3

پا کستان ہمارا ہے ۔۔۔ شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: سیداظہربخاری
faqeer1198@gmail.com

لاہور میں ہمارے ایک دوست ہیں جنکا نام حافظ سلیم اختر ہے ۔کام تو وہ آٹوسپیئرپارٹس کا کرتے ہیں مگرانکا دل و دماغ اپنے وطنِ عزیز کیلئے سوچتا اور حرکت کرتاہے۔ انہوں نے ایک خاصہ مفصل خط موجودہ حکمرانوں بھیجا اور باہمی تعلق کی وجہ سے مجھے دکھایا۔ پڑھ کر دل مجبور ہوا کہ یہ خط تمام پاکستانی بھی پڑھیں اور حکمران طبقہ بھی پڑھ کر اس پر غور کرے۔ مجھے ایسا لگتاہے کہ اس خط کو بغور پڑھ کر ،عمل پیرا ہوکر ہم اپنے ملک کو کئی بحرانوں سے نکال سکتے ہیں ۔ آئیے خط کو غورسے پڑھیں:

اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ میرے عزیز ہم وطنوں اور قابل احترام پاکستانی بھائیوں
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ:۔
ہمارا پیارا وطن پاکستان آج کل جن سنگین بحرانوں سے گزر رہا ہے وہ ملک کی تاریخ کا بد ترین دور ہے ۔ مہنگائی انتہا سے گزر چکی ہے۔ بجلی ، گیس ، پٹرول ، ڈالر ، ٹیکس دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں ۔ اشیاء خورد نوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوتا جارہا ہے ملک میں کاروبار کی حالت دن بدن ابتر ہوتی چلی جارہی ہے ۔ صنعت و انڈسٹری تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے زراعت برباد ہونے کو ہے کسانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ایکسپورٹ کم سے کم ہو رہی ہے ۔ حکومت اپنی جگہ بے بس نظر آتی ہے وہ چاہنے کے باوجود ملک کو اس سنگین معاشی بحرانوں سے نکال نہیں پا رہی کیونکہ بقول انکے خزانہ خالی ہے ملک کو چلانے کے لیے ان کے پاس پیسہ نہیں ۔

کبھی کسی سے قرضہ مانگنا پڑرہا ہے تو کبھی کسی سے امداد مانگی جارہی ہے ملک میں پانی کی قلت ایک بہت بڑی مصیبت کی پیشگوئی دے رہی ہے اور زبان حال یہ کہہ رہی ہے کہ اگر تم نے ڈیم نہ بنائے تو تمہارا ملک بنجر اور ویران ہوجائے گا پورے کا پورا ملک ایک لق ودق صحرا بن جائے گا ۔ یہ لہلہاتے کھیت ، یہ بہتے دریا ، یہ کھلتا ہوا گلستان ایک بھیانک اور اُجڑے ہوئے ریگستان میں تبدیل ہوجائے گا ۔ لیکن کیا کیا جائے؟ ۔ ڈیم بنانے کے لیے ملک کے پاس فنڈ نہیں اور اگر فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے اپیل کی جاتی ہے تو ہمارے ہی ملک کے بعض سیاستدان یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ چندے کے پیسوں سے ڈیم نہیں بنتے ۔ بھیک مانگنے سے ملک نہیں چلتے وغیرہ وغیرہ اس قسم کے کتنے ہی جملے روزانہ سننے میں آتے ہیں کوئی بیرونی سرمایہ دار ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ان کو اپنا سرمایہ محفوظ نظر نہیں آتا ۔ہمارے اپنے ملک کے سرمایہ داروں نے سرمایہ کاری روک لی ہے جس سے چھوٹے چھوٹے صنعتی یونٹ بند ہوچکے ہیں ۔ جس سے ملک میں بیروزگاری بڑھتی جارہی ہے ۔ لوگ مجبوراََ جرائم کی طرف مائل ہورہے ہیں ۔ چوریاں ، ڈکیتیاں بڑھ رہی ہیں ۔ لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہورہا ہے ۔ ملک کی ایکسپورٹ گھٹتی جارہی ہے ۔ جس سے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہوئے انتہائی خطرناک سطح تک آچکے ہیں ۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے اور اتنا بڑھ چکا ہے کہ ان قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے بھی قرضہ لینا پڑتا ہے ۔ یعنی اپنی کوئی آمدنی ہی نہیں جس سے اس قرض اور اس کی لعنت سود سے جان چھڑائی جاسکے۔ یہ قرض کا جن اس قدربڑھتا جارہا ہے کہ خدشہ ہے کہ کہیں یہ ہمارے وطن عزیز کو ایک ہی لقمہ میں نگل نہ جائے ۔یہ اور اس طرح کے کتنے ہی مسائل ہیں جن سے چھٹکارے کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔

لیکن اللہ رب العزت تمام جہانوں کا رب ہے اور وہی اپنی قدرت کاملہ سے بلا شرکت غیرے اس کائنات کا نظام چلا رہا ہے ۔ سبحان اللہ ۔ اللہ رب العزت نے پاکستان کے موجودہ مسائل کے حل کے لیے ایک ترکیب میرے دل میں ڈالی ہے ۔ مجھے اس مالک ارض و سماء کی رحمت سے پوری امید ہے کہ اگر اس ترکیب پر عمل کیا جائے تو ملک میں ڈیم بھی تعمیر ہوجائیں گے ۔ پانی کی کمی بھی ختم ہوجائے گی ۔ ملک کا قرضہ بھی اُتر جائے گا ۔ ملک میں بے روزگاری ختم ہوجائے گی اور ہر بندہ خوشحال ہوگا ۔ زرمبادلہ کے ذخائر بے شمار ہونگے ۔ ایکسپورٹ بڑھے گی ۔ آج ہم لوگوں سے قرضہ مانگ رہے ہیں ۔ ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہم دوسرے ملکوں کو قرضہ اور امداد دے سکیں گے ۔ جو لوگ ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کرنا پسند نہیں کرتے وہ اس بات کی خواہش اور تمنا کریں گے کہ پاکستان ان کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے راضی ہوجائے ۔ جو لوگ ہمارے وطن عزیز کو دہشت گرد ی کا مرکز قرار دیتے ہیں ان کی زبانیں اور قلم اس ملک پاکستان کو امن کا گہوارہ کہتے ہوئے نہ تھکیں گے ۔

آج پاکستانی امریکہ ، برطانیہ کا ویزہ لینے کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے ایک وقت آئے گا کہ وہ لوگ پاکستان کا ویزہ لائنوں میں لگ کر حاصل کرنے کے پورے جتن کریں گے اور جن کو ویزہ مل جائے گا وہ اپنے آپ کو انتہائی خوش قسمت گردانیں گے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ وہ ترکیب کافی طویل اور وضاحت طلب ہے لیکن میں یہاں پر مختصر عرض کرونگا ۔ کیونکہ “عاقلاں را اشارہ کافی است ” اگر یہ ترکیب بر سر اقتدار طبقے او ر عوام کی سمجھ میں آئے گی تو اس کو پوری شرح و بسط کے ساتھ عرض کریں گے لیکن اگر سمجھ میں نہ آئے تو اس ساری بات کو دیوانے کا خواب سمجھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں ۔وہ ترکیب یہ ہے کہ ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی بنائی جائے جس کے اندر پورے پاکستان سے بلا تفریق رنگ ونسل ، علاقہ وزبان ، قوم ومذہب ہر فرد کو انویسٹمنٹ کرنے کی دعوت دی جائے اور انویسٹمنٹ کی کوئی حد مقرر نہ ہو ۔ کم سے کم ایک ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ جو بھی جتنا سرمایہ لگانا چاہے اس ے ویلکم کیا جائے ۔ وہ کمپنی حکومت وقت کی زیر نگرانی اس رقم سے کاروبار کرے اور اس رقم سے حاصل ہونیو الا نفع آدھا کمپنی رکھے اور آدھا شےئر ہولڈرز میں ان کے شےئر کے مطابق ہر ماہ باقائدگی سے تقسیم کردیں اور اس بات میں بالکل بھی غفلت اور کوتاہی نہ کرے اس سے لوگوں کا اعتماد بڑھے گا اور لوگ زیادہ سے زیادہ انویسٹمنٹ کریں گے ۔ جس سے کمپنی کا کیپیٹل بڑھے گا اور اس سے منافع بڑھے گا پھر ساتھ ہی یہ بھی اعلان کردیں کہ جو بھی شےئر ہولڈر اپنی انویسٹمنٹ واپس لینا چاہے اس کو بلا چوں و چراں اس کی رقم بمعہ منافع واپس کردی جائے گی تاکہ لوگوں کو اس بات کا اطمینان حاصل ہو کہ ان کی رقم بھی محفوظ ہے اور منافع بھی مل رہا ہے ۔

اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جس طرح لوگ بینک میں اکاؤنٹ کھلواتے ہیں اور جب چاہے رقم نکلوا بھی سکتے ہیں اور جمع بھی کروا سکتے ہیں ان کی رقم بالکل محفوظ ہوتی ہے ۔ اب جو منافع کمپنی کو ملے گا اس رقم کو کمپنی اس طرح استعمال کرے کہ:۔

1۔ شروع شروع میں یہ دیکھیں کہ کون کون سے لوگ بے روزگار ہیں ۔ جو کسی فیلڈ میں مہارت رکھتے ہیں یا ہنر مند ہیں ۔ کمپنی ان افراد کو بلا سود انتہائی آسان شرائط پر قرض فراہم کرے تاکہ وہ لوگ اپنے ہنر اور مہارت سے اپنی روزی روٹی بھی کماسکیں اور ملکی بیروزگاری کو کم کریں اور ملکی صنعت میں اضافہ کریں اور جب ان کا کام چل جائے تو قرض کی رقم انتہائی آسان اقساط میں واپس کریں اور ساتھ ہی ان کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ جب وہ مکمل سیٹ ہوجائیں تو کم از کم 2بے روزگار افراد کو سپورٹ کرکے ان کو بھی سیٹ کریں ۔

وہ بے روزگار افراد چاہے ان کے بھائی ، رشتہ دار ، محلے دار ، دوست احباب اور تعلق والے ہوں ۔ ان کو مالی امداد سے، افرادی قوت سے ، مشوروں سے یا ہنر مندی سے یا تجارتی تعلقات سے یا وسائل کے مہیا کرنے سے ۔ غرض کسی بھی طریقہ سے ان سے تعاون کریں اور ان کو مکمل سیٹ کریں اور ان سے بھی اس بات کا عہد وپیمان لیں اور ان کو بھی پابند کریں کہ وہ بھی اسی طریقہ سے آگے 2افراد کو سیٹ کریں گے تاکہ اس طرح دیے سے دیا جلتا رہے اور یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہے ۔ یہاں تک کہ پورے ملک میں کوئی بھی بے روزگار نہ رہے ( یہ کام کمپنی اپنی نگرانی میں کروائے ) 

2۔ دوسرا کمپنی اپنے منافع کا استعمال ا طرح کرے کہ جن لوگوں نے چھوٹی چھوٹی صنعتیں لگا رکھی ہیں اور وہ مسائل کا شکار ہیں جن کی وجہ سے یا تو وہ صنعتیں بند ہیں یا بہت کم پروڈکشن دے رہی ہیں یا ان کی کاسٹ مہنگی پڑتی ہے تو کمپنی اپنے منافع میں سے ایسی انڈسٹریوں کو بلا سود آسان اقساط پر قرض فراہم کرے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے منافع میں سے ان کو بجلی، گیس ، خام مال ، ٹرانسپورٹ اور ٹیکسوں کی مد میں سبسڈی دے تاکہ ان کی پروڈکشن زیادہ اور سستی پڑے اور ان کی سیل زیادہ ہو ملک میں مہنگائی کم ہو خوشحالی آئے اور صنعتکاری کا رحجان بڑھے ۔ پھر ان کو بھی اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ بھی دوسری چھوٹی انڈسٹریوں کو ہر لحاظ سے سپورٹ کریں ۔ 

3۔ ملک میں جو بڑی بڑی صنعتیں اور انڈسٹریاں ہیں اور ان میں سے کئی اپنی پروڈکشن ایکسپورٹ بھی کرتے ہیں تو کمپنی اپنے منافع میں سے ان کو بجلی ، گیس ، خام مال اور ٹیکسوں میں بھر پور سبسڈی دے اگر بجلی ، گیس بالکل فری کردے تو بہت اچھا ورنہ انتہائی کم سے کم قیمت پر فراہم کرے تاکہ ان کی پروڈکشن عالمی مارکیٹ میں سستی ہو اور گاہک کا رحجان بڑھے ۔ جس سے ملک کی ایکسپورٹ اربوں ڈالر کی ہوجائے گی اور ملک میں زرمبادلہ انتہائی کثیر مقدار میں آئے گا ۔ ان کاموں سے ملک میں صنعتوں کا جال پھیل جائے گا ۔ ایکسپورٹ بڑھے گی ملک میں سرمایہ گردش کرے گا ۔ روزگار کے مواقع زیادہ سے زیادہ بنیں گے ۔ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ نوکریاں ملیں گی ۔ ہر بندہ خوشحال ہوگا ۔ کرپشن ختم ہوگی ۔ ایثار ، ہمدردی اور ایک دوسرے کا احساس بڑھے گا ۔ ہر فرد کو پورے ملک کی فکر ہوگی اور پورے ملک کوہر فرد کی فکر ہوگی ۔ تمام افراد ایک قوم اور ایک کنبہ کی حیثیت سے اُبھریں گے ۔ ہر شخص کو پوری قوم کا درد ہوگا اور پورے ملک میں کہیں بھی کسی بھی شخص کو تکلیف آئے گی تو پوری قوم تڑپ اٹھے گی ۔ لوگ حکومت کو خوشی سے ٹیکس دیں گے ۔ جس سے حکومت کو اپنے منصوبے مکمل کرنے میں دوسرے ملکوں سے قرض نہیں لینا پڑے گا ۔ 

4۔ کمپنی زراعت کے معاملے میں خصوصی توجہ دے گی ۔ چھوٹے کسانوں اور زمینداروں کو ادویات ، سپرے ، کھاد ، بیج اور پانی میں سبسڈی دے اور آسان اقساط پر بلا سود قرض حسنہ فراہم کرے جس سے ملک میں اناج، پھل ، سبزیاں سستی اور وافر ہوں گی مہنگائی کم ہوگی۔ 

5۔ پانچواں کام کمپنی یہ کرے کہ جن بے روزگار افراد کو کام کروایا اور جن چھوٹی صنعتوں اور انڈسٹریوں کو بڑا کیا اور جن بڑی صنعتوں اور تاجروں کو ایکسپورٹ لیول تک لائے اور جن کسانوں اور زمینداروں کو سپورٹ کیا ان سب کی ایک یونین بنائے اس یونین کا کام یہ ہوگا کہ وہ تمام افراد اور کمپنیاں اپنے اپنے منافع میں کچھ رقم نکال کر ملک میں مزید سرمایہ کاری کریں اور ملک میں مزید تجارت ، زراعت اور صنعت کو فروغ دیں ۔ 

6۔ چھٹا کام کمپنی یہ کرے کہ کمپنی اپنے منافع میں سے اور تاجر یونین کے منافع میں سے اور دوسرے افراد اور صنعتوں کے منافع میں سے ایک خاص رقم مختص کریں اور ڈیم فنڈ میں جمع کروانا شروع کردیں ۔ یہاں تک کہ ملک میں تمام ڈیم تیار ہو کر پانی کی مکمل کمی ختم ہوجائے ۔ 

7۔ اسی طرح ڈیم بننے کے بعد ملک کی تمام کمپنیاں ، صنعتیں ، تاجر ، کسان ، زمیندار ، ملازم پیشہ افراد غرض کہ پورے کا پورا ملک اپنے منافع کا صرف 3%(تین فیصد) نکال کر ملکی قرضہ اُتارنا شروع کردیں اور ہر ماہ ایسا کریں جس سے چند سالوں میں ملک کا سارا قرضہ بھی اُتر جائے گا اور حکومت پر کوئی بوجھ بھی نہیں پڑے گا اور اگر یہ لوگ ایسا نہ کریں یعنی 3%نہ دیں تو کمپنی اور تاجر یونین اپنا سارے کا سارا منافع ملکی قرض اُتارنے میں خرچ کردے اور ہر ماہ ایسا کرے یہاں تک کہ پورا قرض ادا ہوجائے ۔ 

8۔ یہ سارا کام کیسے ہوگا ۔ کمپنی کیا کاروبار کرے گی اور کس طرح کرے گی ۔ کمپنی کے پاس اتنے محنتی اور دیانتدار لوگوں کی ٹیم کیسے بنے گی اور لوگ کیسے انویسٹمنٹ کریں گے اور اتنی انویسٹمنٹ کیسے بنے گی جس سے اربوں ، کھربوں روپے کا منافع آئے اور شےئر ہولڈرز کو آدھا منافع دینے کے بعد بھی کمپنی کے پاس اربوں ، کھربوں روپے موجود ہوں جس سے وہ ملک کی زراعت ، تجارت اور صنعت کو بھر پور سپورٹ کرسکے اور پھر کمپنی کا طریقہ کار ایسا ہونا چاہیے کہ کسی کرپٹ فرد یا ادارے کو کرپشن کرنے اور کمپنی کے اندر ڈاکہ ڈالنے کا موقع اور راستہ نہ ملے ۔ اس سب کی پوری تفصیل اور پلاننگ میرے پاس موجود ہے ۔ مجھے اللہ رب العزت کی ذات سے پوری امید ہے کہ جیسا میں نے بیان کیا وہ مالک اپنے فضل وکرم سے ویساہی معاملہ کرے گا ۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ حکومت میرا ساتھ دے اور اس کام کو شروع کرے۔ کیونکہ حکومت کی سرپرستی کے بغیر یہ کام ممکن نہیں اور اگر حکومت یہ سمجھے کہ یہ ایک ناقص پالیسی ہے اور ان کے پاس اس سے بہتر پالیسی ہے تو وہ اپنی پالیسی پر عمل کریں اور اس بات کو ایک بے وقوف شخص کی بے وقوفی سمجھ کر درگزر کردیں اور اگر اس کو ذرہ سی بھی اہمیت دیں تو وقت ضائع کیے بغیر فورا کام شروع کروائیں کیونکہ ہم پہلے ہی بہت زیادہ وقت ضائع کرچکے ہیں ۔ 

9۔ یہ کام بہت محنت طلب ، مشکل ، دشوار گزار اور کٹھن ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ۔ اس وقت دنیامیں ایسی کمپنیاں موجود ہیں جن کا کیپیٹل ایک ہزار ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے ۔ ان کو بھی آخر انسان ہی چلاتے ہیں تو ہم لوگ ایسا کیوں نہیں کرسکتے ؟

میں نے بہت مختصر صرف ایک خاکہ پیش کیا ہے ابھی بہت تفصیل باقی ہے جس سے ملک کے ہر ہرشعبہ میں خاطر خواہ ترقی ہوسکتی ہے۔ لیکن طوالت کے خوف سے ان کو عرض کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔ وقت آنے پر پوری وضاحت کیساتھ عرض کرونگا ۔ 

آخر میں ایک بات کہہ کر اپنی بات کو ختم کرتا ہوں کہ میرا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہیں اور نہ ہی یہ مضمون کسی پارٹی کو سپورٹ کرنے کے لیے لکھا گیا ہے اور نہ ہی کسی مذہبی فرقے سے کوئی تعلق ہے میں ایک عام مسلمان اور محب وطن پاکستانی ہوں ۔ میری ساری کی ساری ہمدردیاں ، محبتیں ساری توانائیاں ساری صلاحیتیں ، سارا جان مال ، وقت ، مذہب اسلام اور وطن عزیز پاکستان کے لیے ہیں ۔ جو ان کا خادم ہے میں اس کا خادم ہوں اور جو ان کا دشمن ہے میں اس کا دشمن ہوں ۔ میری ساری قوت او ر سوچ کا مرکز اور محور مذہب اسلام اور پاکستان ہے اور اسی سے وابستہ ہے ۔ انہی سے شروع ہوتی ہے اور انہی پر ختم ہوتی ہے ۔

آپ سب کا بھائی بندہ ناچیز،حافظ محمد سلیم اختر ۔ لاہور ۔پاکستان 

محترم حافظ سلیم اخترصاحب کی وطن کے ساتھ محبت اور اسے پھلتا پھولتا دیکھنے کی تمنا نے مجھے بھی مجبور کردیا کہ آج صرف ان ہی کی بات کو ایوان بالا تک پہنچایا جائے ۔ آج اسی لیئے اپنی کوئی بات نہیں کی۔اگرپاکستان بدلنے کیلئے حکومت اس پالیسی کو اپنانا چاہے تو حافظ صاحب سیمشاورت کرسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں