30

سرائیکی وسیب کی لوک کہانیاں ۔۔۔ شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

قصے کہانیاں یا ماضی کے واقعات بیان کرنا ہمیشہ انسانی فطرت کا حصہ رہا ہے ۔بلاشبہ جب سے انسان نے ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنا شروع کی اسی وقت سے کہانی وجود میں آئی۔ ہزاروں سال پہلے انسان جب جنگلوں اور غاروں میں رہتا تھا تو اس وقت سے لیکر بعد تک بھی نہ صرف یہ قصے کہانیوں کا دلدادہ رہا بلکہ دیگر تفریحی مشاغل کے ساتھ قصے کہانیوں میں بطور تفریح دلچسپی لیتارہاہے اور اپنے قبیلے کی برتری ثابت کرنے کے لئے کارنامے بھی سناتا رہا ہے۔ان کہانیوں کے بارے میں مختلف ادوار میں تحقیقات کی جاتی رہی ہیں۔

ڈاکٹر میکسین الٹیریوجو کہ ایک تجربہ کار لیکچرر ہیں اور سیکھنے، تعلیم دینے اور تحقیق کے لیے قصہ گوئی کے طریقوں پر ریسرچ کر رہی ہیں وہ کہتی ہیں کہ کہانی سنانا مختلف ثقافتوں اور علاقوں کے درمیان رابطے کا ایک طاقتور اور دیرپا اثرات کا حامل ذریعہ ہو سکتا ہے۔وہ مزید کہتی ہیں کہ قصہ گوئی سے ایک صحت مند بحث کے دروازے کھلتے ہیں، تعاون بڑھتا ہے، سوال پوچھنے کی قابلیت بڑھتی ہے جس سے علم مستحکم ہوتا ہے۔

بروس کارموڈی جو کہ کینیڈا کے ایک ریٹائرڈ ماہر تعلیم ہیں اور اب ایک پروفیشنل قصہ گو ہیں کہتے ہیں کہ دوسرے فوائد کے علاوہ قصہ گوئی بچوں میں تنقیدی سوچ اور تصورکی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔وہ تجویز کرتے ہیں کہ قصہ گوئی کو صرف بچوں کو کہانیاں سنانے تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں یہ بھی سکھانا چاہیے کہ کہانیاں کیسے سنائی جائیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جب بچے کہانی سنانا سیکھ جاتے ہیں تو ان کے پاس الفاظ کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے۔وہ اچھے جملے بنا سکتے ہیں اور بہتر لکھاری بھی بن سکتے ہیں۔ یہ سارے ہنر وہ ہیں جو بچوں کو نا صرف اسکول میں مدد دے سکتے ہی بلکہ تب بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں جب وہ اسکول سے نکل کر جاب مارکیٹ میں داخل ہوں گے۔

الیسن ڈیویزجو ایک پروفیشنل قصہ گو ہیں اور اس موضوع پر کئی کتابیں لکھ چکی ہیں وہ کہتی ہیں کہ جب ہم کوئی کہانی سنتے ہیں تو ہمارا دماغ ایک مختلف طرح کا رد عمل دیتا ہے۔ ہم کہانی سننے پر زیادہ سے زیادہ معلومات کو جذب کرتے ہیں اس لیے اگر ہم بچوں کو سکھانے کے لیے نت نئے طریقے استعمال کریں تو یہ بہتر ہوگا۔ڈیویز کے نزدیک اس معاملے میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔قصہ گوئی ہر عمر کے لوگوں کے لیے مفید ہے کیوں کہ یہ انسانی فطرت ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کو 9 سال تک کہانیاں سنانی چاہیءں مگر 7 سالوں کی عمر میں والدین بہت بڑا اثر چھوڑتے ہیں۔ اس عمر میں کہانیاں بچے کو مطالعے کا شوق دلاتی ہیں۔

نوبیل انعام یافتہ چینی ناول نویس مو یان نے نوبل انعام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ میں ایک قصہ گو ہوں اور قصہ گوئی نے ہی مجھے نوبیل انعام سے نوازا ہے۔ پیٹر ہینڈکی کے الفاظ میں اگر کوئی قوم اپنے کہانی سنانے والوں کو کھو دیتی ہے تو وہ اپنے بچپن کو بھی کھو دیتی ہے۔صحافت سے منسلک لوگ نیوز ہو یا فیچر اسے اسٹوری یعنی کہانی ہی کہتے ہیں۔قرآن پاک اور دیگر آسمانی کتب کے اسلوب میں بھی ہمیں اس کی اہمیت نظر آتی ہے۔ جگہ جگہ قرآنِ کریم میں بات سمجھانے کے لیے چھوٹی اور کہیں بڑی تمثیلوں کا استعمال کیا گیاہے۔

اسلاف یا اجداد کی جانب سے چلی آنے والی لوک کہانیاں جن کی عام طور پر کوئی تحریری حیثیت نہ رہی ہو۔سینہ بہ سینہ چلتی رہی ہیں۔ گو یہ الگ بات ہے کہ آج کی دنیا میں جہاں ہر چیز اور ہر موضوع پر لکھا جاچکا ہے وہیں لوک کہانیاں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہیں۔ جب وسیب میں سرائیکی کی شناخت کی لہر چلی تو پھر پہچان کی یہ ادبی اور فکری لہر مسلسل بڑھتی چلی گئی۔اس دوران جو چیز بھی سامنے آتی گئی سرائیکی لکھاری اسے اپناتے گئے۔ اس دوران سرائیکی ادب میں ہیئت، موضوع اور سوچ کو تبدیل کرنے کے جتن کیئے گئے۔بہر حال اس عبوری دور میں سرائیکی لکھاریوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔سرائیکی وسیب کے لکھاریوں نے لوک قصے کو ادب کے حوالے سے مالا مال کر دیا۔ان لکھاریوں میں سید عصمت اللہ شاہ کا نام بھی سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔

عصمت اللہ شاہ 15دسمبر 1969ء کو ضلع لودھراں کے قصبہ مخدوم عالی میں پیدا ہوئے۔2000ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے اردو اقبالیات ،2005میں ایم اے سرائیکی (یونیورسٹی بھر میں دوسری پوزیشن کے ساتھ) ،2008ء میں ایم فل اردو اقبالیات اور ایم فل سرائیکی کیا۔ان دنوں پی ایچ ڈی اسکالر کے طور پر تحقیق میں مصروف ہیں۔ 2008ء میں لیکچرار سرائیکی اور2017ء میں اسسٹنٹ پروفیسر(سرائیکی)منتخب ہوئے۔آجکل ایس ای کالج بہاولپور میں بطور صدر سرائیکی تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ملکی اخبارات و رسائل میں سرائیکی تہذیب و ثقافت اور ادب پر ان کی بیسیوں تحریریں شائع ہو چکی ہیں۔ایک قومی اخبار کے ثقافتی صفحے پر ’’فرسٹ فلور‘‘کے عنوان سے ان کی جمع کی ہوئی لوک کہانیوں کا ترجمہ مسلسل5سال تک شائع ہوتا رہا ہے ۔

ان کی تین کتب 2008ء میں سوجھل قصے (سرائیکی لوک قصے)،2010ء میں حفیظ خان کی تحقیقی جہتیں(تحقیق اور ترتیب)،پریم نگر (صوفیانہ شاعری اوراس کا ترجمہ) زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ علاوہ ازیں عصمت اللہ شاہ ماہنامہ’’ تذکارِفرید ملتان اورماہنامہ ’’ تعلیمی اصول‘‘ لودھراں کی ادار ت بھی کرتے رہے ہیں۔سابقہ سات برس سے ریڈیو پاکستان بہاولپور کیلئے سرائیکی ادبی پروگرام ’’پھوار‘‘کے ایڈیٹر کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں ۔ انہیں ان کی تعلیمی و ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر کئی بار مختلف اعزازات و ایوارڈز سے نوازا گیا ۔جن میں خواجہ فرید ادبی ایوارڈ (کوٹ مٹھن شریف)،چوپال ادبی ایوارڈ (ملتان)،اولمپیا ء ایکسی لینسی ایوارڈ(لودھراں) ، پٹھانے خان ادبی ایوارڈ(کوٹ ادو)وغیرہ شامل ہیں۔علاوہ ازیں مختلف سماجی داروں میں وطنِ عزیز وغیر ملک میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے علم و ادب، حکمت و دانائی، سائنس، فلسفہ، تاریخ، جغرافیہ طب اور اسلامیات و اخلاقیات سمیت ہر موضوع پر معیاری و معلوماتی کتب کی اشاعت کے سلسلے میں عصمت اللہ شاہ کی 50لوک کہانیوں پر مشتمل 144 صفحات کی کتاب ’’سرائیکی وسیب
کی لوک کہانیاں‘‘ جون 2018 میں شائع کی گئی ہے۔ یہ کتاب سرائیکی لوک قصوں پر مشتمل جون2008ء میں شائع ہونے والی ان کی پہلی تصنیف ’’سوجھل قصے ‘‘ سے منتخب عوامی دانائیوں کے تحریری نمونوں پر مبنی لوک کہانیوں کا ارد و ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں عوامی دانائیوں کے عمدہ تحریری نمونے شامل ہیں۔ یہ کتاب فاؤنڈیشن کے اہم مشن ’’قومی ہم آہنگی و لسانی یک جہتی‘‘ کو پورا کرتی ہے۔ انتساب خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ کے نام ہے۔ کتاب کے ٹائٹل صفحے پرسرائیکی وسیب کی ثقافت کو اجاگر کیا گیا ہے۔کتاب کے اندرونی ورق پر ملتانی رنگ نمایاں ہے۔ لوک دانش اور محققین کے لیے معلومات افزا اور اہم اس کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹر انعام الحق جاوید (پرائیڈ آف پر فارمنس)نے لکھا ہے۔

سید عصمت اللہ شاہ اس کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ میرے عزیز دوست حکیم محمد آصف کا ذکر اس لئے بھی ضروری ہے کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سٹال پر کھڑے ہو کر میری توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی تھی کہ سرائیکی وسیب کے لوک قصوں کو مقامی سطح پر شائع کرانے کی بجائے اس بڑے فورم کے ذریعے دور تک اور دیر تک باقی رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔ان کی اس خواہش کو شیر میاں عباسی ،غلام اصغر ،عاصم ثقلین درانی اور خورشید ربانی جیسے دوستوں کی مشاورت اور معاونت نے مہمیز کیااور اس خواب کی تعمیر ممکن ہوئی۔سید عصمت اللہ شاہ امید کرتے ہیں کہ یہ خزانہ یونہی نسل در نسل سفر کرتا رہے گا۔اس کتاب کی پہلی کہانی ’’مقدم رشتہ‘‘ میں رشتوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔جبکہ کتاب کی دیگر کہانیوں میں علم ودانش کے موتی پروئے ہوئے ہیں ۔

آزمائے ہوئے کو پھر نہ آزمانا،بزرگوں کی کہی ہوئی باتیں ہمیشہ سچ ثابت ہوتی ہیں،بیٹا کہلوانا آسان اور باپ کہلوانا مشکل،بھاڑ میں جائے وہ سونا جو کان چھیدے،پہلے پرکھو پھر کھاؤ،ماں مر کر بھی اولاد کا بھلا چاہتی ہے،دانائی بھی خدا کی دین ہے ایک عام شخص بھی علم ودانش کے موتی بکھیر سکتا ہے ،دعا ہر وقت مانگتے رہیں،ایک چپ ہزار سکھ،خدا کی ذات ہی بگڑے کام سنوارتی ہے،مرنے والے کا اعلان زندہ لوگوں کیلئے موت کیلئے خبردار رہنے کی اطلاع ہے،علم کی اہمیت،ماں کی دعا،فطرت اور شرست ہی اصل پہچان ہے،لالچ گراوٹ کا سبب،زبان کا زخم تلوار کے زخم سے گہرا،وفا دار دوست کی قدر،جلد بازی اچھی نہیں،سو دن چور کے ایک دن سادھ کا،ہر بندہ اپنی اصل کی طرف جاتا ہے،چور کے گھر کبھی چولہا نہیں جلتا،وقت کی قدر کریں یہ کبھی ایک سا نہیں رہتا،اچھی نیت کا اچھا پھل،مقدر کا لکھا رزق ملتا ہے،اللہ پر بھروسہ،زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے،اتفاق میں برکت ہے،اوپر والا ہی وسیلے بناتا ہے وغیرہ جیسے نصیحت آموز فقروں وضرب الامثال نے کہانیوں کو دلچسپ بنا دیا ہے ۔

ان کہانیوں کا قاری جب تک کتاب مکمل پڑھ نہ لے اسے چین نہیں آتا۔اور یہی قصہ گو ئی کا کمال ہے۔
کہانیاں بچوں کو سونے سے پہلے رلیکس کرتی ہیں۔ ان کے مطالعے کی عادت کو بڑھاوا دیتی ہیں اور بچوں اور والدین کے رشتے کو برقرار رکھتی ہیں۔مگرہم جانوروں، پرندوں، جنوں، پریوں، اور شہزادوں کی لوک کہانیاں بھولتے جا رہے ہیں۔ اب ہمارے پاس اتنا وقت ہی نہیں بچا کہ ہم اپنے بچوں کو کہانیاں سنا کر ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پرکھ سکیں۔

ہم ایک ایسی نسل کی تیاری میں مصروف عمل ہیں جو کہ ویڈیو گیم اور موبائل فون چلانے میں تو ماہر ہے مگر اسے یہ نہیں معلوم کہ کہانیاں کیا ہوتی ہیں۔ کیسے لکڑہارا جن کو مار کر شہزادی کو اس کی قید سے آزاد کرواتا ہے۔کیسے پھر وہ شہزادہ بنتا ہے اور کس طرح پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی اہمیت کو سمجھا جائے اور تعلیمی اداروں تک اس فن کی مختلف صورتوں میں ترویج کی جائے۔ اگر ہم روایتی سوچ کا مظاہرہ کرتے رہے اور ان علوم کو محض تفریحی ادب اور کھیل تماشے کا نام دے کر نظر انداز کرتے رہے تو قوم جو پہلے ہی سوشل میڈیا اور غیر ملکی ثقافت کے سیلاب میں بہے چلی جارہی ہے اپنی شناخت پر تفاخر کا احساس کھو بیٹھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں