237

ڈیرہ غازی خان، راجن پور کے طلبگار بلوچستان کے سردار

از قلم: خضرکلاسرا

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشہبازشریف نے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام اور بہاولپور صوبہ بحالی کے حوالے سے حکومت کوجیسے ہی تعاون کی پیشکش کی تو ایوان میں بات کرنیوالوں کا تانتا بندھ گیا، نوازلیگی ارکان اسمبلی کے چہروں پر خوشی عیاں تھی کہ انہوں نے حکومت کوایک بڑی مشکل میں ڈال دیاہے،مطلب اب آیا “اونٹ پہاڑ کے نیچے”۔

راقم الحروف پریس گیلری میں صحافی اس بات کو نوٹ کررہے تھے کہ وہ ارکان جو قومی اسمبلی میں آمد کے بعد مسلسل خاموش تھے اور مناسب نہیں سمجھاتھاکہ کوئی اپنے حلقے کی عوام جن کے ووٹوں سے منتخب ہوکر یہاں پہنچے تھے، ان کے دکھوں کا تذکرہ بھی کرتے۔لیکن اب انہوں نے بھی ہاتھ کھڑے کرکے اسپیکر کو متوجہ کرنا شروع کردیا تھا کہ پہلے ان کو بات کرنے کا موقع دیں، ان کا زیادہ حق بنتاہے کیوں کہ وہ کبھی ایوان میں اس سے پہلے نہیں بولے ہیں،مطلب یہ انکا پسندیدہ سبجیکٹ ہے کیوں اس کیساتھ وہ زیادہ دور نہ بھی جائیں یہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی پچھلی دو حکومتوں میں جن کی مدت دس سال بنتی ہے، اس میں ہاکی کے مشہور کھلاڑی کلیم اللہ اور سمیع اللہ کی طرز پر ایک دوسرے کو بال دے کر سیاسی میدان کو انجوائے کرتے رہے ہیں لیکن ان عظیم کھلاڑیوں کی طرح گول کرکے عوام کی خواہشات کے مطابق پنجاب میں جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام اور بہاولپور صوبہ کی بحالی کیلئے کوئی عملی کام نہیں کیا۔

پاکستان ایک کیثر القومی ملک ہے

اسپیکرقومی اسمبلی کیلئے اس صورتحال میں ایوان چلانا یوں مشکل ہورہاتھا کہ ایک طرف حکومتی بنچوں پر موجود ارکان اسمبلی اوروزیروں کی فوج ظفر موج لیگی لیڈر شہبازشریف سے سکور برابر کرنے کیلئے بے چین تھی تو دوسری طرف اپوزیشن بنچوں سے پیپلزپارٹٰی جیسی بڑی جماعت بھی میدان میں آگئی تھی کہ وہ بھی جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کیلئے کسی بھی پیشرفت کی صورت میں ساتھ دے گی ، نوازلیگی اور پیپلزپارٹٰی لیڈر شپ اور ارکان کی اس کاروائی کا مقصد ایک ہی تھاکہ پنجاب میں جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام اور بہاولپور صوبہ بحالی پر سیاست کرنے میں ساتھ والی نشت پر موجود حکومت کو بیک فٹ پر دھکیل دیاجائے۔

دلچسپ صورتحال ایوان میں یوں بھی تھی کہ حکومت کے بنچوں پر اس معاملے پر اختلاف شدت کیساتھ دیکھنے کو مل رہاتھا، بہاولپور اور ملتان کے ارکان اسمبلی پارٹٰی پالیسی سے بالاتر ہوکر جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام اور بہاولپور صوبہ بحالی پر تقسیم ہی نہیں ہوگئے تھے بلکہ ایکدوسرے پر الزامات بھی لگارہے تھے ۔ بہاولپورکے ارکان اسمبلی کا کہناتھاکہ وہ جنوبی پنجاب صوبہ کی شکل میں ملتان کی سربراہی قبول نہیں کریں گے اور ملتان نے ہمارا حق ماراہے،ہمارا صوبہ بہاولپور تھا اور اس کو بحال کیجائے ۔

ادھرنوازلیگی لیڈرو نیب کے ملزم شہبازشریف کی طرف سے پنجاب کی تقسیم پر تعاون کا حکومت کو باونسر مارنے کے بعد قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام اور بہاولپور صوبہ بحالی پر تقریر کرنیوالوں میں جہاں ملتان اور بہاولپور کے ارکان اسمبلی شامل تھے، وہاں پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل بھی میدان میں آگئے ، اخترمینگل بلوچستان کے وزیراعلی رہ چکے ہیں بلوچستان کی سیاست میں اہم حیثیت رکھنے کے علاوہ قومی سیاست میں بھی ان کی خاص پہچان ہے،مشکل وقت کا سامنا بھی کرتے رہے ہیں،

تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو اس ملک میں پانچ صوبہ ہوئے کرتے تھے،بنگلہ دیش،پنجاب،سندھ ، این ڈبلیو ایف پی(خبیرپختوانخواہ) اور بلوچستان

انہوں نے بھی جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام اور بہاولپور صوبہ بحالی پر اظہار خیال کرنے کیلئے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری سے رجوع کیا،قاسم خان سوری کی طرف اجازت ملنے کیساتھ ہی بلوچستان نیشنل پارٹیٰ کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ آج جو نئے صوبے اور جنوبی پنجاب کے حوالے سے بات چیت ہورہی ہے ،موقع کی نزاکت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ہم نے بھی چاہا کہ ہم بھی اپنا نقط نظر یہاں پیشں کریں ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو اس ملک میں پانچ صوبہ ہوئے کرتے تھے،بنگلہ دیش،پنجاب،سندھ ، این ڈبلیو ایف پی(خبیرپختوانخواہ) اور بلوچستان۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم پانچ سے چھ کی بجائے ہم چار کیوں ہوگئے ہیں ؟

کیا نئے صوبے بنانے سے ہم پسماندگی کا خاتمہ کرینگے؟ کیا نئے صوبے بنانے سے صرف ہم لوگوں میں پائی جانیوالی اس احساس محرومی کو ختم کریں گے ؟ میں قطعا یہ نہیں کہتاکہ ہم نئے صوبے بنانے کے حق میں نہیں لیکن جو صوبے بنے ہیں۔ کیا انہی صوبوں کو ملا کرکے ہم نے ایک صوبہ کی بالادستی کو قائم کرنے کیلئے ون یونٹ کا قیام نہیں کیاتھا۔ اور اس ون یونٹ کیخلاف تحریک چلانے والوں کو انہی قلعی کیمپ کے اذیت خانوں میں ان کو کوڑے نہیں مارگئے تھے اور اس ایوان میں وہ لوگ بھی بیٹھے ہونگے ،جنہوں نے ون یونٹ کی حمایت بھی کی ہوگی۔آج وہ سرخرو ہیں ؟ چلے جاتے ہیں ، لیکن جنہوں نے صعوبتیں برداشت کیں ،جنہوں نے جیلیں کاٹیں، جنہوں نے پھانیساں چڑھیں، وہ آج بھی پاکستان کی تاریخی کی کتابوں میں غداروں کے القابات سے نوازے جاتے ہیں۔

صوبوں کو اخیتارات دیئے جائیں، جتنے بھی آپ صوبے بنائیں گے لیکن جب تک ان کے اختیارات نہیں دیئے جائیں،بنگلہ دیش کیوں الگ ہوا ہم سے ؟ کون ہے اس کا ذمہ دار ہے ؟ ،کس کی انا ؟ کس کی ہٹ دھرمی ؟ یا کس کی اپنی بالادستی یا اپنی میجارٹٰی جوہے کو ثابت کرنے کیلئے اپنا ایک بڑا حصہ، اپنے سے کاٹ کر ، اور بدقسمتی یہ ہے انسان کی ایک زمین کا ٹکرا چھین جاتا ہے تو وہ ماتم کدہ ہوجاتاہے ۔اس ملک کا سب سے بڑا حصہ الگ کیاگیا ، اور یہاں شادیانے بجائے گئے،یہاں پر جشن منایاگیا، لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں کہ اچھا ہوا کہ اس سے ہماری جان چھوٹی.

ملک کا سب سے بڑا حصہ الگ کیاگیا ، اور یہاں شادیانے بجائے گئے

آج جو سورش ہے چاہے وہ بلوچستان میں ہے، چاہے وہ سندھ میں ہے۔ وہ کیوں ہے؟ کیونکہ ان صوبوں کو وہ اخیتارات نہیں مل رہے جن کا 1947میں اس ملک کی بنیاد رکھتے ہوئے ان کیساتھ وہ معائدات کیے گئے تھے۔ان معاہدات کے انخراف میں بنگلہ دیش الگ ہوگیا ، اور دوسروں صوبوں میں بھی آپ کی علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔

پاکستان اس میں کوئی شک نہیں ایک کیثر القومی ملک ہے، اسمیں سندھ میں رہنے سندھی ،بلوچستان میں رہنے والے بلوچستانی،پنجاب میں رہنے والے پنجابی یا سرائیکی۔ خبیرپختوانخواہ میں رہنے والے ہمارے پشتون، نئے صوبہ بھی بنایاہے گلگت بلتستان ،اس کے بھی تو اخیتارات دیکھ لیں،کتنے اخیتارات ہیں، کشمیر کو تو ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں لیکن اس کشمیر کے اخیتارات ہمارے میونسپل کمیٹی کے اخیتارات سے بڑے نہیں ہونگے۔یہ حقائق ہیں ۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا۔ہم بالکل،چاہے وہ جنوبی پنجاب کا صوبہ ہو یا اس کا کوئی اور نام لیاجاتاہے لیکن جب تک کہ صوبوں کی ازنوسرحد بندی نہیں ہوتی ۔

ہمارے بلوچستان کا ایک بڑا حصہ ایران کو دیدیاگیا تھا، کیا آپ کے 1973 کے آئین میں یہ بات ہے یاآپ کے 1965آئین میں یہ بات ہے کہ ہمارے ایوان میں بیٹھے ہوئے ان لوگوں کو اس بات کا علم ہے۔ ایک ڈکیٹر نے ،ایک قلم کے ذریعے سے میر جاوا کا علاقہ بلوچستان کا جوہے ایران کے حوالے کردیا۔مال مفت دل بے رحم ،جب چاہیں کسی کو ایک ٹکڑا دیدیں، جب چاہیں کسی کوایک حصہ دیدیں۔اور بلوچستان کا وہ حصہ جو تاریخی حوالے سے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور جو بلوچستان کا حصہ رہاہے، خان قلات کے ماتحت رہاہے۔اس کو کس طرح صوبہ پنجاب میں شامل کیاگیا۔

بلوچستان کا ایک بڑا حصہ ایران کو دیدیاگیا تھا

کہنے تو بلوچستان کے سردار بڑے ظالم ہیں،وہ ترقی کیخلاف ہیں،وہ ہر ترقی کی راہ میں روکاوٹ کھڑٰ ی کرتے ہیں، جب لیکن ان کو اپنی ضرورت پڑی ،انہی بیچارے سرداروں معائدات کرکے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کو جوہے پنجاب میں شامل کردیاگیا۔جب انکی ضرورت پڑتی تھی،ان سرداروں کو جوہے پگڑیاں بھی پہنائی گئیں،ان کے سامنے ڈھول اور تالیاں بجائی گئیں ، جب ان کی ضرورت ختم ہوگئی اب جا کے ان کو کہاں پہ پھینک دیا۔

اگر ہوسکے جس طرح کہ اس میں اتفاق رائے پیدا کرنے ہونگے،تمام جو اسیٹک ہولڈرہیں، وہ چاہتے ہیں کہ وہ حصہ جو بلوچستان سے علیحدہ کیے گئے ، یہ کوئی آٗینی ترمیم کے ذریعے نہیں کیے گئے۔ معاہدات کے ذریعے ، معاہدات ذریعے ایک حصہ آپ نے ایران کو دیدیا بلوچستان کا ۔کچھ حصے آپ نے پنجاب مٰیں شامل کردیے اور کچھ سندھ میں شامل کردیے۔

اگر واقعی حکمران اس پر نیک نیت ہیں،آئیں تو بیٹھیں، ہم بیٹھنے کیلئے تیار ہیں۔ہمارا جو حصہ کاٹ کر دوسرے صوبہ میں شامل کیاگیاہے،ان کوواپس بلوچستان میں شامل کیجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں