220

عزت مآب وزیراعظم عمران خاں کچھ نظر کرم ادھر بھی… شعور میڈیا نیٹ ورک

تحریر۔انیلہ اشرف 

یہ بجا سہی کہ آپ نے اس قوم سے وعدہ کر رکھا ہے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک کروڑ نوکریوں کی فراہمی کا اور یقیناً آپ ایسا کرنے والے بھی ہیں مگر میری التماس صرف اتنی ہے کہ ایک کروڑ ملازمتوں کی تشہیر سے پہلے ایک کروڑ خاندانوں کے کفیل بیروز گار کرنا کہاں کا انصاف ہے اور یہ کیسی ملازمتوں کی فراہمی ہے کہ ایک کروڑ ملازمین،ان کے اہل خانہ اور معصوم بچوں کو بھوک کی طرف دھکیل دیا جائے۔اگر ایسا کرنا اشد ضروری ہے تو آپ کے پا کستانی ہاتھ جوڑ کر آپ سے مودبانہ گزارش کرتے ہیں کہ ان کے بھائیوں کے معاشی خون سے ان کے گھروں میں روشنیاں نہ کی جا ئیں ااپ کے پاکستانی بازآئے نوکریوں کی خواہش سے ۔

ہم آپ کے ایک کروڑ نوکریوں کی فراہمی کے وعدہ کو بھلانے کو تیار ہیں  بس ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو بیروزگاری کے اندھیروں میں نہ دھکیلیں کہ اس کے بعد ان کے پاس اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے کچھ نہ رہے اور تمام  جھنجھٹوں سے چھٹکارے کا واحد راستہ خودکشی ہی رہ جا ئے چاہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی خودکشیاں ۔خدارا بےپناہ مصروفیت میں سے تھوڑا وقت نکال کر ظل الٰہی ایک لمحے کیلئے ان بھوکے پیاسے بچوں کا بھی سوچیں جن کے والدین کو پنجاب کابینہ نے آپ کے ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے کی پاسداری کے چکر میں بیروز گار کر دیا ہے۔وہ بچے بھی پاکستان کے بچے  اور ان کے بیروزگار والدین فلاحی ریاست پاکستان کے شہری ہیں  جن کا نہ تو کوئی سیاسی ایجنڈا ہے اور نہ ہی معاشی وہ صرف اپنے جگر گوشوں کو دو وقت کی روٹی اور تعلیم کا ایجنڈا خواب کی صورت رکھتے ہیں تاکہ ان کی نسل نو فعال شہری بن سکے۔

عرض کچھ یوں ہے کہ پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں برسوں سے تعینات ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین کوازخود  بیروزگار کرتے ہو ئےنئی بھرتیوں کیلئے آسامیاں مشتہر بھی کر دی ہیں ۔جبکہ مختلف محکموں نے ملازمتوں سے برطرفی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی بالا ہی بالا جا ری کردیا ہے جس سے ملازمین گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو نے کے پیش نظر  انتہائی پریشانی اور مایوسی سے دوچار ہیں۔صوبہ بھر میں صرف سوشل ویلفیئر اور سپیشل ایجوکیشن کے متاثرہ ملازمین کی تعداد 10ہزار سے زائد ہے  اور ملازمین کی مدت ملازمت 4سال سے 9سال ہے۔ اس پر مزید ظلم یہ کہ متعلقہ آسامیوں پر بھرتیوں کا سلسلہ شروع کر نے کیلئے اسامیاں مشتہیر بھی کر دی گئی ہیں ۔

اس سلسلہ میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر اور دیگر سیکرٹریوں کی جانب سے جاری کردہ مراسلہ کے مطابق   29دسمبر 2018 کو بہاولپور میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت منعقد ہ صوبائی کابینہ کے چھٹے اجلاس کے دوران  تمام صوبائی محکموں میں فرائض سر انجام دینے والے ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین کو بیروزگار کرنے کا فیصلہ کرتے ہو ئے نئی بھرتیوں کی منظوری دی گئی ۔جس کے بعد رواں سال کے پہلے دن صوبائی سیکرٹریوں کو احکامات جاری کیے گئے کہ صوبائی کابینہ کی بہاولپور میں منعقدہ چھٹے اجلاس کے فیصلہ کے مطابق تمام محکموں کےکنٹریکٹ  ملازمین کو اگاہ کر دیا جائے کہ انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے اور ان کی آسامیوں پرنئی بھرتیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں ۔

نئی بھرتیوں سے قبل وہ ملازمتوں سے فارغ ہیں ۔ جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن 15جنوری کو جاری کیا گیا ہے جبکہ تمام محکموں کے صوبائی سیکرٹریوں نے اس سلسلہ میں احکامات بھی جاری کر دیئے ہیں جس کے بعد سے ملازمین انتہائی پریشانی اور مایوسی میں مبتلا ہیں ۔ واضح رہے کہ سابقہ دور حکومت میں 4سالہ کنٹریکٹ پر فرائض سر انجام دینے والے ملازمین کو از خود مستقل کرنے کی پالیسی مرتب دی گئی تھی جس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوسکا بلکہ 4سے10سال سے ملازمت کر نے والے ہزاروں افراد بیروزگاری کی جانب دھکیل دیئے گئے ہیں۔

ان ملازمین کا قصور صرف اپنے بچوں کو سسک سسک کر مرنے کی بجائے خود داری سے جینے کی جدوجہد کا درس دینا ہے۔از راہ کرم ہم ایک بار پھر کہتے ہیں ہمارے ایک کروڑ پاکستانی بیروز گار کرکے دوسرے ایک کروڑ پا کستانیوں کو نوکری مت دیں ہم اپنوں کے خون پر گھروں میں دیئے نہیں جلا سکتے ہیں۔یہ ملک اور یہاں کے باسی پہلے دہشت گردی،بیروزگاری اور کرپشن گرم بازار سے لہو لہو ہیں انہیں مزید بن موت نہ ماریں۔یہ درخواست صرف ایک سوچنے اور احساس کرنے والی پاکستانی شہری کی ہے  جو یہ چاہتی ہے کہ ماضی کی  ان گنت غلطیوں سے  عزت مآب وزیراعظم  اور ان کی ٹیم نے کچھ نہیں سیکھنا اور چہرے بدل کر سب ویسا ہی چلانا ہے تو ضرور کریں مگر مزید ظلم کے پہاڑ نہ توڑیں کہ ہمارا قومی ہیرو جو وقت نے ہمارے وزیر اعظم پاکستان کی شکل میں نگران اعلٰی بنا دیا ۔ہم اس کا تشخص ا سی طرح برقرار رکھتے ہو ے ۔اس سے پیار کرتے رہنا چاہتے ہیں تاکہ تاریخ کے سنہری حروف میں اس کا نام جلی حروف میں قائم رہے ۔

سیاسی اقدام نہ تو اسے دھندلا کرسکیں اور نہ ہی مٹا سکیں۔انسانیت کے ناطےایک ادنیٰ سی کاوش ہے اگر عزت مآب قابل توجہ سمجھ سکیں تاکہ میرے ہم وطن نہ تو خود کشیاں کریں اور نہ  ہی بیروزگاری انہیں چوریاں اور ڈکیتیاں کرائے بلکہ اپنی محنت سے بچوں کا پیٹ پالتے رہیں۔ درخواست صرف انسانی بنیادوں پر ہے۔

یقیناًبطور بلوچ۔سرائیکی اور تونسہ شریف سے وزیر اعلی پنجاب کی طرح نسبت رکھنے کی وجہ سے روزاول سے وزیراعلی سردار عثمان بزدار کی حمایت اور مدد چونکہ فرض ہے تو میرا حلقہ احباب جانتا ہے کہ وہ جاری و ساری ہے اور جب تک پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی امانت ان کے پاس ہے ہمیشہ رہے گی۔مگر جہاں ضرورت پڑی اور غلط فیصلے ہو ئے تو ایک انسان ہونے کی حیثیت سے جہاں وزیراعلی سردار عثمان بزدار کا دفاع جاری رکھنے کا عزم ہے وہاں تحریک انصاف کے دور میں انسانوں سے کی جانے والی ناانصافیوں پر خاموشی یا وزیراعلی اور کابینہ کے غلط فیصلوں پر مظلوموں کو تنہا چھوڑنا بھی گوارہ نہیں اور ناانصافی کے نتیجے میں کیے جانے والے انسان کش فیصلوں کے خلاف بھی سب سے پہلی آواز بننے پر فخر ہے۔

لہٰذا بیروز گار ہونے والے ایک کروڑ ملازمین کے اندیشیوں کو زبان دے کر ہمدردانہ درخواست ہے تاکہ نظر ثانی کی گنجائش نکالی جا سکے۔کیونکہ ایک بلوچ۔سرائیکی۔تونسہ شریف کی رہائشی اور صحافی ہونے کے ساتھ میں باضمیر اور انسانی حقوق کی ادنٰی رکن ں آپ سے بھی گزارش کرتی ہے کہ فلاحی ریاست مدینہ میں انسانیت اور ان بچوں کا بھی سوچیں جن کے والدین بیٹھے بیٹھائے بیروز گاری کی طرف دھکیل دیئے گئے ہیں اگریہ پالیسی ہے تو اس کو بہتر کیا جا ئے اور سیاسی انتقام ہے تو ظل الٰی سے درخواست ہے کہ اس کو ختم کر دیا جائے کیونکہ ہو سکتا ہے ان ملازمین میں سے ایک فیصد کی کسی نہ کسی سے سیاسی وابستگی ہو 99فیصد صرف بچوں اور ایل خانہ کیلئے صرف روزی روٹی کا حصول یقینی بنا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں