104

منی سویٹزر لینڈ “سوات “توجہ کیلئے روتا ہے

تحریر : ساجد خان

بی ایس 4th سمسٹر، یونیورسٹی آف سوات

کسی کو معلوم ہویا نہ مگر سوات ایک ایسی جگہ ہے جو کہ سیاحوں کا میزبان تصور کیا جاتا ہے اور یہ سوات خاموش طبیعت کا مالک ہے مگر جب کوئی مہمان وہاں جاتا ہے تو یہ اپنے میزبانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا، اس کے گواہ پاکستان ودنیا بھر کے سیاح ہیں۔ مجموعی طور پر پچھلے کئی سالوں سے عسکریت پسندوں کے حملوں اور قدرتی آفات کی وجہ سے وادی سوات یہاں کے باشندوں کے لئے اس کے بنیاد ی ڈھانچے کی تعمیر نو کی توجہ کیلئے روتا ہے ۔مگر ان سارے حالات کو ایک جانب رکھتے ہوئے وادی سوات میں دریائے سوات کے کنارہ ہوں یا بلند وبالا سرسبز پہاڑ ہو ں سارے تھکاوٹ کو دور کرنے میں اپنا بھر پور حصہ ڈال رہے ہیں۔

Kalam

دریائے سوات ، آبشاریں اور بلندوبالاسرسبز پہاڑ اللہ تعالی کے طرف سےاس وادی کو خوبصورت کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔اگر اس وادی کا بغور مطالعہ کیا جائے تو وہاں پر سیاحوں کیلئے خوبصورت اور تاریخی مقامات جیسے کہ منگورہ سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مرغزار جس میں سفید محل بھی واقع ہے اور اپنی ایک خاص تاریخی حیثیت رکھتا ہے جو کہ سوات کے والی نے بنایا تھا اور ہر سال کی طرح رواں سال بھی سیاحوں کی کثیر تعداد نے سفید محل میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے موسم سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم بدھ مت کے آثار اور سیاحتی ٹھنڈے علاقوں مالم جبہ ،میاندم ، کالام، بحرین ،مدین اور دیگر جگہوں کا ذکر کریں تو یہ سب وادی سوات کے حسن کو دوچارکرتے ہیں۔ اسی طرح سوات کے مختلف مقامات پر آپ لوگوں کو جدید شالیں ،روایتی کڑھائی ،زیوارات،کھدی ہوئے لکڑی کی خوبصورت چیزیں بطور یادگار مل سکتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ سوات سے ملحقہ کبل ،مٹہ ،شینگرو ڈنڈ ،گبینہ جبہ، خوازہ خیلہ ، مٹہ ،چارباغ ، مدین بحرین ،کالام ،اوشو ،مٹلتان ،گبرا ل اور دیگر علاقے مشہور ہے جو کہ ایک سیاح باآسانی کچھ دنوں میں دیکھ سکتاہے ۔اور چند دنوں پہلے کے بات ہے کہ تحصیل بریکوٹ میں بازیرا کے مقام پر بدھ مت کے آثار ملے ہیں اور اس کو دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے بدھ مت پیروکار پہنچ رہے ہیں ۔

موسم گرما میں لوگ کالام اور دیگر بالائی علاقوں میں ڈیرے ڈالتے ہیں جبکہ سردیوں میں لوگ برف سے لطف اندوز ہوتے ہیں جبکہ موسم بہار میں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آئیگا اور خزاں میں سونے کے طرح ہر چیز زرد نظرآتی ہے. سب سے اہم بات سوات میں یہ ہے کہ یہاں پر مختلف قسم کی سبزیاں اور پھل مختلف موسموں میں مل جاتے ہیں خواہ آڑو ہو یا سیب دونوں سوات کے میٹھے پھل آُپ کو پورے پاکستان میں بہترین خوشبو کے ساتھ مل جاتے ہیں۔

یادرہے کہ جنت نظیر وادی سوات پورے پاکستان میں قدرتی حسن کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے مگر کچھ حکومتی عدم توجہ کے باعث یہاں کے مقامی لوگ اور سیاحوں کو مختلف مسائل ومشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کی مثا ل سوات کے سڑکوں کے حالت زار ہے جس میں بحرین سے کالام تک کے سڑک نہایت ہی خراب حالت میں ہے.

White Palace, Marghuzaar

جس کی وجہ سے وہاں کے مقامی اور غیر مقامی لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم خوبصورت سفید محل مرغزار کا ذکر کیا جائے تو واقع سفید محل ایک تاریخی اور خوبصورت ہوٹل ہے مگر وہاں تک جانے کیلئے روڈ خراب ہے اگر ہم وادی مالم جبہ کا ذکر کریں تو وہاں کا روڈ گزشتہ کئی مہینوں سے زیر تعمیر ہے مگر تاحال مکمل نہ ہوسکا جس سے سیاحوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے اس طرح اور بھی بہت سارے قدرتی حسن سے مالامال جگہیں ہے مگرحکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے وہاں تک سیاحوں کا جانا مشکل ہو جاتا ہے ۔

سوات میں امن کی بحالی کے بعدانفراسٹرکچر کو بحال کرنے میں بین الاقومی اداروں نے بہت زیادہ تعاون کیا ہے مگر اب حکومت کا بھی کچھ فرض بنتا ہے کہ وہ سیاحت کے شعبے کو مزید پروان چڑھانے کے لیے خصوصی توجہ دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں