104

صحت اور نیوٹریشن کی سہولتیں خواجہ سراؤں کا بھی حق ہے

تحریر: محمد انور گریوال

پاکستان کی تاریخ میں ایک خواجہ سراء ٹی وی اینکر کی انٹری نے ہلچل مچادی ہے، لاہور سے تعلق رکھنے والے خواجہ سرا مارویہ ملک نے کوہ نور ٹی وی کو بطور اینکر جوائن کرکے نہ صرف خواجہ سراؤں کے حوالے سے ایک مخصوص سوچ کی نفی کی ہے بلکہ اپنی کمیونٹی کو ایک مثبت پیغام بھی دیا ہے کہ محنت اور لگن کے جذبے کے ساتھ کچھ بھی کرنا ناممکن نہیں ۔ قبل ازیں خواجہ سراء مارویہ ملک نے ایک فیشن شو میں کیٹ واک کرکے بھی سب کو حیران کردیا تھا۔ ایک انٹرویو کے دوران پاکستان کے پہلے خواجہ سراء ٹی وی اینکر مارویہ ملک نے کہا کہ انہوں نے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی ہے اور اب وہ ایم اے کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

معاشرے میں عمومی طورپر خواجہ سراء کیساتھ تضحیک آمیز رویہ روا رکھا جاتاہے ، اللہ نے انہیں جو بھی بنایا لیکن بطور انسان اُن کے حقوق تو ہیں ۔ ایک طرف جہاں حکومت پاکستان خواجہ سراؤں کو اُن کے حقوق فراہم کررہی ہے وہاں بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں بھی اُن کے حقوق کے لئے تگ و دوکرتی نظرآتی ہیں۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخارمحمدچوہدری نے خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈ بنوانے، مفت تعلیم، صحت اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کے احکامات جاری کئے ۔ ایک اخباری خبر کے مطابق پاکستان میں 5لاکھ سے زائد خواجہ سرا ہیں ،مئی 2013ء میں پاکستان میں ہونیوالے جنرل الیکشن میں 5خواجہ سراؤں نے حصہ لیا۔ چند سال قبل بہاولپور میں خواجہ سراؤں کے سب سے بڑے گرو ’’کیٹا‘‘ کے گھر اترپردیش سے خواجہ سراؤں کے وفد نے وزٹ کیا جس میں سے ایک خواجہ سرا نے بتایا کہ وہ 2دفعہ انتخاب کے ذریعے میئر منتخب ہوا۔

خواجہ سراؤں کے بہاولپور میں صدر صاحبہ جہاں نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں خواجہ سراء کو ایک شہری کے طورپر بھی تسلیم نہیں جاتا جس کی وجہ سے خواجہ سراء انتخابات میں آنے سے کتراتے ہیں ۔ حکومت کوچاہیے کہ انتخابات کے موقع پر جس طرح خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ہیں اسی طرح خواجہ سراؤں کے لئے بھی مخصوص نشستوں کے لئے قانون سازی کی جائے تاکہ اُس سیٹ پر منتخب ہوکر خواجہ سرا اپنی کمیونٹی کی فلاح وبہبود کے کام کرسکے۔ اکثرخواجہ سرا معاشی طورپر کمزور ہوتے ہیں، وہ شادی بیاہ پر ناچ گانا کرکے اپنا گزربسرکرتے ہیں ۔اُن کے لئے ہمارے معاشرے میں اپنے آپ کو معاشی طورپر مضبوط کرنے کے لئے کوئی خاطرخواہ مواقع موجود نہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے خواجہ سرا رفی خان نے 2 ایم اے کئے ہوئے ہیں جبکہ اُسے ملازمت کے عوض صرف 15ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ خواجہ سراؤں کے گرو صاحبہ جہاں اور منی جان نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ جس طرح حکومت نے نوجوان لڑکوں، لڑکیوں کے لئے فنی تربیت کے پروگرام شروع کررکھے ہیں جس میں سلائی کڑھائی، بیوٹی پارلر، موٹرمکینک، الیکٹریشن اور دیگر ڈپلومے شامل ہیں اور حکومت انہیں 1500سے 3000روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیتی ہے اِسی طرح خواجہ سراؤں کے لئے بھی کچھ پروگرامز شروع کئے جائیں تاکہ وہ فنی تعلیم حاصل کرکے باعزت زندگی گزار سکیں۔ خواجہ سراؤں کو بھی پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ فنڈ اور دیگر حکومتی پروگرامز کے ذریعے فنی تربیت جس میں بیوٹی پارلر، ایمبرائیڈری، سلائی کڑھائی کی تربیت اور دیگر ہنر کی تعلیم دی جانی چاہیے۔

موجودہ دور میں ثقافتی اعتبار سے خواجہ سراء بے قدری کا شکار ہیں۔ ماضی میں جب کسی گھر میں بچے کی پیدائش ہوتی تھی تو وہ لوگ خود خواجہ سراؤں کو بلاتے تھے وہ گھر میں ڈھولکی لے کر بچے کو بدھائی دیتے تھے اور لوگ خوشی سے انہیں پیسے دیتے تھے ۔ وقت کے بدلتے رجحانات کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ جن میں سے کچھ خواجہ سرا ء نہیں بھی ہیں انہوں نے دیگر شعبہ ہائے زندگی میں موقع نہ ملنے پر خواجہ سراء کا لبادہ اوڑھ لیاہے اور شادی بیاہ اور ڈانس پارٹیوں کی جان بن کر اور کہیں سیکس ورکر بن کر پیسے کماکر اپنی زندگی گزار رہے ہیں ۔ خواجہ سراء کو ماضی میں معاشرے کے فرد کے طورپرکچھ نہ کچھ مقام حاصل تھا جو کہ رفتہ رفتہ اب بے قدری کا شکار ہوگیا ہے۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) افتخارمحمدچوہدری کے احکامات کے بعد ملک بھر میں مختلف این جی اوز نے خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈ بنوانے، سرکاری ملازمتوں میں 2فیصد کوٹہ، مفت تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی سمیت خواجہ سراؤں کو دیگر حقوق دلانے کیلئے کوششیں کیں۔ سماج ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن جہاں جنوبی پنجاب کی عوام کی فلاح وبہبود کے لئے کوشاں ہے وہاں بہاولپور میں خواجہ سراؤں کو صحت اور مناسب غذا ئی ضروریات کی فراہمی کے لئے بھی کام کررہی ہے۔

این جی اوز کوچاہیے کہ جس طرح وہ کاشت کاروں اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لئے قرضہ جات فراہم کرتے ہیں اسی طرح خواجہ سراؤں کے لئے بھی فنی تربیت کے مواقع فراہم کرکے انہیں چھوٹے قرضوں کی فراہمی کے پراجیکٹ بنائیں تاکہ خواجہ سرا چھوٹے چھوٹے کاروبار جن میں بیوٹی پارلر، ریسٹورنٹ، کریانہ کی دکان، ہیئرڈریسر شاپ و دیگر کاروبار کرکے اپنا گزر بسرآسانی سے کرسکیں۔ محکمہ سوشل ویلفیئر حکومت پنجاب نے صوبہ پنجاب میں ضلعی سطح پر خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کی تاکہ اُن کی درست تعداد کا تعین کیاجاسکے اور حکومتی سطح پر ان کی فلاح وبہبود کے اقدامات کئے جاسکیں۔

صدر خواجہ سراء ایسوسی ایشن بہاولپور صاحبہ جہاں نے حکومتی مثبت اقدامات کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی طرز پر خواجہ سراؤں کے لئے پراجیکٹ شروع کئے جائیں جس میں خواجہ سراؤں کو سلائی کڑھائی، ایمبرائیڈری ، موٹرمکینک، بیو ٹی پارلراور چھوٹے کاروبار کی نہ صرف فنی تربیت فراہم کی جائے بلکہ حکومت خواجہ سراؤں کے لئے آسان شرائط پر قرضوں کا اجراء کرکے تاکہ وہ چھوٹے چھوٹے کاروبار کرکے نہ صرف باعزت زندگی گزاریں بلکہ ملکی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں۔

حکومت پاکستان نے 2012ء میں سرکاری ملازمتوں میں خواجہ سراؤں کو 2فیصد کوٹہ دینے کا اعلان کیا۔ کئی شہروں میں مختلف سرکاری ملازمتوں میں خواجہ سراؤں کو ملازمت کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جو کہ ایک مثبت قدم ہے۔صدر خواجہ سراء ایسوسی ایشن صاحبہ جہاں نے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف سے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت 2012ء میں کردہ اعلان کے مطابق خواجہ سراؤں کو محکمہ صحت، تعلیم، سوشل ویلفیئر اور دیگر محکموں میں 2فیصد ملازمتوں کے کوٹہ پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

جنوبی پنجاب کی فلاح وبہبود کے لئے کام کرنے والے اداروں میں ایک بڑا اور معتبر نام سماج ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کا ہے، یہ ادارہ رحیم یارخان، بہاولپور، راجن پور، مظفر گڑھ، ملتان سمیت دیگر اضلاع میں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور اُن کی سوچ کو مثبت دھارے پر لانے میں اہم خدمات انجام دے رہاہے۔ سماج ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن نے چند ماہ قبل پلاڈیم پاکستان کے تعاون اور محکمہ صحت کے اشتراک سے بہاولپور تحصیل صدر کی 16یونین کونسلوں میں موجود خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن، خواجہ سراء جو کہ لوگوں کی جانب سے مذاق اڑائے جانے کیوجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کیلئے آنا چھوڑ چکے تھے ، اُن کے نفسیاتی مسائل کو سمجھتے ہوئے ماہر نفسیات کے ذریعے اُن کی کونسلنگ کا سلسلہ شروع کیا ہواہے.

رورل ہیلتھ سنٹرخانقاہ شریف میں خواجہ سراؤں کے لئے علیحدہ سے انتظار گاہ، اُن کی نفسیاتی الجھنوں کے حل کے لئے ایک ماہر نفسیات کی تعیناتی کااہتمام کیا ہے ۔دیہی مرکز صحت خانقاہ شریف کے ڈاکٹرحضرات ،پیرامیڈیکل سٹاف ، لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت پورا عملہ ترجیحی بنیادوں پر خواجہ سراؤں کو نہ صرف چیک کرتے ہیں بلکہ اُن کے ٹیسٹ کروانے کے بعد ادویات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ نیوٹریشن کے ماہرین خواجہ سراؤں کو اُن کے جسم کے لئے ضروری غذائی ضروریات کے حوالے سے تفصیلی سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور خواجہ سراؤں کو باور کرایاجاتاہے کہ ایک صحت مند زندگی گزارنے کے لئے متناسب غذا بے حد ضروری ہے۔ وہ خواجہ سراء جو کہ ہسپتالوں میں جملے کسے جانے کے خوف سے جانے سے کتراتے تھے اب خصوصی توجہ سے چیک اپ ہونے ، ادویات ملنے اور جسم کو غذائی ضروریات کے حوالے سے مناسب رہنمائی ملنے پر تواتر سے دیہی مرکز صحت پر آتے ہیں ۔

اب خواجہ سراؤں کے کے اندر یہ اُمید جاگ رہی ہے کہ معاشرے میں باعزت مقام اُن کا بھی حق ہے، خواجہ سراء کمیونٹی کی انتہائی متحرک میڈم تانیہ نے اس پراجیکٹ کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ رفتہ رفتہ اس اہم کام کو بہاولپورضلع کی سطح پر پھیلایاجائے اور آنے والے وقتوں میں اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے تاکہ معاشرے کے نظرانداز ہونے والے خواجہ سراء زیادہ سے زیادہ صحت و نیوٹریشن کے حوالے سے مستفید ہوسکیں۔

میڈم تانیہ نے ایک رورل ہیلتھ سنٹرخانقاہ شریف میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ کے بعد اُمید ہوچلی ہے کہ اب کوئی خواجہ سراء معاشرے کی جانب سے ماضی میں ہونے والے تضحیک آمیز رویوں، اپنے اندر کے خوف اور دیگر وجوہات کی بناء پر گھر میں ٹی بی، ہیپا ٹائٹس سی، ایڈز اور دیگر بیماریوں کا شکارہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے تھے اب الحمداللہ اُن میں اُمید کی کرن جاگ چکی ہے ، اب وہ باقاعدگی سے نہ صرف اپنا چیک اپ کرواتے ہیں ، انہیں ڈاکٹراوردیگر سٹاف انتہائی توجہ سے چیک کرتاہے، سماج ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی ٹیمیں اُن کی مناسب رہنمائی کرتی ہیں ، اور اب ٹرانس جینڈرز کو یہ یقین ہوچلا ہے کہ صحت اور نیوٹریشن کی سہولتوں پر اُن کا بھی حق ہے ۔میڈم تانیہ نے توقع ظاہر کی کہ انشاء اللہ اِس طرح نہ صرف بہت سے خواجہ سراء جو کہ مختلف بیماریوں کا شکار ہیں وہ علاج کے بعد انشاء اللہ صحت یاب ہوں گے بلکہ عزت و وقار کے ساتھ بھرپورزندگی گزارسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان اور پاکستان کا رشتہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں