88

بین الاقوامی مشاعرے میں ضلع لودھراں کے شاعروں کی شمولیت

رپورٹ: رانا سرفراز طاہر
سکنہ دھنوٹ تحصیل کہروڑ پکا ضلع لودھراں
ساکن( حال) مسقط ( عمان )

زبان و ادب کو فروغ دینا آسان نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ فردِ واحد کا کام ہے ہاں۔۔ اگر انسان کی سوچ مثبت اور عزائم پختہ ہوں تو مسائل کم سے کم اور وسائل زیادہ بن جاتے ہیں۔ جس طرح ایک کے ساتھ ایک ملانے سے گیارہ بن جاتے ہیں ٹھیک اسی طرح ایک انسان کچھ کر گزرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور اس ارادے کو اپنے دوستوں سے تبادلۂ خیال کرے تو وہی دوست اس کی ٹیم بن کر اس ارادے کو پایہ ء تکمیل تک پنہچانے میں مدد کرتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے پاکستان سوشل کلب عمان کے ڈائریکٹر معروف شاعر ناصر معروف نے مسقط میں ایک عالمی مشاعرہ منعقد کرنے کا سوچا تو کلب کے چیئرمین میاں منیر احمد، بورڈ آف ڈائریکٹرز مجلسِ شعر و ادب عمان کے صدر مقبول احمد شیخ اور تمام ممبران نے ان کی سوچ کا ناصرف خیر مقدم کیا بلکہ اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے اور اس کے انعقاد کے لئے اپنی تمام تر کاوشیں بروئے کار لانے کی مکمل یقین دہانی کرائی۔ اور بالآخر دسمبر کی ا ٹکھیلیاںں کرتی سردی کی ایک رات یعنی 20 دسمبر 2018 کو ” مسقط ہالیڈے ہوٹل ” کے ایک دیدہ زیب اور کشادہ ہال میں مجلسِ شعر و ادب اور پاکستان سوشل کلب کے باہمی تعاون سے ایک ایسی محفل برپا ہوئی جو ناصرف شعراء بلکہ عمان کے دور دراز اور مختلف علاقوں سے آئے سامعین کے ذہن و دل پر گہرے نقوش چھوڑ گئی۔

جہاں امریکہ ، برطانیہ، کویت، بحرین اور پاکستان سے آئے نامور اور نمائندہ شعراء نے اس مشاعرے میں شرکت کی اسی طرح سامعین کی ایک بڑی تعداد نے ہر شاعر کو ناصرف بغور سنا بلکہ ہر ہر شعر پر داد و تحسین پیش کرکے ان کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی کر کے محفل کو اٹھائے رکھا اور اس بات کا مہمان شعراء نے بھی اعتراف کیا کہ ایسے زندہ دل اور سخن فہم سامعین بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔

محفل کا باقاعدہ آغاز قرآن کریم کی تلاوت پاک سے ہوا جس کا شرف وجاہت حسین کو ملا اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت عابد مغل کو حاصل ہوئی۔

چیف آرگنائزر ناصر معروف نے استقبالیہ خطبہ پیش کیا۔ اس کے بعد لٹریری ونگ عمان کے ہیڈ مقبول احمد شیخ نے نظامت کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے میزبان شعراء شکیل شہاب، عابد مغل، عمران اسد، سید رضوان حیدر، رانا سرفراز طاہر، موسی کشمیری، مقبول احمد شیخ، قمر ریاض، ناصر معروف اور محمد علی فضل کو دعوتِ سخن پیش کی اور ان کے بعد نظامت کی ذمہ داری پاکستان سے آئے معروف شاعر سید نوید حیدر کو سونپی گئی جنہوں نے اپنے مخصوص اور منفرد انداز میں اپنا کلام بھی پیش کیا اور دنیا کے مختلف ممالک سے آئے مہمان شعراء کو دعوتِ سخن پیش کی۔ شعری دور کے اختتام پر زعیم اختر (جنرل سیکرٹری پاکستان سوشل کلب عمان) نے سٹیج پر آ کر خطبہ ء تشکر دیا۔

اس کے بعد مہمان شعراء کو ” اعزازی شیلڈز ” دیں گئیں۔ پروگرام کے آخر میں بذریعہ قرعہ اندازی سامعین میں مختلف انعامات کے ساتھ ساتھ عمرہ اور جارجیا کے ٹکٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ اس بین الاقوامی مشاعرے میں ضلع لودھراں کے دو شعراء رانا سرفراز طاہر اور وحید اسد کی شمولیت ضلع لودھراں کیلئے قابلِ فخر بات ہے۔

شعراء کرام کے کلام سے انتخاب کیا گیا نمونہ ء کلام ؛

جنات اترتے ہیں میری طرف
کوہ قاف کی پریاں تیرے نام
(شکیل شہاب)

فقط اک پھونک مارو تو توقف تھوڑا مل جائے
مسلسل میرے جلنے پہ دیا بھی طنز کرتا ہے
(عابد مغل)

دستار بیچنی پڑی سر بیچنا پڑا
حالات ایسے بن گئے گھر بیچنا پڑا
(عمران اسد اعوان)

پردیس کو جانا تو ہے آباء کی نشانی
سادات میں ہجرت کی روایت ہے پرانی
(سید رضوان حیدر)

موم ہو کر بھی پگھلنا نہیں آیا مجھ کو
اس ندامت سے تو بہتر تھا میں پتھر ہوتا
(موسیٰ کشمیری)

تم جو چاہو تو مجھے چھوڑ کے جا سکتے ہو
میں نے یہ رنج کئی بار اٹھایا ہوا ہے
(قمر ریاض)

پاؤں میرے زمیں نے کھینچ لئے
چھو رہا تھا میں آسماں مرشد
(رانا سرفراز طاہر)

نظر نظر میں اترنا کمال ہوتا ہے
وفا کی راہ میں مرنا کمال ہوتا ہے
(مقبول احمد شیخ)

اگر عزت ملے تو سر تکبر سے اٹھانا مت
کسی کی خاک کو تم اپنے پیروں سے اڑانا مت
(ناصر معروف)

دس تینوں کی لبھا میری اکھیں کٹا پا کے
میری نظر تے دونڑئی ہو گئی تیتھوں دھوکہ کھا کے
(محمد علی فضل)

پاؤں رکھا تھا اس نے کمرے میں
پھول دیوا ر سے نکل آیا
(راؤ وحید اسد، پاکستان)

وہ کیا ہمارا ساتھ نبھائے گا عمر بھر
رکھے ہوئے رویہ ہے اغیار کی طرح
(ریاض شاہد، بحرین)

غم کی چادر سے نکلنے نہیں دیتا مجھ کو
میرے رب نے مجھے اوقات میں رکھا ہوا ہے
(سید نوید حیدر، پاکستان)

خالد سجاد سنا رہوں اس غم کو خوب سمجھتا ہوں
جب بچہ چھپ کر روتا ہے تب ماں کا زیور بکتا ہے
(خالد سجاد، کویت)

راتوں کی خاک چھاننے والوں سے تجھ کو کیا
تیرے تو پورے ہو گئے بیٹھے بٹھائے خواب
(ظہیر مشتاق رانا، کویت)

یہ دنیا ہے یہاں پر یہ تماشا ہو بھی سکتا ہے
ابھی جو غم ہمارا ہے تمھارا ہو بھی سکتا ہے
(قیصر وجدی، پاکستان )

انگلیاں پھیر میرے بالوں میں
یہ مرا دردِ سر نہیں جاتا
(ندیم بھابھہ، پاکستان)

اس سے تعلقات بڑھانے کی چاہ میں
فہمی میں اپنے آپ سے کٹتا چلا گیا
(شوکت فہمی، امریکہ)

کہو قرآن پڑھنے کے لئے بچے کہاں بھیجوں
مساجد میں ہیں دہشت گرد قاتل ہیں مدارس میں
(منصور آفاق، برطانیہ)

بے حسی کی دنیا میں دو سوال میرے بھی
کس طرح جیا جائے کس لئے جیا جائے
(ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، پاکستان)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں