224

حضرت خواجہ غلام فریدؒ اور ان کی تعلیمات

از قلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

خواجہ غلام فریدؒ کی پیدائش 26ذیقعد 1261ھ مطابق 25 نومبر 1845ء بروز منگل بہاولپور کے قصبہ چاچڑاں شریف میں خواجہ خدا بخشؒ عرف محبوب الٰہی کے ہاں ہوئی۔جو کہ سلسلہ چشتیہ کے معروف بزرگ حضرت خواجہ محمد عاقل کوریجہ کے پوتے تھے۔ ( لودھراں کی سماجی شخصیت حکیم محمد آصف نے مورخہ 13دسمبر2018کے روز نامہ گمان لودھراں میں شائع ہونے والے مضمون’’سلطان العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید سرکار‘‘ میں آپؒ کی تاریخ پیدائش 26ذوالحج1261ھ بمطابق23دسمبر1845ء بروز منگل لکھی ہے ) ۔ آپؒ کا تاریخی نام خورشید عالم رکھا گیا۔ بعد میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کی نسبت سے آپ کا اسمِ گرامی غلام فرید معروف ہوا۔

آپؒ کا سلسلہ نسب خواجہ غلام فرید بن خواجہ خدا بخش بن خواجہ احمد علی بن قاضی محمد عاقل بن خواجہ محمد شریف بن خواجہ محمد یعقوب بن خواجہ نور محمد بن خواجہ محمد زکریا بن شیخ حسین بن شیخ پریابن شیخ حاجی بن شیخ نونندبن شیخ حاجی بن شیخ صدرالدین بن شیخ یعقوب بن شیخ فضل الل? بن شیخ پریابن شیخ طاہر بن شیخ دھماچ بن شیخ پنہوں بن شیخ کور بن شیخ پریا بن شیخ حسین بن شیخ محمد بن شیخ محسن بن شیخ موسیٰ بن شیخ زید بن شیخ ناصر بن شیخ حسن بن شیخ یوسف بن شیخ عیسی بن شیخ احمد بن شیخ محمد بن عبدللہ بن منصور بن مالک بن یحییٰ بن محمد بن سلیمان بن ناصر بن عبدللہ بن حضرت عمر فاروق (خلیفہ دوم) سے جا کر ملتا ہے۔

آپ کے آباؤ اجداد فاتحینِ سندھ کے ہمراہ عرب سے سندھ میں وارد ہوئے۔بعض تذکرہ نگاروں کے نزدیک کوریجہ قوم ابڑوکی ایک شاخ ہے جو اصل فاروقی ہیں اور بعض کا خیال ہے کہ آپ کے خاندان میں ایک شخص کا نام شیخ کوربن، حضرت شیخ پریا تھا اس لیے کور کی وجہ سے لفظ کوریجہ بن گیا۔مولانا نور احمد فریدیؒ اپنی ہی تصنیف مناقبِ محبوبیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت خواجہ غلام فرید ؒ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اولاد میں سے تھے اس لیئے آپؒ صدیقی قریشی تھے۔ اس قبیلہ مقدس کے بزرگ محمد زکریاؒ مغل شہنشاہ جہانگیر کے دور میں منگلوٹ ضلع لودھراں میں آکر آباد ہوئے۔یہاں ایک مدرسہ دینیہ کی بنیاد رکھی ۔ شاہجہاں بادشاہِ ہند نے مخدوم نور محمد کو پانچ ہزار بیگھہ اراضی پر مشتمل 140چاہات نذر کئے جن کی آمدنی سے مدرسے کا خرچ چلتا تھا۔

تاہم منگلوٹ میں اب بھی کوریجہ خاندان کے بزرگوں کے مزارات موجود ہیں۔چاچڑاں شریف کی وجہ شہرت بھی عظیم صوفی بزرگ اور سرائیکی زبان کے عظیم شاعر خواجہ غلام فریدؒ کی جائے پیدائش کاہونا ہے۔ماضی میں چچ نامی ایک بادشاہ گزرا ہے جس نے رائے خاندان کی حکومت ختم کر کے سیت پور ،داجل اور اروڑسندھ میں اپنی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس قصبے کا نام اسی چچ نامی بادشاہ کی مناسبت سے چاچڑاں رائج ہو گیالیکن بعض روایات کے مطابق اس قصبہ کی بنیاد چاچڑ قوم کے ایک فرد نے رکھی۔چاچڑاں شریف ایک تاریخی شہر ہے۔ یہاں کئی تاریخی عمارتیں ہیں۔ جن میں فرید محل اورجامعہ فریدیہ کی عمارتیں بہت مشہور ہیں۔

آپؒ چار برس کے ہوئے تو آپؒ کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا اور جب آپ کی عمر آٹھ برس ہوئی تو آپ کے والدِ محترم بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔آپ نے قرآن پاک کی تعلیم میاں صدرالدین ؒ اور میاں محمد بخش ؒ سے حاصل کی۔ آپ نے فارسی کی تعلیم میاں حافظ خواجہ جیؒ اور میاں احمد یار خواجہؒ سے حاصل کی۔ خواجہ غلام فرید ؒ کے بزرگوں کے ایک مرید مٹھن خان جتوئی کے نام سے قصبہ کوٹ مٹھن آباد ہوا۔ جب کوٹ مٹھن پر قابض پنجاب کے سکھ حاکم مسلمانوں کو تنگ کرنے لگے تو آپ کے والدِمحترم خواجہ خدا بخشؒ اپنے خاندان کے ساتھ ریاست بہاول پور منتقل ہو گئے۔

جب آپ نواب آف بہاولپور جس کانام نواب فتح محمدتھا جس کا دورِ حکومت1853ء سے 1856ء تھا جوکہ آپؒ کے والدِ محترم کے مریدِ خاص بھی تھے ،کے پاس رہائش پذیر تھے ۔ وہاں پر بھی اساتذہ کرام موجود رہتے تھے جو آپ کو تعلیم دیتے تھے۔ آپؒ شاہی محل میں تقریباً چار سال رہے۔جب آپؒ تیرہ برس کے ہوئے تو آپ واپس چاچراں شریف چلے گئے وہاں آپؒ ؒ نے اپنے بڑے بھائی خواجہ فخر جہاں ؒ سے بیعت کی بقول حضرت خواجہ غلام فرید سرکارؒ ۔

فخرِ جہاں قبول کیتوسے
واقف کل اسرار تھیوسے

آپؒ نے صرف سولہ سال کی عمر میں ہی ظاہری و باطنی علوم پر کمال حاصل کر لیا تھا۔ جب آپؒ کی عمر 27 برس تھی تو اس وقت آپ کے مرشد اور بڑے بھائی خواجہ فخر جہاںؒ کا انتقال ہو گیا۔ پھر آپ مسندِ سجادہ نشین پر فائز ہوئے۔ آپؒ نے ہمیشہ احترامِ انسانیت کو اپنا مطمعِ نظر رکھا۔ آپؒ بہت بڑے سخی تھے۔ آپؒ کے لنگر کا روزانہ کا خرچہ 12 من چاول اور 8 من گندم تھا۔ تقریباً 100 سے 500 آدمی ہر وقت آپؒ کے ساتھ رہتے تھے۔ آپ ؒ کے پاس جو کچھ آتا سب شام تک غرباء و مساکین میں بانٹ دیتے تھے۔ آپؒ کی جاگیر سے سالانہ آمدنی 35 ہزار روپے تھی۔ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ آپؒ دن میں گندم کی ایک روٹی کھاتے اور رات کو گائے کا دودھ پیتے تھے۔ آپؒ 18 برس روہی (چولستان) میں رہے۔ روہی کے بارے میں آپؒ نے ایسا تعارف کرایا کہ آج تک کوئی اور نہ لکھ سکا۔آپؒ کہتے ہیں کہ

ایہا روہی یار ملاوڑی ہے
شالا ہر دم راہوے ساوڑی ہے

اپنی شاعری میں روہی کی جڑی بوٹیوں کو علامت بنا کرتصوف کی شکل اور پیچیدہ راہوں کو آسان تر بنا دیا ،فرماتے ہیں۔

جتھے کرڑ کنڈا بہوں ڈھیرے
اوتھے درد منداں دے ڈیرے۔

محبت اور اتحاد کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ

پیلھوں پکیا ں نی
آچنڑوں رل یار

آپؒ کے کلام میں مجاز اور حقیقت دونوں اقسام کے عشق کا سراغ ملتا ہے ۔غالباً انہی کیفیات سے متاثر ہو کر ایک دفعہ حضرت علامہ اقبال ؒ نے کہا تھا کہ ’’جس قوم میں خواجہ فلام فرید ؒ اور ان کی شاعری موجود ہو اور اس قوم میں عشق ومحبت کا وجود نہ ہونا تعجب انگیز ہے۔ معروف عالمِ دین وسکالرمولانا کوثر نیازی نے حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کی شخصیت کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت خواجہ غلام فریدسرائیکی بولنے والے علاقے کے روحانی بادشاہ ہیں۔لاکھوں انسانوں کے دلوں پر ان کی شاعری کی لطافتوں کا قبضہ ہے۔حضرت خواجہ غلام فرید کا علمی مقام ،فکری مرتبہاور شاعرانہ عظمت کے پیشِ نظر آپؒ سرائیکی زبان کے’’ رومی‘‘ نظر آتے ہیں۔آپؒ کا کلام امید،زندگی، حرارت کا پیغام اور عمل کی دعوت ہے پیامِ فریدؒ زندگی اور عمل کا سرچشمہ ہے۔آپؒ کہتے ہیں ۔

اٹھی تھی فرید ا شاد ول
ڈکھڑیں کوں نہ کر یاد ول
اجھو تھیم جھوک آباد ول
ایہا نیں نہ وہسی ہک منڑیں

13سال سے زائد عرصہ جون1866ء سے1879ء تک ریاست بہاولپور انگریز حکومت (ایجنسی حکومت ) کی تحویل میں رہنے کے بعد نواب رحیم یار خاں کے بیٹے جند وڈاخاں جو کہ نواب صبح صادق خاں والئی ریاست بہاوپور نے نام سے مشہور ہوئے ،کی تاج پوشی کیلئے 28نومبر1879میں نور محل بہاوپور میں عالیشان دربار لگایا گیا۔تاج پوشی کی گئی ۔انگریز گورنر سررابرٹ ایجرٹن نے اردو میں تقریر کرتے ہوئے ریاست بہاولپور نواب صادق محمد خاں عباسی کے حوالے کی۔اس موقع پر مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔ مختلف شعرائے کرام نے اپنا کلام پڑھااور حضرت خواجہ غلام فریدؒ نے ایک تہنیتی نظم جس کا مشہور شعر ہے

اپڑیں نگری آپ وسا توں
پٹ انگریزی تھانڑیں۔

یہ سرائیکی وسیب میں نو آبادیاتی قبضے کے خلاف ایک صوفی شاعر کا مزاحمتی اعلان تھا۔

آپ مشہور صوفی شاعر ہیں۔ آپ کی شناخت شاعری کی صنف’’کافی‘‘ہے جو کہ ایک مشکل فن ہے۔ جوعربی زبان میں تو ملتا ہے مگر دوسری زبانوں میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ آپؒ نے کافی کی صنف میں ایسی باکمال شاعری کی ہے کہ بلاشبہ ان کی شاعری دنیاکے عظیم ترین ادب کااثاثہ ہے۔سلسلہ چشتیہ کے عام مسلک کے مطابق آپ کا نظریہ بھی’’ہمہ اوست‘‘تھا۔ یعنی آپ توحیدِ وجودی کے قائل تھے۔ آپ کاتمام کلام اسی رنگ میں رنگاہواہے۔آپؒ ان لوگوں کو جو مذہب کا نام لے کر صوفیوں کو وحدت الوجود کے مسلک سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہیں بڑی کھری کھری سناتے ہیں۔ان کی ایک کافی کے یہ اشعار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ملاں نہیں کہیں کار دے
شیوے نہ جانن یار دے
بُجھِن نہ بھیت اسرار دے
ونج کنڈ دے بھرنے تھئے دڑیں

ملاؤں سے بیزاری اور ابن العربی سے خواجہ صاحب کی عقیدت کا حال یہ ہے فرماتے ہیں کہ

ملوانے دے واعظ نہ بھانے
بے شک ساڈا دین ایمانے

انھیں ہر رنگ اورانگ میں اللہ کے حسن کے جلوے نظر آتے۔ بقول پروفیسر دل شاد کلانچوی’’خواجہ صاحب عموماً حالت وجدمیں اشعارکہتے تھے۔ یعنی حال وارد ہوتاتوکچھ کہتے تھے ورنہ نہیں۔ ہروقت فکرِ سخن میں محورہناان کامعمول نہ تھا۔ لکھنے پرآتے توالہام کی کیفیت ہوتی۔ بعض اوقات تولمبی لمبی کافیاں دس پندرہ منٹوں میں کہہ ڈالتے تھے۔سرائیکی شاعری کو جس اعلیٰ مقام پر آپؒ چھوڑ کے گئے تھے۔ آج بھی ان سے بہتر نہیں کہاجاسکا۔ لطیف احساسات، جذبات اوراس میں وجدانی کیفیات کواس طرح ملادیناکہ شیروشکر ہوجائیں‘‘ خواجہ غلام فریدؒ کی شاعری کاادنیٰ کمال ہے۔

آپ ؒ نے اپنا ذریعہ اظہار سرائیکی کو بنایااور اسے معرفت اور تصوّف کے خزانوں سے معمور کر دیا۔ آپؒ کا زیادہ تر کلام سرائیکی زبان میں ہے۔ جس کا نام’’دیوان فرید ‘‘ہے۔ اس کے علاوہ اردو، عربی، فارسی، پوربی، سندھی اور ہندی میں بھی شاعری کی ہے اور آپؒ کا اردودیوان بھی موجود ہے۔

بعض مطبوعہ دیوان فرید میں کافیوں کی تعداد 272 ہے اور بعض دیوان میں 271 ہے۔ماہرِ فریدیات نے 271 کافیوں کی سند تسلیم کی ہے۔ بعض ماہرِلسانیات اسے پنجابی زبان کا نمونہ سمجھتے ہیں جبکہ بعض ماہرِلسانیات اسے سرائیکی زبان کی شاعری کہتے ہیں۔ مذکورہ بات سے قطعہ نظر دیوان فرید کافی کے اعلیٰ معیار کا مظہر ہے۔ درحقیقت دیوان فرید نے اپنی ماخذی زبان کے ادب کو نئی جہتوں سے متعارف کروایا۔

دیوان فرید کی مطبوعہ جلد خواجہ غلام فریدؒ کے دوران حیات میں پہلی مرتبہ1883ء میں منظر عام پر آئی۔ اس طباعت اور بعد میں آنے والے نسخوں کے بارے ماہرِ فریدیات کے نزدیک خطاط اور طباعت کرنے والے سرائیکی زبان اور اس کے رموزسے نا بلد تھے بلکہ انہوں نے سرائیکی زبان کو پنجابی زبان کا ہی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے بعض الفاظ کو بدل دیا گیا یا پھر پنجابی زبان کے الفاظ شامل کے گئے۔ جس کی وجہ سے دیوان فرید کا حسن ماند پڑ گیا۔ الفاظوں کی ردوبدل سے یا تو کلام کی صحت متاثر ہوئی یا پھر ترجمہ اور تشریح میں فرق آ گیا۔ ایک اور مسئلہ الفاظ کی ادائیگی میں پیدا ہو گیا تحریر اور ادائیگی میں صوتی ہم آہنگی نہ تھی ۔

سرائیکی وسیب میں طباعت کی کوئی سہولت میسر نہ تھی اس لیے اصلاح کا کام جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ کچھ لوگوں نے کلام کی تصیح کے لیے کوششیں کیں اورقلمی نسخے تیار کیے۔ جس سے معاملہ سلجھنے کی بجائے مزید پیچیدہ ہو گیا۔ اس گتھی کو سلجھانے کی کوششیں آج بھی جاری ہیں۔ اس سلسلے میں نئی کاوش’’ دیوان فرید بالتحقیق‘‘منظر عام پر آئی۔ یہ کتاب ماہر فریدیات مجاہد جتوئی کی آٹھ سالہ عرق ریزی اورتحقیق کا ثمر ہے۔ جس میں کلام فرید کو اصل شکل میں متعارف کروانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ڈوہڑا سرائیکی شاعری کی سب سے مشہور صنف ہے۔ فی زمانہ اس کے عروج کا زمانہ ہے۔ڈوہڑا اوربند ایک جیسی خصوصیات رکھنے والی ایک صنف الگ الگ عنصر ہیں۔ خواص اور اجزائے ترکیبی ملتے جلتے ہیں۔ خواجہ غلام فرید سے منسوب کئی ڈوہڑے زدوعام ہیں۔ لیکن ماہر فریدیات نے ان کی سند کو مسترد کیا ہے اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ماہر فریدیات کے نزدیک خواجہ غلام فرید نے ڈوہڑے تصنیف نہیں کئے تھے۔ بعد میں اظہار عقیدت یا خراج تحسین کے طور پر تصنیف شدہ ڈوہڑے خواجہ غلام فرید سے منسوب ہو تے گئے ۔جبکہ کچھ ماہرینِ فریدیات کا خیال ہے کہ ان کااپنی زندگی میں صرف ایک ڈوہڑا ہے۔

اکثر کتب میں،علماء ،فصحاء اورعامۃ الناس سے سنا اور پڑھا ہے کہ آپ ؒ موسیقی کا بھی خاصا علم رکھتے تھے۔ آپ کو 39 راگ،راگنیوں پر عبورتھا۔ آپ نے ان تمام راگنیوں میں کافیاں کہی ہیں۔ جناب نشتر گوری لکھتے ہیں کہ اگر خواجہ صاحب کے کلام پرغورکیاجائے تو معلوم ہوتاہے کہ آپ ؒ نے سنگیت کی تمام رمزوں اورلَے تال کی تمام خوبیوں سے استفادہ کیاہے۔ اکثر کافیوں میں لفظوں کے تکرارسے ایسی ہم صوتی اورہم آ ہنگی پیداکی ہے کہ ہوا اور پانی کی لہریں اپنے نغمے بھول جائیں۔ شعر وشاعری کے اسی گُن کو ’’تخپراس‘‘ کہتے ہیں۔

خواجہ غلام فریدؒ کاکلام ہررنگ ونسل،عام وخاص،عالم وان پڑھ،خواندہ وناخواندہ اورعجم وعرب میں مشہو رہے۔ آپؒ الفاظ کے ساحر ہیں اورحافظ جیسا سوزِ عشق آپ کے کلام کاخاصہ ہے۔ملک کا کوئی ایسا قومی یا مقامی فنکار و گلو کارایسا نہ ہو گا جس نے حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کے کلام سے شہرت حاصل نہ کی ہو۔نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی انتہائی عقیدت و احرام سے آپؒ کا کلام پڑھتے ہیں۔ جن میں مہدی حسن،عنایت حسین بھٹی،نصرت فتح علی خاں،عطا للہ خان عیسیٰ خیلوی،پٹھانے خاں،حسین بخش خاں ڈھاڈھی،ثریا ملتانیکر،فقیرا بھگت،موہن بھگت ،آدو بھگت و دیگر شامل ہیں۔

نواب آف بہاولپور نے خواجہ غلام فرید ؒ سے خراج عقیدت کے طورپرفریدی محل1894ء میں بنوایاجو دو سال تعمیرات کے بعد 1896ء میں مکمل ہوا۔ فریدی محل کی پہلی اینٹ حضرت فضل حق منگھیروی ؒ نے بسم اللہ پڑھ کر لگائی۔ اس عمارت کی تعمیر میں حفاظ کرام نے بھی حصہ لیا۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعدخواجہ صاحب تشریف لائے۔ اس موقع پر وہاں موجود مصاحبین نے محفل میں مشکوۃ شریف کا درس دیا۔

برصغیر کے ہمہ جہت عظیم صوفی شاعر خواجہ غلام فریدؒ کے کلام میں سرائیکی زبان کی مٹھاس، اثر آفرینی‘ جادوئی رنگ پایا جاتا ہے جو مذہب کے ساتھ ساتھ علاقائی ثقافت خصوصاً روہی کلچر کی عکاس ہے۔ ہفت زبان شاعر کا اعزاز رکھنے والے اس عظیم اور روحانی بزرگ نے اپنی شاعری میں امن‘ اخوت‘ بھائی چارے اور وسیب سے محبت کا درس دیا ہے۔

خواجہ غلام فریدؒ نے اپنے اخلاق اور کردار کے ذریعے پاک و ہند میں ہزاروں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کیا۔ انہوں نے رنگ و نسل کی تمیز کے بغیر انسانوں کے درمیان یگانگت اور محبت پیدا کی اور ہر نسل کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لا کر خطہ میں پرامن ماحول پیدا کیا۔ایک روایت میں ہے کہ نواب آف ریاست بہاولپور نے ایک مولوی احمد بخش کو وہابیت کے فروغ کے خدشے کے پیشِ نظر ریاست بدر کا حکم دے دیا۔وہ مولوی حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کے پاس گیا تو آپ ؒ نے اس مولوی صاحب کو اپنی مادری زبان میں ایک خط لکھ کر دیا اور کہا کہ وہ یہ خط نواب آف بہاولپور کو دے دیں۔خط میں لکھا تھا کہ

’’زیر تھی، زبر نہ بن، متاں پیش پووی ‘‘

یعنی نرمی اختیار کرو، سختی نہ کیا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر بھی سختی کر سکتے ہیں۔خط پڑھ کر نواب آف بہاولپور کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔خط کو چومتے ہوئے کہا کہ میرے مرشد نے سچی بات کہ اور مجھے اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے بچا لیا۔اور مولوی صاحب کے ریاست بدری کے احکامات واپس لے لئے۔


حضرت خواجہ غلام فریدؒ نے اپنے سماج میں عشق و محبت اور عشق رسول ﷺکی خوشبو تقسیم فرمائی ہے۔ ان بزرگوں کی تعلیمات ہی وہ واحد ذریعہ ہیں جو امت کو متحد کر سکتی ہیں۔آپؒ کا وصال چاچڑاں شریف میں 24 جولائی 1901ء بمطابق 5ربیع الثانی1319ھ بروز بدھ ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر 56 برس تھی۔ آپ کا ایک بیٹاحضرت خواجہ محمد بخش عرف نازک کریمؒ اور ایک بیٹی تھیں۔ آپ کا مزار ملک کے پانجوں بڑے دریاؤں کے سنگم پر واقع کوٹ مٹھن (ضلع راجن پور) میں مخلوقِ خدا کیلئے مرجع خلائق ہے۔ہر سال پانچ ،چھ اور سات ربیع الثانی کو اپؒ کا عرس مبارک انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں