222

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم

پاکستان قائد عظمؒ نے بنایا، اس کا تصور علامہ اقبالؒ نے دیا مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر سرسیدؒ نہ ہوتے تو پاکستان نہ ہوتا۔ یہ سرسید ہی تھے جنہوں نے قوم کا عروج تعلیمی ترقی میں دیکھا تھا۔ جنہوں نے اپنے آبائی شہر سے دور علی گڑھ میں تعلیمی ادارہ قائم کیا تھا۔

وہ اس ادارے کے لئے چندہ مانگنے پورے برصغیر میں گئے تھے اور اس ادارے کے نصاب کے لئے انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسروں سے درخواست کی تھی اور ان قابل احترام پروفیسروں نے جدید علوم کی جن کتابوں کی نشاندہی کی تھی ان میں سے بیشتر سرسید نے اردو میں ترجمہ کرائی تھیں۔

قائد اعظمؒ باربار علی گڑھ جاتے تھے۔ وہ مسلمان طلبا سے اپنی محبت کا کھل کر اظہار کرتے تھے۔ انہیں خوب احساس تھا کہ تحریک پاکستان میں فیصلہ کن کردار علی گڑھ کے طلبا ہی ادا کریں گے۔

سرسید احمد خاںؒ کی پیدائش کو دو سو سال گزر چکے ہیں۔ اکتوبر کے مہینے میں اس عظیم محسن کے لئے ملک کے طول و عرض میں متعدد تقریبات منعقد ہوئیں مگر حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہیں ہوا۔ سرسید نے برصغیر کے مسلمانوں کی سوچ پر کیسے اثرات مرتب کئے۔ اس کے لئے شاید تاریخ نے مزید سفر طے کرنا ہے۔سرسید کا کہنا تھا کہ عمدہ تعلیم و تربیت ہی قومی عزت اور قومی ترقی کا اصل ذریعہ ہے۔

ان کا یقین تھا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم عزت حاصل نہیں کر سکتی۔ 1873ء میں سرسید جب پہلی مرتبہ لاہور آئے تو یہاں کے رؤسا اور عوام نے دل کھول کر مالی امداد کی۔ اس پر سرسید نے انہیں ’’زندہ دلان پنجاب‘‘ کا خطاب دیا۔ یہاں ایک بڑے جلسہ عام میں انہوں نے ایک تقریر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ قوم کے لئے کیسی تعلیم چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری قوم کے جو لڑکے روایتی مدرسوں میں جاتے ہیں ان میں سے کوئی بھی انجینئر یا ڈاکٹر نہیں بنا اور نہ ہی کسی نے ان مدرسوں سے ایسا علم وادب سیکھا ہے جس کی وجہ سے وہ ادیب بن گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مدرسوں میں جو تعلیم دی جاتی ہے اس میں بچے طوطے کی طرح چند کتابوں کو رٹ لیتے ہیں یا خطوط نقل کرنے کا ہنر حاصل کر لیتے ہیں اور ان سے اگر مذہب کا کوئی عام مسئلہ بھی دریافت کیا جائے تو وہ اس کا جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ سرسید کا کہنا تھا کہ قوم میں معقول تعداد میں ایسے لوگ موجود ہونے چاہئیں جو اپنے علوم میں کامل ہوں اورجن کی عقل و فہم اور سعی و کوشش سے علم و فن کو روز بروز ترقی ہو اور جن کے نام سے ہماری قوم کو عزت اور فخر ہو۔ اس کے بعد وہ ایک ایسے بہت بڑے گروہ کا تذکرہ کرتے ہیں جو عظیم مصنفین کی علمی تصنیفات سے اچھی طرح واقف ہو۔ اس کی ہر اصول پر گہری نظرہو اور وہ یہ تمام باتیں عمدگی کے ساتھ تعلیم کے ذریعے اپنی قوم کو سکھا سکتا ہو۔ تیسرے درجے میں وہ ادنیٰ تعلیم کی بات کرتے ہیں مگر اس میں بھی وہ تین گروہوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔

سرسید کے خیال میں سب سے زیادہ ایسے افراد ہونے چاہئیں جنہوں نے اتنی تعلیم حاصل کی ہو کہ وہ اپنی عقل و علم سے اپنے کاموں کو انجام دے سکیں۔ اس کے بعد وہ اس درجے کے ایسے افراد کاذکر کرتے ہیں جو کثیر تعداد میں ہوں اور اپنے ضروری دنیوی کام بخوبی انجام دے سکیں اور ان کے شعبے میں جو ترقی ہو رہی ہو وہ ان سے استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

اس کے بعد وہ ان لوگوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو جسمانی محنت کرنے کی لیاقت رکھتے ہوں۔ ان میں بھی اس قدر استعداد ہونی چاہیے کہ آسان آسان کتابیں اور سہل سہل چھوٹے اخبار اور مذہبی مسائل کی کتابیں پڑھ سکتے ہوں۔ تھوڑا بہت اپنا مدعا لکھ لیتے ہوں، حساب کتاب کر سکتے ہوں۔ سرسید نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اگر ان سب مراتب کے تعلیم یافتہ افراد مناسب تعداد میں موجود نہ ہوں تو وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی اور نہ ہی دوسری قوم کی نگاہ میں عزت حاصل کر سکتی ہے۔

سرسید احمد خاں نے جس پہلے گروپ کی بات کی تھی اور جس میں وہ ایسے لوگوں کو معقول تعداد میں دیکھنا چاہتے تھے جو اپنے علوم میں کامل ہوں اور جن کی عقل و فہم اور سعی و کوشش سے علم و فن کو روز بروز ترقی حاصل ہو اور جن کے متعلق ان کا گمان تھا کہ وہ ہماری قوم کے لئے عزت اور فخر کا سبب بنیں گے۔

سرسید کے الفاظ سے آج ہماری نظر ہائرایجوکیشن کمیشن کی طرف جاتی ہے، جو ایسے ہی مقاصد کا اعلان کرتا ہے۔ اب اس میں پنجاب کا ایجوکیشن کمیشن بھی شامل ہو گیا ہے۔ تاہم بہت سے اہل علم کی خواہش ہے کہ یہ دونوں ادارے اپنے فرائض اور اختیارات کے متعلق کسی بھی قسم کے ابہام سے نکل جائیں۔ کیونکہ ان کا ابہام پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے متعلق خاصے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

پاکستان میں نظام تعلیم کو ہمہ وقت تنقید کا نشانہ بنانے والے کم نہیں ہیں۔ انہیں اس میں ہر طرح کی خرابی نظر آتی ہے۔ بعض اوقات ان کی باتوں میں سچائی بھی ہوتی ہے۔ مگر ایسے مواقع پر ہمیں اکثر قدرت اللہ شہاب یاد آتے ہیں۔ جن کا کہناتھا کہ نصاب اور نظام تعلیم پر لے دے کرنا ایک فیشن کی صورت اختیار کرگیا ہے اور جو لوگ ہمارے نظام تعلیم کو ہدف تنقید بنانے میں پیش پیش ہیں ان میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جنہوں نے کبھی کسی نصاب کا بذات خود کبھی جائزہ لینے کی زحمت گوارا نہیں کی اور جو لوگ معیار تعلیم کی پستی کا رونا روتے ہیں وہ اگر کبھی اپنے بچوں کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ یا ڈگری کے نصاب کی کتابیں کھول کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہو گا کہ آج کل کا معیار تعلیم پچھلے زمانے کے مقابلے میں کس قدر بڑھا ہوا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم قریباً قریباً وہی ہے جو آزاد دنیا میں ہر جگہ رائج ہے۔ تمام مضامین کا نصاب اور معیار بھی وہی ہے جو باقی دنیا میں جاری و ساری ہے۔

قدرت اللہ شہاب اس نظام تعلیم کے اثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہمارے ڈاکٹر ، انجینئر ، بینکر اور دیگر فنی ماہرین امریکہ، برطانیہ، یورپ ، مشرق وسطیٰ اور تیسری دنیا کے بہت سے ممالک میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں۔

یہ سب ہمارے نظام تعلیم کی پیداوار ہیں۔ پاکستان میں جمبوجیٹ اور بوئنگ ہوائی جہاز جو پائلٹ چلاتے ہیں، وہ ہمارے سکولوں اور کالجوں سے پڑھ کر نکلتے ہیں۔ بڑے بڑے عظیم الشان ڈیم، اونچی اونچی بلند و بالا عمارتیں، جدید ترین مشینوں سے چلنے والی ملیں اور فیکٹریاں جو انجینئر بناتے اور چلاتے ہیں وہ بھی ہماری یونیورسٹیوں سے نکلتے ہیں۔ ہمارے ہسپتالوں میں قریباً قریباً وہ سب علاج اور آپریشن میسر ہیں جو دنیا بھر کے دوسرے ہسپتالوں میں میسر ہوتے ہیں۔

ہمارے ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر بھی اپنے ہی میڈیکل کالجوں سے پڑھ کر نکلتے ہیں۔ کمپیوٹر، ایٹمی توانائی اور نیوکلیئر سائنس کے شعبوں میں کام کرنے والے نوجوان بھی ہمارے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی پیداوار ہیں۔

قدرت اللہ شہاب آج زندہ ہوتے تو وہ اس پر فخر کااظہار بھی کرتے کہ پاکستان عالم اسلام کاپہلا ایٹمی ملک ہے اور یہ صلاحیت اس نے ان سائنسدانوں کے ذریعے حاصل کی ہے جن میں سے بیشتر نے ٹاٹ کے سکولوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔

گزشتہ روز قدرت اللہ شہاب اس وقت بہت یاد آئے جب ایک مقامی ہوٹل میں ہائیرایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار صاحب کی گفتگو سننے کا موقعہ ملا۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہونے والی کامیابیوں کا ذکر کر رہے تھے۔انہوں نے ہائیرایجوکیشن کمیشن کی کامیابیوں کی بہت شاندار تصویر پیش کی۔

انہوں نے بتایا کہ 2002ء میں جب کمیشن نے کام شروع کیا اس وقت پاکستان میں یونیورسٹیوں کی تعداد محض 59 تھی جواب بڑھ کر 188 ہو چکی ہے۔اس وقت محض دو فی صد فیکلٹی پی ایچ ڈی تھی جبکہ آج 26 فیصد فیکلٹی کے ارکان ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں ۔

اس وقت تحقیقی مضامین کی تعداد 800 تھی تو 2017ء میں یہ بارہ ہزار ہو چکی ہے اور اسی طرح اس وقت ملک میں محض 3110 پی ایچ ڈی تھے جبکہ اب ان کی تعداد 11960 ہو چکی ہے۔

ڈاکٹر مختار احمد اعلیٰ تعلیم کی یہ تصویر دکھاتے ہوئے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اعلیٰ تعلیم معاشرے پر جو اثرات مرتب کرتی ہے وہ اثرات نظر نہیں آ رہے۔اس تحقیق و تعلیم نے معاشرے میں کوئی بڑی تبدیلی بھی پیدا نہیں کی۔

وہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مستقبل میں زیادہ موثر کردار کی امید دلا رہے تھے۔ اس تقریب کا اہتمام گجرات یونیورسٹی کے پرعزم وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاالقیوم نے کیا تھا۔ گجرات یونیورسٹی پاکستان کی پانچ بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہے اور تحقیق و تعلیم میں اس کی کامیابیوں پر بلا شبہ رشک کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ضیا القیوم نے دانشوروں ، صحافیوں اور اہل علم کو کچھ اس انداز سے اکٹھا کیا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا، کنواں پیاسے کے پاس آ گیا ہے۔ صحافیوں اور دانشوروں کے سوالات کا ڈاکٹر مختار احمد نے بڑی ذہانت سے سامنا کیا اور اپنے جوابات سے انہوں نے یہ پیغام دیا کہ وہ ہائیرایجوکیشن کمیشن کے ذریعے معاشرے میں بڑی تبدیلی لانے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں