22

گلگت بلتستان کی عوام کے مسائل حل نہ کیے تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرینگے: وزیر اعلٰی

چلاس (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے وفاقی اور خیبرپختونخواہ حکومت کو ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ عیدالفطر تک حدود تنازعہ ، کھنبری جنگل کا مسئلہ، کوہستان میں غیرقانونی ٹیکس کی وصولی جیسے مسائل حل نہ کئے گئے تو ممبران اسمبلی کے ہمراہ عوام کو ساتھ لے کر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے.

بسری کے مقام پر دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان پاکستان میں قانون کی دھجیاں اُڑا ر ہے ہیں ، یہ ملک چلانا عمران خان کے بس کی بات نہیں فوری طور پر استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں تاکہ یہ ملک چل سکے۔وزیر اعلی نے کہا کہ حدود بندی تنازعہ حل کرنے کیلئے بہت بڑی کوششیں کیں لیکن تبدیلی سرکار نے ہمیشہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور اب داریل کے عوام کے ملکیتی جنگلات ہتھیانے کیلئے غیر متعلقہ اشخاص کے ذریعے بے بنیاد دعوے کروائے جارہے ہیں ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف داریل کے لوگوں کا نہیں بلکہ یہ پورے گلگت بلتستان کا مسئلہ ہے ،گلگت بلتستان حکومت داریل کے عوام کا مقدمہ اپنا مقدمہ سمجھ کر لڑے گی اور بہت جلد قانونی ٹیم تشکیل دے کر سپریم کورٹ میں کیس لڑیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جن اشخاص نے کے پی کے کی عدالتوں میں یہاں کے جنگلات پر دعویٰ دائر کرکے آپس میں مصالحت اور ڈگری لی ہے اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،گلگت بلتستان کے جنگلات پر دعویٰ کرکے کیس دوسرے صوبے میں لڑنا قانون کی روز سے غلط ہے،یہاں آکر اپنا مقدمہ لڑیں اور اپنی ملکیت ثابت کریں ۔

وزیر اعلی نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ایک ایک انچ زمین کا دفاع کریں گے،وزیر اعلی نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے رائیکوٹ تا داسو شاہراہ کی تعمیر کیلئے مختص فنڈز اپنے وزراء میں تقسیم کیا ہے اور دیامر ڈیم کی تعمیر کیلئے مختص رقم مہمند ڈیم کیلئے منتقل کیا ہے جو کہ ظلم کی انتہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ حدود تنازعات کے حوالے سے گلگت بلتستان حکومت ہر فورم پر آواز اُٹھائے گی ہم قانونی اور سفارتی جنگ لڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک طرف سیاحت کی بات کرتے ہیں دوسری طرف گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کو روکنے کیلئے حکومتی مشنری کے ذریعے روڑے اٹکا رہے ہیں اور گلگت بلتستان کی سیاحت کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے جو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں