219

شہید پیر محمد خان، چٹانوں سے لڑنے کی صلاحیت رکھنے والا سیاستدان وسماجی کارکن

تحریر: اویس احمد خان یوسفزئی

بی ایس 4th سمسٹر، یونیورسٹی آف سوات

اس نے لوگوں کے دلوں پر راج کیا اور سارے لوگوں کو پیار دیا ، ہر ایک کے منہ سے انکی تعریفیں سنتا آرہا ہوں کہتے ہیں بڑے وفادار تھے،اور ہر وقت اپنے علاقے کی ترقی کیلئے فکرمند تھے.

انہوں نے اپنے علاقے کیلئے خود کو وقف کیا تھا اور انکے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ چٹانوں سے لڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے.

جی ہاں ہم جس کے بارے میں لکھ رہے ہیں وہ ہستی ہے شھید پیر محمد خان جو راجہ صابر خان کے گھر پورن شانگلہ میں 1947 کو پیدا ہوئے.

انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاوٗں میں حاصل کی اور پھر کراچی سے انہوں نے وکالت کی ڈگری بھی لی اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے ، تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ ایک سماجی کارکن کی حثیت سے لوگوں کے خدمت کرتے رہے اور ہر ایک کے غم و خوشی میں شریک ہوتے تھے.

انکی اِس وفاداری نے لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے بہت جگہ پیدا کی اور یہی وجہ تھی کہ علاقہ عمائدین نے انکو انتخابات لڑنے پر مجبور کیا تو یہ لوگوں کے پرزور اسرار پر سیاسی میدان میں آگئے.

سیاسی میدان میں انٹری کرتے ہی انکی نظر شانگلہ کے پسماندگی پر پڑی کیونکہ یہ وہ وقت تھا جہاں شانگلہ کے پہاڑوں میں تعلیمی شرح نہ ہونے کی برابر تھی اور نہ دیگر سہولتیں تھیں اور مشکل وقت تھا کیونکہ علاقے میں اس وقت تک سرکار کی طرف سے کوئی میگا پراجیکٹ موجود نہیں تھا.

لیکن جب شھید پیر محمد خان بحثیت صوبائی ممبر 1988 ء کو منتخب ہوئے تو انکی ساری توجہ تعلیم پر رہی اور وہ بار بار کہتے تھیں کہ تعلیم کے بغیر ترقی کرنا مشکل ہے جب تعلیم ہوگی تب ہم ترقی کر سکتے ہیں انہوں نے تعلیم کے میدان میں ایک اہم کردار ادا کیا اور علاقے میں پرائمری ، مڈل اور ہائی سکولوں کا جال بچھا دیا اور پورن اور چکیسر میں ڈگری کالجوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا

انکے بڑے کارناموں میں سے ایک کارنامہ یہ بھی تھا کہ انہوں نے اپنے علاقے کو بجلی کے زریعے روشن کر دیا اور لوگوں کے چہروں پر خوشی لا کر اپنے صوبائی نشت کو اور مظبوط کردیا، منصوبوں کو فروغ دینے کے بعد انہوں نے واٹر سپلائی سکیمیوں کو بھی وجود دیا اور گھرگھر کو صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا.

صحت کے میدان میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں رہے، انہوں نے سرکاری ہسپہالوں کے زریعے اپنا ایک اہم کردار ادا کیا جو یقیناً وقت کی اشد ضرورتوں میں سے ایک تھا اسکے علاوہ انہوں نے پورن کو سب ڈیوژن کا در جہ بھی دلایا.

شہید پیر محمد خان کی اس وفادری نے انکو مسلسل پانچ مرتبہ کامیابی دلای اور آخری سانس تک وہ صوبائی ممبر رہے.

لیکن پھر 9 نومبر 2007 وہ بد قسمت دن رہیا جس نے ہر انکھ کو آشک بار کردیا اور لوگوں سے انکا خیرخواہ چھینا، تاریخ کبھی بھی 9 نومبر کو معاف نہیں کریگا اور ہر مصنف اور تاریخدان اس تاریخ اور مہینے کو یوم سیاہ کے نام سے یاد کرے گا.

ایک شعر عرض ہے کہتے ہیں

ہمیں کیا پتہ تھا کہ زندگی اتنی انمول ہے
کفن اوڑھ کر دیکھا تو نفرت کرنے والے بھی رو رہے تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں