شاہ نے لوگوں کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک بس خریدی جو خانیوال سے وہنی وال ہوتے ہوئے وہاڑی تک چلا کرتی تھی یہی بس آگے چل کر وہنی وال اینڈ وہاڑی مسلم بس سروس لمیٹدوہاڑی جیسی عظیم الشان ٹرانسپورٹ کمپنی بن گئی-جسکی بیسیوں آرام دہ بسیں تھی- یہ بسیں لاہور، ملتان ،خانیوال،وہاڑی،اور چستیاں کے درمیان اپنے مقرہ وقتوں پر چلاکرتی تھیں-جو عوام کی سفری مشکلات کو دور کرنے میں ثابت ہوئیں۔

اس قابل تقلید کردار کی وجہ سے مہاجرین کے سرکردہ افراد نے پیر بڈھن شاہ کھگہ کا بھرپور ساتھ دیا-جس میں حاجی محمد کرم علی رحمانی محمد اسماعیل رحمانی،،عبدالشکور رحمانی،شیخ سوداگر علی،یعقوب خان،چوہدری برکت اللہ،بابا عبدالسلام ،پیر مسعود ترمزی اورچوہدری مجید انور قابل زکر ہیں۔

خانیوال کواپریٹو بنک بھی پیر بڈھن شاہ کی جانب سے کی جانے والی ایسے ہی ترقیاتی کاموں میں سے ایک ہے۔ پیر صاحب نے وہنی وال میں ایک اعلی درجے کا مرغی خانہ اور بجلی گھر بھی بنا رکھا تھااور اپنی تمام زمین میں مشینی آلات سے زراعت کرتے تھے- ایک عرصہ تک پیر بڈھن شاہ کھگہ کی ہدایت پر پیر قمرالزمان کھگہ بے روزگار مہاجرین کو کھانا تقسیم کرنے کی ڈیوٹی انجام دیتے رھے یہاں یہ امر قابل زکر ھے کہ مہاجرین نے ھجرت کے اوائل میں اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ درختوں کے پتے ابال کرپالا۔

پیر بڈھن شاہ کی دو شادیاں کی تھیں -پہلی شادی ملتان شہر کے پٹھانوں کے گھر ہوئی جس کے بطن سے دو لڑکیا ں پیدا ہوئیں۔ دوسری شادی لاہور میں میاں لقا محمد مرحوم کے گھر ہوئی جن سے دو صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں بھی ہیں۔ پیر بڈھن شاہ کا مزار ان کی آبائی جگہ وہنی وال میں ہے۔

پیر صاحب کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے پیر قمرالزمان شاہ کھگہ پیر آف وہنی وال مشہورہوئے۔ موصوف 29 اکتوبر 1933 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی بعدازاں امریکہ سے بی ایس سی (ٹیکسٹائل)کیا۔ 1962ء اور 1965ء میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1970ء میں بھی عوامی خدمات سرانجام دیتے رہے اور 1977 میں صوبائی وزیر صنعت رہے۔

یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ جب زوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا گیا اور ضیاء الحق کی آمریت کا عروج تھا تو بھٹو شہید کے اقتدار کی بہاروں کے ساتھی بھٹو خاندان کا ساتھ چھوڑ گئے لیکن پیر قمرالزمان شاہ کھگہ نے اس آمریت کا مردانہ وار مقابلہ کیا حالانکہ ضیاء الحق نے انہیں اہم عہدوں اور مراعات کی پیشکش کی -بھٹو خاندان پر وہ لمحات بھی آئے جب بیگم نصرت بھٹو کو بھٹو کے ساتھیوں نے لاہور میں رہائش دینے سے انکار کردیا تو انہوں نے اپنی رہائش گاہ گلبرک بیگم نصرت بھٹو و دختران بھٹو کے حوالے کردی۔

1985 میں جب غیر جماعتی الیکشن کا اعلان ہوا تو پیر قمرالزمان شاہ کھگہ نے غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے الیکشن میں حصہ اس سوچ کے تحت لیا کہ ان کے خیال کے مطابق غیر نظریاتی لوگوں کے لیئے جگہ خالی کرنا مناسب نہ تھا۔ اور وقت نے ثابت کر دیا کے مرحوم کی سوچ اور سیاسی ویژن بالکل درست تھا۔ پیر قمر الزماں کھگہ نے اپنی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر ۱۹۸۵ میں جنرل ضیا الحق کے ہرکارے کو شکست دے کر علاقہ کی تاریخ بدل کے رکھ دی۔

پیر قمرالزمان شاہ کھگہ 25 جنوری 2010 کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے تھے۔ کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق یا سوئی گیس کی فراہمی یا تعلیم وصحت کی بنیادی سہولتیں یہ سب ان کی مرحون منت ہیں۔

تاہم، محترمہ بینظیر بھٹو دو مرتبہ اقتدار میں آئیں تو کھگہ خاندان کو یکساں طور پر نظر انداز کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان دونوں کے صاحبزادے میاں سہیل زمان شاہ کھگہ اور میاں محمد حیات شاہ کھگہ سیاسی جماعتوں سےقدرے دور ہو چکے ہیں۔ جس کی وجہ وہ یہ بتلاتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے منشور سے ہٹ چکی ہیں۔ پیر سہیل زمان شاہ کھگہ پیر آف پگاڑا کے داماد ہیں اور چھوٹے صاحبزادے آرمی کے ایک اعلی آفیسر کے داماد ہیں۔

اب میاں محمد حیات شاہ کھگہ مرکزی چیئر مین محبان وطن پاکستان کا موقف ہے کہ اس ملک میں اگر کوئی ادارہ وطن عزیز سے وفادار رہ گیا ہے تو وہ افواج پاکستان ہے ان کا جھکاؤ آرمی اسٹیبلشمنٹ کی جانب بتایا جاتا ہے۔ تاہم،کھگہ خاندان رشتہ داریوں اور تعلق داریوں کے اعتبار سے آج بھی جنوبی پنجاب کا سب سے مضبوط خاندان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں