27

مجھے نکالنے کے لیے بچگانہ الزمات لگائے گئے: ثوبیہ مقدم

گلگت (ویب ڈیسک) سابق صوبائی وزیر ثوبیہ مقدم نے کہاہے کہ گیم ابھی شروع ہوئی ہے یہ کھیل اب چلے گا دیکھتے ہیں کون کہاں تک چلتا ہے ،مجھے نکالنے کیلئے جس قسم کے بچگانہ الزامات لگا کر رات کے اندھیرے میں جو فیصلہ کیا گیا اس پر افسوس ہوا.

گلگت میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ثوبیہ مقدم نے کہا کہ اصولی طورپر پہلے نوٹس دینا چاہیے تھا لیکن مجھے کوئی نوٹس نہیں دیاگیا اگر وزیراعلیٰ نے مجھے نکالنا ہی تھا توبچگانہ الزامات کی ضرورت نہیں تھی۔انہوںنے اپنا پاسپورٹ صحافیوں کودکھاتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک دوروں کے الزامات بے بنیاد ہیں صحافی خوددیکھ سکتے ہیں کہ میں کب اور کہاں گئی؟

پچھلے کئی روزسے بیمار تھی، کابینہ اور اسمبلی کے ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں گزشتہ چار سال کے دوران کابینہ کے صرف 2اجلاسوں میں شریک نہیں ہوسکی اور وہ بھی بیماری کی وجہ سے، جبکہ اسمبلی کے گزشتہ سیشن میں شریک تھی انہوںنے کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ سے اپنی ذات کیلئے کچھ نہیں مانگا تھا میں نے دیامر کے مسائل اور عوام کے مطالبات پرمشتمل 5نکات اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ ان کو حل ہونا چاہیے کیونکہ دیامر سی پیک کا گیٹ وے ہے یہاں کے مسائل حل نہ ہوئے تو سی پیک پر اثر پڑ سکتاہے.

وزیراعلیٰ نے دیامر میں تعلیمی ایمرجنسی کی بات کی تھی اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں دو سکول ہیں وہاں 4ہونے چاہیئں لیکن پہلے سے جو ایک سکول موجود ہے اس کی حالت بھی قابل رحم ہے میں نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی ہے تو سہولیات بھی دیں، ہمارے باربار کہنے کے باوجود بھی انہوں نے کان نہیں دھرے، بعد میں دیامر کے حیدر خان اور جانباز خان بھی ایک پیج پر آگئے تاکہ دیامر کے دیرینہ مسائل حل ہوسکیں پہلے ہم انفرادی طورپروزیراعلیٰ سے ملتے تھے بعد میں ہم تینوں نے جا کر وزیراعلیٰ سے بات کی ،مسائل سے آگاہ کیا ڈیم متاثرین اورسرحدی تنازعے کے معاملے پر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔

سرحدی تنازعے پر سرکاری وکیل کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا لیکن کیا ہوا آپ سب کے سامنے ہے ۔انہوںنے کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ کو اپنے حلقے کا دورہ کرایا وہاں پر بڑا جلسہ ہوا سی ایم نے حلقے کے کام دیکھ کر میری بڑی تعریف کی،اگر میں نے کچھ نہیں کیا تھا تو اس وقت تعریف کیوں کی تھی؟ پھر اسی جلسے میں وزیراعلیٰ نے ہزاروں لوگوں کے سامنے بڑے بڑے اعلانات کئے سکول،30بیڈ ہسپتال اور آ ر سی سی پل کے اعلانات کئے بعد میں اے ڈی پی دیکھی تو ان میں سے ایک بھی سکیم موجود نہیں تھی میں نے جا کے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ یہ آپ نے کیاکیا؟آپ نے ہزاروں لوگوں کے سامنے اعلانات کئے تھے وہاں کے لوگ ہم سے جواب مانگ رہے ہیں میرے پر زور مطالبے کے باوجود بھی انہوں نے ایک بھی سکیم اے ڈی پی میں شامل نہیں کی.

انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے میرے حلقے کے لئے لائی گئی 5کروڑ روپے کی سکیم کی فائل دبا کر رکھی ہوئی ہے میں نے یہ سکیم اس وقت کے چیف سیکرٹری بابر حیات تارڑ سے منظور کروائی تھی جس کا وزیراعلیٰ کو علم نہیں تھا،جب انہیں علم ہوا تو اس سکیم کو روکنے کی سازشیں شروع ہوئیں۔

وزیراعلیٰ نے دیامر کے دیگر ممبران کو بلا کر کہا کہ اس پانچ کروڑ میں سے ایک ایک کروڑ سب رکھیں میں نے احتجاج کیا کہ یہ سکیم میں نے لائی ہے اس پر میرا حق ہے دیگر ممبران نے بھی میری حمایت کی لیکن اس کے باوجود وزیراعلیٰ نے فائل دبا کر رکھی ہوئی ہے، انہوںنے کہا کہ مجھے 4سالوں میں صرف 12کروڑ روپے ملے سابق اپوزیشن لیڈرشاہ بیگ کو 82کروڑ روپے دیئے گئے آخر کیوں؟ کیا وہ ن لیگ کا ممبر یا کوئی وزیر ہیں؟انہیں کس وجہ سے دیا گیا؟ میں نے اپنے لئے کوئی ٹھیکہ نہیں مانگاتھا اپنے حلقے کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے سٹینڈ لیا تھا کیونکہ ایک جمہوری پارٹی میں اختلاف رائے سب کا حق ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں