830

عظیم صوفی بزرگ خواجہ غلام فریدؒ ۔۔۔ شعورمیڈیا نیٹ ورک

ملک عبدالشکورحیدری ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

پی ایچ ڈی سکالر (میڈیا سٹڈیز)
لودھراں

خواجہ غلام فریدؒ 1845کو چاچڑاں شریف ضلع رحیم یارخاں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی کا نام خواجہ خدا بخش تھا۔خواجہ غلام فرید ؒ ابھی آٹھ سال کے تھے کہ آپ کے والد کا انتقال ہو گیا،خواجہ صاحب کا تاریخی نام خورشید عالم ہے۔

خواجہ غلام فریدؒ فاروقی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے آباواجداد پہلے سندھ اور پھر لودھراں کے نواحی علاقے منگلوٹ شریف ، پھر ڈیرہ غازیخان اور اس کے بعد ان کا کچھ خاندان بہاولپور کے علاقے چاچڑاں میں بھی آباد ہوا۔

خواجہ غلام فریدؒ کا سلسلہ نسب چوتھی پشت میں خواجہ نورمحمدکوریجہ منگلوٹ شریف (لودھراں) سے اور 35ویں پشت میں حضرت عمرفاروق اعظم ؓ خلیفہ دوم امیرالمومنین سے جاملتاہے۔اسی وجہ سے آپ کو فاروقی کہا جاتاہے۔

آپؒ نے اٹھارہ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا پھر نواب صادق محمد خان عباسی کی درخواست پر آپؒ احمد پورشرقیہ کے محل میں چلے گئے اور وہاں مولانا قائم دین اور ملک غلام محمد سے دنیاوی علوم حاصل کیے۔ آپؒ طب، جغرافیہ اور فلسفہ کے بھی ماہر تھے، او ر کئی زبانوں پر عبور بھی تھا۔ تیرہ سال کی عمر میں خواجہ غلام فریدؒ نے اپنے بڑے بھائی خواجہ فخرالدین کے ہاتھ پر بیعت کی ، آپؒ کے بڑے بھائی اور مرشد خواجہ فحرالدین نے آپکو اپنے بیٹوں کی طرح پالا۔

1888 میں جب خواجہ فخرالدین کی وفات ہوئی تو خواجہ غلام فرید ان کے گدی نشین بنے۔ جب آپ ؒ کی عمر 28 سال ہوئی تو نواب صادق خان عباسی نے آپ کی دستاربندی کی ، جلد ہی آپ کا حلقہ مریدین وسیع ہوتا گیا۔ آپ ؒ اکثر یاد الٰہی میں گم رہتے تھے ۔ آپ کے مریدین اور نواب صاحبان جو کچھ آپ کی خدمت میں پیش کرتے آپ اسے غریبوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ آپ ؒ محفل سماع کے شوقین تھے۔ خواجہ غلام فریدؒ رہبانیت کو پسند نہیں کرتے تھے انہوں نے روہی کیساتھ بھی رشتہ جوڑے رکھا اور بیوی بچوں کا بھی خیال رکھا۔

آپ ؒ مجاہدہ اور مراقبہ بھی کیا کرتے تھے ، آپ ؒ نے اپنے بزرگ خواجہ نور محمد کی مزار منگلوٹ شریف (لودھراں) میں بھی ایک خاص جگہ پر چلہ کاٹا اس کے علاوہ لودھراں شہر کے درمیان میں موجود مسجد جال والی میں بھی تشیریف لائے اور نماز جمعہ ادا کی اور آستانہ پیر محمد مشتاق شاہ بخاری کے مدرسہ میں بھی تشریف لے گئے اور کئی روز تک آپ اپنے مریدوں اور عقیدت مندوں کے ہمراہ ڈانوراں میں بھی رہے۔

خواجہ صاحب کو عربی ، فارسی، ہندی، اردو، سرائیکی، پنجابی اور ماروارڑی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ آپ ؒ تاریخ ، تصوف، فقہ، حدیث ، تفسیر، نجوم اور موسیقی کے بھی ماہر تھے۔ آپ کو روہی کے علاقے سے خاص محبت تھی، آپ ؒ نے 1876 میں سفر حج کیا ، آ پ نے ہندوستان کے مختلف علاقوں کا دورہ بھی کیا۔

خواجہ غلام فریدؒ کافیاں بھی کہتے تھے ، آپ ؒ کی کافیوں کا دیوان بھی چھپ چکا ہے آپ ؒ نے اکی فارسی رسالہ بھی شروع کیا اس کے علاوہ آپؒ کے ملغوظات (ارشادات فریدی) کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ آپؒ کا اردو دیوان بھی چھپ چکا ہے آپؒ کو شاعر ہفت زبان بھی کہا جاتا ہے۔ خواجہ غلام فریدؒ اﷲکی ذات سے بہت محبت رکھتے تھے اور عشق کو اپنا رہبر سمجھتے تھے ۔

خواجہ غلام فریدؒ ایک کامل ولی تھے وہ اپنے بھائی کی وفات کے بعد گدی نشین بنے تو لوگوں کو سیدھے راستے پر ڈالنے کی ذمہ داری ان پر آپڑی ، انہوں نے لوگوں کو زندگی گزارنے کے طورطریقے بتائے، لوگوں کو سیدھی راہ دکھائی اور اﷲسے محبت کرنیکا درس دیا.

آخر عمر میں خواجہ غلام فریدؒ کو شوگر کی بیماری ہوگئی تھی وہ 24 جولائی 1901 کو کوٹ مٹھن میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔آپ کا مزار کوٹ مٹھن میں ہے جہاں ہر وقت فیض یاب ہونیوالوں کا تانتا بندھا رہتاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

14 تبصرے “عظیم صوفی بزرگ خواجہ غلام فریدؒ ۔۔۔ شعورمیڈیا نیٹ ورک

  1. ماشاءاللہ بہت پیاری اور تحقیقی تحریر ہے۔ گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں