112

بہاول پور صوبہ بحال کیاجائے؟

ازقلم: خضرکلاسرا

بہاول پور کے بزرگ سیاستدان و رکن قومی اسمبلی فاروق اعظم ملک کاقومی اسمبلی کے فلور پر تکرارکیساتھ کہنا تھاکہ محترمہ جو کہہ رہی ہیں،وہ سوال کا جواب نہیں ہے ۔ہمارا سوال تھاکہ ہمیں قائد اعظم سولر پارک بہاولپور سے کیا ملے گا ؟ جواب ایساآیاہے کہ اس پر یہ تبصرہ کرناپڑتاہے کہ سوال گندم جواب چنا ۔سر ایسے نہیں چلے گا۔ پہلے تو سی پیک میں خبیر پختوانخوا ہ کو بھی نہیں رکھا تھا لیکن آپ پٹھان کیونکہ تگڑے تھے،پٹھان ماشااللہ سارے پٹھان تگڑے ہوتے ہیں، یوں آپ نے سارا کچھ درست کرلیاہے۔ہمیں بھی انسان سمجھیں۔ ہمیں بھی اس ملک کا باسی سمجھیں ،ہمارے پاس انڈسٹری نہیں ہے۔ ہمار ے پاس صرف اور صر ف زراعت ہے اور اسی پر ہمار اگزارہ ہے۔

بہاول پور میں پانی نیچے چل گیاہے،لوگ مررہے ہیں ۔جانور اور انسان چولستان میں پانی ایک جگہ سے پی رہے ہیں،اربوں،کروڑون روپے لاہور جاتے ہیں۔ہمارا قصور بتائیں کہ پاکستان میں ملکر جو ہم نے قربانی دی تھی ۔اس کا یہ صلہ دیاجارہاہے ؟ اب وزیراعظم عمران خان آئے ہیں،وہ ہمارے ایشو کو ایڈریس کریں ۔آپ وزیراعظم عمران خان کو بلائیں اور انہیں کہیں کہ ان کو(بہاول پور) سی پیک کا حصہ بناو،یہ جودوکروڑ لوگ ہیں یہ تیتم نہیں ہیں۔

اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے فاروق اعظم ملک صاحب کو ٹھنڈا کرنے کوشش کرتے ہوئے کہاکہ میں ان کو بلاؤں گا بھی سہی،انشااللہ آپ کیساتھ بیٹھیں گے بھی سہی،اور ساتھ ہی کہاکہ خوشی قسمتی کی بات یہ ہے کہ آپ بھی جنوبی اضلاع سے ہیں،اور وزیرموصوف بھی جنوبی پنجاب سے ہیں،اور پارلیمانی سیکرٹری بھی ہیں لیکن فاروق اعظم ملک صاحب بہاول پور کیساتھ روارکھے گئے سلوک پر اور بات کرنے کے متمنی تھے اور ادھر اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کی کاروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے کہاکہ ملک صاحب آپ نے جو ایشو اٹھایاہے ۔اس کو حل کیجائیگا۔

اس بات میں شک نہیں ہے کہ بہاول پور کیساتھ روا ر رکھے گئے سوتیلی ماں کے سلوک ا ور ایشوز پر فاروق اعظم ملک جیسے بزرگ سیاستدان گھنٹوں دلیل کیساتھ ایوان میں گفتگو کرسکتے ہیں۔فلور آف دی ہاوس پر ابھی تو فاروق اعظم ملک نے دریائے ستلج کی بھارت کو فروخت کرنے پر بھی بات نہیں کی تھی وگرنہ جو صورتحال بہاولپور میں اس دریا کی فروخت کے بعد ہوئی ہے ،اس کیلئے ایک پورا سیشن بات کیجائے تو مناسب ہوگا۔

ادھر بہاول پور سے منتخب رکن قومی اسمبلی و وفاقی وزیر ہاوسنگ طارق بشیر چیمہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں ایک اور کٹا کھول لیاہے۔ان کا دوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ وہ جنوبی پنجاب صوبہ کے سخت مخالف اور بہاول پور صوبہ کے حامی ہیں۔پھر ان کا کہناتھاکہ1951 سے 1954 بہاول پور صوبہ تھا ۔مخدوم زادہ حسن محمود اس کے وزیراعلی تھے جبکہ ان کے والد صاحب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر تھے۔ طارق بشیر چیمہ نے اپنے تئیں بہاول پور کا مقدمہ ٹی وی پروگرام کی حدتک تو خوب لڑاہے لیکن دلچسپ صورتحال یوں ہے کہ طارق بشیر چیمہ کے چھوٹے بھائی وسابق رکن قومی اسمبلی طاہر بشیر چیمہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے سیکرٹری جنرل ہیں مطلب وہ جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور لہور میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور یہ وہی طاہر بشیر چیمہ ہیں جو عثمان بزدار کی بحیثت وزیراعلی پنجاب نامزدگی کے بعدان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر میڈیا کے سامنے لائے تھے ۔

طارق بشیر چیمہ صاحب کی ٹی وی چینل پر بہاول پور صوبہ کے حق میں دئیے گئے بیان کے بعد میڈیا بالخصوص جنوبی پنجاب میں ایک نئی بحث نے جنم لیاہے کہ اگر بہاول پور کے نواب صلاح الدین عباسی اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ جیسے سیاستدان جنوبی پنجاب میں شامل ہونے پر تیارنہیں ہیں تو پھر جنوبی جنوب صوبہ کا معاملہ بھی الجھ جائیگا۔

فاروق اعظم ملک صاحب بھی وزیراعظم عمران خان کو اس حوالے آگاہ کرچکے ہیں کہ وہ بہاول پور صوبہ کے حامی ہیں مطلب ایک کے بعد ایک بہاولپوری سیاستدان اپنے دیرنیہ مطالبہ پر قائم ہے کہ بہاول پور صوبہ کو بحال کیجائے۔اس صورتحال میں راقم الحروف نے مناسب سمجھاکہ طاہر بشیر چیمہ جوکہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے جنرل سیکرٹری ہیں،ان سے رابط کیجائے اور پوچھاجائے کہ وہ وفاقی وزیرطارق بشیر چیمہ ا وربڑے بھائی کے حالیہ ٹی وی پروگرام میں جنوبی پنجاب صوبہ کے بارے میں سخت موقف او ر بہاولپور صوبہ بحالی کیلئے موقف کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں ؟

راقم الحروف کا طاہر بشیر چیمہ صاحب سے رابط ہواتو انہوں نے بتایاکہ جنوبی پنجاب صوبہ ایک حقیقت بن چکاہے ،ہم اس پر خاصاکام کررہے ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ اس دھرتی کے عوام کواس دور میں ہی صوبہ مل جائے۔راقم الحروف کا پوچھناتھاکہ حضور، طارق بشیر چیمہ صاحب کے حالیہ بیان پر آپ کیاکہیں گےتو ان کا جواب تھاکہ چیمہ صاحب کا احترام ہے،بڑے بھائی ہیں اور ان کو حق ہے کہ وہ اپنا موقف دیں لیکن میرا خیال ہے کہ اس وقت رنگ میں بھنگ نہ ڈالاجائے۔

جنوبی پنجاب صوبہ کیلئے یہاں کے سیاستدانوں کے مل کر چلنے میں ہی اس علاقہ کی بہتری ہے۔درست ہے کہ بہاولپور کے سیاستدانوں اور عوام نے اپنے صوبہ کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں لیکن خضربھائی بہاولپور صوبہ ان حالات میں قابل عمل نہیں ہے۔چیمہ صاحب کا اپنا موقف ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جائینگے ۔طاہر بشیر چیمہ کا یہ بھی کہناتھاکہ اب تو ان کو وزیراعلی کی جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کیلئے قائم کی گئی کونسل کا چیرمین بنایاگیاہے ۔ہم مسلسل اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

سیکر ٹری جنرل صوبہ محاذ جنوبی پنجا ب طاہر بشیر چیمہ کے موقف پر بھی اتنا کہاجاسکتاہے کہ ان کو حق ہے کہ وہ اپنی رائے کااظہار کریں لیکن یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ بہاول پور کے عوام کبھی ملتان کیساتھ چلنے پر راضی نہیں ہوئے ہیں جیسے ان کے بھائی طارق بشیر چیمہ نے کہاہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ جس کا صوبائی دارلحکومت ملتان ہوگا، اس میں رہنے کی بجائے بہتر ہوگا کہ ہم لہور کے جوتے کھاتے رہیں۔

طارق بشیر چیمہ بہاول پور کی سیاست کی گہرائی سے اچھی طرح واقف ہیں ،یوں ان کو بخوبی کو پتہ ہے کہ بہاول پور کے نواب صلاح الدین عباسی جب تک اس بہاول پور صوبہ بحالی تحریک کیساتھ کھڑے ہیں ۔بہاولپور ی عوام کبھی بہاول پور صوبہ بحالی تحریک کو راہ میں چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبہ یا کسی اور مطالبہ کے پیچھے نہیں جائیگی۔ اور یہی وجہ ہے کہ طارق بشیر چیمہ نے تحریک انصاف کی قیادت کے فیصلہ جنوبی پنجاب صوبہ کے پیچھے چلنے کی بجائے دوٹوک الفاظ میں وہ راہ لی ہے کہ جوکہ بہاول پورکے نواب صلاح الدین اور عوام کا دوٹوک موقف اور مطالبہ ہے کہ بہاول پور کی صوبائی حیثٰت کو بحال کیجائے۔

بہاول پور صوبہ بحالی کیلئے بہاول پور کے عوام نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کی سیاست میں آمدسے پہلے جدوجہد کررہے ہیں۔انہوں نے تو ون یونٹ کے خاتمہ کے بعد ہی بہاول پور صوبہ کیلئے جدوجہد کا آغازکردیاہے۔انہوں نے اس کیلئے یحیی خان کے جبر وظلم کا بھی سامناکیا،گولی چلی ،جیلیں ہوئی،شہادتیں ہوئیں،جس کا احوال نوجوان نسل بہاول پور کے مقامی اخبار کائنات کے ”گولی نمبر” میں پڑھ سکتے ہیں کہ کس طرح پورا بہاول پور اپنے صوبہ کی خاطر باہر نکل آیاتھا۔

بہاول پور کی سیاست میں کوئی سیاستدان بہاولپور صوبہ بحالی ایشو کی مخالفت کرکے زیادہ دیر سیاست میں وجود کو برقرار نہیں رکھ سکتاہے،یہی وجہ کہ رحیم یارخان کی قدآور سیاسی شخصیت ا ورفرزند مخدوم زادہ حسن محمود نے بھی بہاول پور صوبہ کی مخالفت پر بہاول پور کی عوام سے معافی مانگی تھی۔ یہاں ملتان کے سیاستدانوں سے یہ سوال جواب کا طلبگار ہے کہ آخر بہاولپور کے عوام جو ملتان سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر رہتے ہیں،وہ جنوبی پنجاب صوبہ میں شامل ہونے سے لہور میں شامل ہونے کو کیوں ترجیح دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں