30

بھارت کیساتھ ساتھ چینی بھی بلا کے مے نوش نکلے

فرانس (ویب ڈیسک) حالیہ تحقیق کے مطابق 1990 کے مقابلے میں 2017 میں شراب نوشی میں 10 فیصد اضافہ ہوا جبکہ بھارت اور چین میں سب سے شراب نوشی ریکارڈ کی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق ‘دی لانسٹ’ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا بھر میں اگلے 10 برس کے دوران شرب نوشی کی عادت میں 17 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔

رپورٹ کے مصنف کے مطابق دنیا ‘مضر صحت شراب نوشی‘ کو کم کرنے کے لیے طے شدہ عالمی ہدف سے پیچھے ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ شراب نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے اس پر اضافی ٹیکس اور اس کی اشتہارات پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے۔

خیال ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا مقصد 2025 تک مضرصحت شراب نوشی میں 10 فیصد تخفیف لانا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق شراب نوشی سے 200 سے زائد بیماریاں منسلک ہیں جس کے باعث 30 لاکھ افراد (جس میں 75 فیصد مرد ہیں) ہر سال مختلف امراض اور حادثات کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

جرمنی کے محقق جیکوب منتھے نے بتایا کہ ’ 90 کی دہائی میں شراب نوشی معاشرے کے اعلیٰ طبقات میں باکثرت ہوتی تھی اور یورپ اس کا مرکز تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’رویوں میں تبدیلی کے نتیجے میں نتائج مختلف ہو چکے ہیں، اب مشرقی یورپ میں شراب نوشی کم لیکن وسط آمدن ممالک مثلاً چین، بھارت اور ویتنام میں باکثرت ہور ہی ہے‘۔

تحقیق میں چین اور امریکا میں شراب نوشی کا موازنہ پیش کیا گیا جس کے مطابق 2030 میں چین کے نوجوان اوسطاً 10 لیٹر سے زائد نوش کریں گے، جبکہ امریکی نوجوان 9.5 لیٹر تک شراب نوشی کریں گے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگلی دہائی کے اختتام تک چین کی تقریباً 77 فیصد اور امریکا کی 73 فیصد آبادی کم از کم ایک مرتبہ شراب نوشی کرے گی۔

تحقیق کے مطابق بھارت میں 2017 کے درمیانی عرصے میں 40 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین نے 6 لیٹر سے کم خالص شراب نوش کی۔

ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ بھارت میں 2030 کے عرصے تک شراب نوشی کرنے والوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں